سائنسدانوں کے لیے معمہ بننے والی وہ مچھلیاں جو ایک لاکھ سال سے سیکس کے بغیر اپنی نسل بڑھا رہی ہیں
،تصویر کا ذریعہManfred Schartl
- مصنف, فلورینس کریگ
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
میکسیکو اور جنوبی ٹیکساس کے دریاؤں میں مچھلی کی ایک ایسی قسم پائی جاتی ہے جس کا بظاہر وجود ناممکن ہونا چاہیے۔
گرم اور ہلکے بہاؤ والے پانیوں میں مکمل طور پر مادہ مچھلیوں پر مشتمل جھنڈ اکثر تیرتا نظر آتا ہے۔ دریاؤں کے تیرنے کے دوران ان مادہ مچھلیوں کے چاندی جیسے چمکتے ہوئے پر ایک اور نسل کی نر مچھلیوں سے ٹکراتے ہیں۔
ٹکرانے کے اس سادے سے عمل کے دوران ہی یہ مادہ مچھلیاں اپنے لیے ایک ساتھی کا انتخاب کرتی ہیں۔ تاہم ارتقائی عمل کے ایک غیر معمولی واقعے کے طور پر، نر مچھلی کے جینز مادہ کے بچوں کے حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کرتے۔
یہ ایک حیاتیاتی عمل ہے جسے ’گائنو جینیسز‘ کہا جاتا ہے۔ اس عمل میں مادہ مچھلی نر کے نطفے کو صرف انڈے کی نشوونما کی شروعات کے لیے استعمال کرتی ہے۔ لیکن اس عمل کے دوران ہی مادہ فوراً نر کا ڈی این اے خارج کر دیتی ہے۔ یوں مادہ مچھلی صرف مادہ کو جنم دیتی ہے، اور پیدا ہونے والی ہر مادہ مچھلی ہو بہو اپنی ماں کی کلون ہوتی ہے۔
اس مچھلی کو 'ایمازون مولی' کہا جاتا ہے، جس کا نام عورتوں پر مشتمل یونانی دیومالائی جنگجو قبیلے کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ مچھلی تقریباً ایک صدی سے سائنسدانوں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے۔ ارتقائی نظریہ کے مطابق اے سیکشوئل (غیر جنسی رجحان) طریقے سے افزائش نسل کرنے والی انواع کو جلد ختم ہو جانا چاہیے، کیونکہ وقت کے ساتھ جنسی ملاپ نہ ہونے کے باعث نقصان دہ جینیاتی تبدیلیاں ایسی انواع کے جینوم میں جمع ہوتی رہتی ہیں۔
اس کے باوجود، صرف مادہ مچھلیوں پر مشتمل یہ نسل تقریباً ایک لاکھ سال سے زندہ ہے۔ روایتی سائنسی سوچ کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ یہ چھوٹی اور بظاہر معمولی سی مخلوق آج بھی نہ صرف موجود ہے بلکہ قائم و دائم ہے۔
تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب سائنس یا ارتقائی نظریہ یہ کہتا ہے کہ اس نوع کو معدوم ہو جانا چاہیے تھا تو پھر ایمازون مولی نے اتنی طویل مدت تک زندہ کیسے رہ کر دکھایا؟ نئی تحقیق اس معمے کو سلجھانے کی کوشش کر رہی ہے، اور سائنسدان اب اس نتیجے پر پہنچ رہے ہیں کہ اے سیکشوئل انواع شاید پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ دریافت اس دیرینہ تصور کو چیلنج کر رہی ہے کہ جنسی عمل کے بغیر زندگی کا تسلسل ممکن نہیں ہوتا۔
سیکس یا جنسی عمل کیوں اہم ہے؟
بغیر جنسی ملاپ ایمازون مولی کی بقا کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر سیکس یا جنسی ملاپ وجود کیوں رکھتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
جرمنی کی لُڈوِگ میکسمیلین یونیورسٹی سے منسلک کمپیوٹیشنل بائیولوجسٹ اور ایمیزون مولی پر نئی تحقیق کے شریک مصنف ایڈورڈ رائسمیئر کہتے ہیں کہ 'جنسی افزائش درحقیقت افزائشِ نسل کا ایک خاصا پیچیدہ اور غیر معمولی طریقہ ہے۔'
ایڈورڈ رائسمیئر کے مطابق جنسی عمل قائم کرنے کی کسی نہ کسی صورت میں ایک قیمت ہوتی ہے اور یہ مشکل ہوتا ہے۔ کسی جاندار کو نہ صرف جنسی عمل کے لیے ساتھی تلاش کرنا پڑتا ہے بلکہ اس کو حاصل کرنے کے لیے مقابلہ بھی کرنا پڑتا ہے۔ اور سیکس کے نتیجے میں نر اور مادہ اپنے اپنے ڈی این اے کا صرف آدھا حصہ ہی اگلی نسل کو منتقل کرتے ہیں۔ مزید یہ کہ افزائشِ نسل اکثر غیر مساوی بھی ہوتی ہے، جہاں بہت سی اقسام میں مادہ، نر کے مقابلے میں کہیں زیادہ توانائی صرف کرتی ہیں، چاہے وہ انڈے بنانا ہو، بچوں کو جنم دینا ہو یا اُن کی پرورش کرنا ہو۔
اس کے برعکس، اے سیکشوئل ری پروڈکشن یا افزائش کہیں زیادہ آسان اور فائدہ مند محسوس ہوتی ہے۔ نہ ساتھی تلاش کرنے کی ضرورت، نہ کسی سے مقابلہ کرنے کی، اور اپنے جینز کا مکمل 100 فیصد اگلی نسل کو منتقل کرنے کی سہولت بھی ہے۔ اس کے باوجود، زندگی کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو جنسی افزائش، یعنی مختلف افراد کے جینز کا ملاپ اور باہمی تبادلہ، ہی غالب طریقہ ہے۔
نیدرلینڈز کی یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کے ارتقائی حیاتیات دان ڈیو سپائیجر، جو جنسی افزائش کی ابتدا پر تحقیق کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ 'اگر آپ مجموعی طور پر دیکھیں تو تقریباً 99.9 فیصد زندگی جنسی عمل کے طریقے سے ہی افزائش پاتی ہے۔'
سپائیجر کے مطابق، اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ جنسی عمل جانداروں کو جینیاتی 'امکانات کے میدان' کو زیادہ مؤثر انداز میں دریافت کرنے کا موقع دیتا ہے۔
جنسی افزائش کے دوران، دو والدین کا ڈی این اے ری کومبینیشن نامی عمل کے ذریعے آپس میں مل کر دوبارہ ترتیب پاتا ہے، جس کے نتیجے میں ہر نئی نسل کو جینز کا ایک منفرد امتزاج ملتا ہے۔ یہ عمل کچھ یوں ہے جیسے تاش کے پتوں کو بار بار شفل کیا جائے، جہاں ہر نئی ترتیب ارتقا کے لیے ایک نیا زاویہ فراہم کرتی ہے جسے آزمایا جا سکتا ہے۔ اسی وجہ سے جنسی افزائش رکھنے والی اقسام میں جینیاتی تنوع زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ ہر فرد کے پاس جینز کا مختلف مجموعہ ہوتا ہے، اور یہ تنوع عموماً بقا کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جنسی عمل ایک اور اہم فائدہ بھی دیتا ہے یعنی تحفظ۔ اگر جینز کا یہ ملاپ نہ ہو تو جینیاتی نظام کو ایک خاموش مگر خطرناک مسئلے کا سامنا ہوتا ہے جسے مولرز ریچیٹ کہا جاتا ہے۔
سپائیجر وضاحت کرتے ہیں کہ جب ڈی این اے کی نقل تیار ہوتی ہے تو 'غلطیاں ہمیشہ ہوتی ہیں۔' مگر جنسی انواع میں یہ غلطیاں جینیاتی عمل کے دوران ختم یا کم ہو سکتی ہیں، لیکن اے سیکشوئل یا کلون بنانے والی انواع میں یہ غلطیاں نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ نقصان دہ تغیرات یک طرفہ گھومنے والے پہیے کی طرح جمع ہوتے جاتے ہیں، جو ہر 'کلک' (پیدائش) کے ساتھ جینوم کو مزید خراب کرتے ہیں، یہاں تک کہ پوری نوع کے معدوم ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
اس نظریے کے مطابق، اے سیکشوئل انواع کو مختصر عمر کا ہونا چاہیے اور وہ بالآخر جینیاتی بگاڑ کا شکار ہو کر ختم ہو جانی چاہییں۔
مگر حقیقت اس کے برعکس بھی نظر آتی ہے، ایمازون مولی جیسی کچھ انواع نہ صرف زندہ ہیں بلکہ کامیابی سے پھل پھول بھی رہی ہیں۔
سپائیجر کے خیال میں اس تضاد کی ایک وجہ نظریے کی غلط تشریح بھی ہو سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'مولرز ریچیٹ یہ نہیں کہتا کہ اگر آپ کے پاس جنسی عمل نہیں ہے تو آپ لازماً جینیاتی تباہی کا شکار ہو جائیں گے۔'
ان کے بقول، اسے ایک وسیع تر اصول کے طور پر سمجھنا زیادہ درست ہے، جو تمام زندگی پر لاگو ہوتا ہے۔ ہر حیاتیاتی نظام کو جینیاتی 'غلطیوں' کو سنبھالنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ درکار ہوتا ہے اور جنسی افزائش صرف ان میں سے ایک حکمتِ عملی ہے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو طویل عرصے تک زندہ رہنے والی اے سیکشوئل انواع دراصل ارتقائی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں کر رہیں، بلکہ ان کے متبادل حل تلاش کر رہی ہیں۔ سپائیجر کہتے ہیں کہ 'ہمیشہ ایسے طریقہ کار موجود ہوتے ہیں جو جینیاتی تغیرات کی شرح کو قابو میں رکھتے ہیں، چاہے ہم ابھی انھیں مکمل طور پر سمجھ نہ پائے ہوں۔'
،تصویر کا ذریعہAlamy
'ارتقائی سکینڈل'
اس معاملے میں ایمازون مولی نامی یہ مچھلی اکیلی نہیں ہے۔ حیوانات کی دنیا میں ایسی کئی اے سیکشوئل انواع موجود ہیں جو، سائنسی نظریات کے مطابق، اپنی متوقع مدت سے کہیں زیادہ عرصے تک زندہ رہی ہیں، جن میں جھاڑیوں میں رہنے والے حشرات سے لے کر جیلی نما جاندار تک شامل ہیں۔
یہ انواع اُن سنسنی خیز واقعات سے مختلف ہیں جنھیں عام طور پر 'پارتھینوجینیسیس' (کنوار پن سے پیدائش) کہا جاتا ہے، اور جن میں قید میں موجود سانپ یا شارک بغیر کسی ساتھی کے اپنی افزائشِ نسل کرتے ہیں۔ تاہم یہ طریقہ مستقل نہیں ہوتا اور جیسے ہی حالات سازگار ہوں، یہ جانور دوبارہ عام جنسی افزائش کے عمل کی طرف لوٹ آتے ہیں۔
اس کے برعکس، ایمازون مولی ایک ایسے خاص 'کلب' کا حصہ ہے جس میں صرف مادہ انواع شامل ہیں، اور جو نسل در نسل بغیر نر کے زندگی گزارتی ہیں۔ یہ طویل عرصے تک زندہ رہنے والی اے سیکشوئل انواع کس طرح مولرز ریچیٹ کے پیش گوئی کردہ انجام سے بچ نکلتی ہیں، یہ سائنس کی دنیا میں اب بھی بحث کا موضوع ہے۔
تاہم کچھ انواع لاکھوں برس تک جینیاتی طور پر صحتمند رہنے میں کامیاب رہی ہیں، بغیر اس کے کہ وہ کبھی جنسی افزائش کی طرف لوٹیں۔
اسی تناظر میں ایک اور حیرت انگیز جاندار سامنے آتا ہے یعنی بیڈیلوئڈ روٹیفر۔
برطانیہ کی یونیورسٹی آف پلائموتھ میں حیوانیات کی لیکچرار چیارا بوشیٹی کہتی ہیں کہ 'انھیں (سائنس کی دنیا میں) ایک ارتقائی سکینڈل کہا گیا ہے۔'
یہ جیلی جیسے ننھے جاندار ریت کے ایک ذرے جتنے ہوتے ہیں، مگر حیرت انگیز طور پر پیچیدہ ساخت رکھتے ہیں، جن میں ایک سر، نظامِ انہضام اور دو ننھی انگلیوں جیسے حصے شامل ہوتے ہیں۔ یہ دنیا بھر میں میٹھے پانیوں میں پائے جاتے ہیں اور ایسے جانداروں کے ایک چھوٹے گروہ کا حصہ ہیں جنھیں 'قدیم اے سیکشوئل انواع' کہا جاتا ہے، یعنی وہ جانور جو لاکھوں سال سے بغیر جنسی افزائش کے موجود ہیں۔ بیڈیلوئڈ روٹیفر کے معاملے میں تو یہ عرصہ کروڑوں سال پر محیط ہے، جس کے مقابلے میں ایمازون مولی کے تقریباً ایک لاکھ سال بہت کم معلوم ہوتے ہیں۔
بوشیٹی تسلیم کرتی ہیں کہ 'سچ پوچھیں تو ہمیں معلوم نہیں کہ یہ اتنے طویل عرصے تک زندہ رہنے میں کیسے کامیاب رہے۔'
تاہم کچھ اشارے ضرور موجود ہیں۔ ان میں سے ایک نہایت غیر معمولی صلاحیت یہ ہے کہ یہ اپنے ماحول سے ڈی این اے حاصل کر سکتے ہیں، ایک عمل جسے ہاریزینٹل جین منتقلی' (horizontal gene transfer) کہا جاتا ہے۔ عام جانوروں کے برعکس، جو صرف اپنے والدین سے جین حاصل کرتے ہیں، بیڈیلوئڈ روٹیفر مکمل طور پر غیر متعلقہ جانداروں سے جینیاتی مواد 'چُرا' لیتے ہیں، ایسا عمل جو عموماً بیکٹیریا جیسے سادہ جانداروں میں دیکھا جاتا ہے۔
لیکن بوشیٹی کے مطابق اصل حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 'ہاریزینٹلی حاصل کیے گئے جینز دراصل بقا کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔'
کچھ جینز خشک سالی میں زندہ رہنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، جبکہ دیگر بیماری پیدا کرنے والے جراثیم کے خلاف مزاحمت دیتے ہیں۔ بوشیٹی کے مطابق 'آپ انھیں خشک کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ پکا بھی سکتے ہیں'، وہ اِن کی حیرت انگیز برداشت کی صلاحیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جس کے تحت یہ جاندار خلائی سفر سے لے کر سائبیریا کے برفانی علاقوں میں 24,000 سال تک منجمد رہنے جیسے انتہائی حالات بھی برداشت کر سکتے ہیں۔
تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ آیا یہ 'ڈی این اے کی چوری' جنسی افزائش کے جینیاتی امتزاج کا کوئی مؤثر متبادل ثابت ہو رہی ہے یا نہیں۔
بوشیٹی کے مطابق 'شاید یہ کچھ حد تک جینیاتی تنوع پیدا کرتی ہے، مگر یہ ابھی واضح نہیں کہ منتقل ہونے والے جینز اے سیکشوئل زندگی میں کس حد تک مددگار ہیں۔'
ممکنہ طور پر، صرف یہی عمل پوری کہانی بیان نہیں کرتا۔ بوشیٹی کا خیال ہے کہ بیڈیلوئڈ روٹیفر شاید مختلف حیاتیاتی طریقوں کے 'امتزاج' پر انحصار کرتے ہیں تاکہ نقصان دہ جینیاتی تبدیلیوں سے بچ سکیں۔ اس کے باوجود، دہائیوں کی تحقیق کے بعد بھی یہ جاندار ارتقائی لحاظ سے ایک معمہ یا 'بلیک باکس' ہی بنے ہوئے ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے تک، ایمازون مولی کی طویل بقا کا راز بھی اسی طرح نامعلوم تھا۔ تاہم اب نئی تحقیق نے اس بات پر روشنی ڈالنا شروع کر دی ہے کہ یہ مچھلی آخر کس طرح یہ کارنامہ انجام دیتی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کاپی، پیسٹ سسٹم
ایک نئی سائنسی تحقیق نے تولیدی حیاتیات کے اس اہم معمے کو سلجھانے میں پیش رفت کی ہے۔ اس تحقیق کے شریک مصنف رائس مائر کہتے ہیں کہ 'اس نظریے میں ایک حصہ غائب تھا، اور وہ حصہ جین کنورژن تھا۔'
جین کنورژن دراصل جینیاتی ریپیئر یعنی مرمت کا ایک طریقہ ہے، اور یہ صرف ایمازون مولی مچھلی تک محدود نہیں بلکہ انسانوں سمیت کئی جانداروں میں پایا جاتا ہے۔
جنسی تولید کرنے والے جانداروں، جیسے انسانوں میں، ہر فرد کے پاس زیادہ تر جینز کی دو کاپیاں ہوتی ہیں، ایک ماں سے اور ایک باپ سے۔ جب ڈی این اے کو نقصان پہنچتا ہے، مثلاً الٹرا وائلٹ شعاعوں کی وجہ سے، تو خلیات بسا اوقات ایک جین کی کاپی کو دوسرے کی مرمت کے لیے بطور سانچہ استعمال کرتے ہیں۔ اس عمل کو جین کنورژن کہا جاتا ہے، جسے عام طور پر 'کاپی اینڈ پیسٹ' کے طریقہ کار سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ عمل دونوں جینیاتی کاپیوں کو ایک دوسرے سے زیادہ مشابہ بنا دیتا ہے۔
انسانوں اور دیگر بیشتر جانوروں میں یہ نظام پس منظر میں خاموشی سے ڈی این اے کی مرمت کرتا رہتا ہے۔ تاہم ایمازون مولی میں یہی عمل کہیں زیادہ نمایاں اور اہم کردار ادا کرتا دکھائی دیتا ہے۔
رائس مائر اور ان کی ٹیم نے مکمل جینوم سیکوینسنگ کے ذریعے مختلف نسلوں کی ایمازون مولی مچھلیوں کے ڈی این اے کا موازنہ کیا ہے۔ انھوں نے دیکھا کہ مچھلی کے ڈی این اے کے بعض حصے بار بار 'اوور رائٹ' ہو رہے ہیں، لیکن یہ عمل جنسی تولید کی طرح جینیاتی ملاپ سے نہیں بلکہ زیادہ فعال جین کنورژن کے ذریعے ہو رہا ہے۔
یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایمازون مولی میں جین کنورژن وہی کردار ادا کر رہا ہے جو انسانوں میں جنسی تولید انجام دیتی ہے، یعنی نقصان دہ تغیرات کے جمع ہونے کو روکنا۔
اس حیرت انگیز صلاحیت کو سمجھنے کے لیے اس نوع کی ابتدا پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔
تحقیق کے مطابق تقریباً ایک لاکھ سال قبل ایک مادہ اٹلانٹک مولی اور ایک نر سیلفن مولی کے درمیان ملاپ سے یہ نسل وجود میں آئی۔
عام طور پر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ایسے ہائبرڈ (جیسا کہ خچر وغیرہ) بانجھ ہوتے ہیں، مگر اس صورت میں ایسا نہیں ہوا۔ بلکہ ایک ایسی نسل بنی جو بغیر جنسی تولید کے بھی افزائش نسل کر سکتی ہے۔
یوں ہر ایمازون مولی کے اندر دو الگ اجدادی انواع کا جینیاتی مواد موجود ہے، جس نے ابتدا ہی سے اسے جینیاتی تنوع فراہم کیا، جو 'مولرز ریچیٹ'کے خلاف ایک مضبوط دفاع ثابت ہوا۔
یہ دوہری جینیاتی وراثت غالباً جین کنورژن کی اعلیٰ صلاحیت کی بنیادی وجہ ہے۔
چونکہ والدین کی انواع آپس میں قریبی تعلق رکھتی تھیں، اس لیے ان کے جین ایک جیسے افعال انجام دینے کے قابل تھے، مگر اتنے مختلف بھی تھے کہ ایک وسیع جینیاتی 'ٹیمپلیٹ' فراہم کر سکیں۔
تحقیق کا ایک اور حیران کن پہلو یہ ہے کہ جین کنورژن جینوم کے ہر حصے میں یکساں نہیں ہوتا۔
رائس مائر کے مطابق 'وہ تغیرات جنھیں ہم سب سے زیادہ نقصان دہ سمجھتے ہیں، جینوم کے وہی حصے ہیں جہاں ہم جین کنورژن کو سب سے زیادہ فعال دیکھتے ہیں۔'
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک لاکھ سال تک بغیر جنسی تولید کے رہنے کے باوجود یہ نوع جینیاتی طور پر حیرت انگیز حد تک صحت مند دکھائی دیتی ہے۔
یہ دریافت صرف ایمازون مولی تک محدود نہیں بلکہ انسانی حیاتیات کے لیے بھی اہم ہو سکتی ہے۔
جینیاتی غلطیوں یا نقصانات سے نمٹنے کے متبادل طریقوں کو سمجھنا مستقبل میں طب کے میدان میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ نقصان دہ تغیرات صرف بغیر جنسی تولید والے جانداروں تک محدود نہیں ہوتے۔
رائس مائر کہتے ہیں کہ 'کینسر بنیادی طور پر جینیاتی تغیرات کی بیماری ہے۔'
اگرچہ وہ اس تحقیق کے نتائج کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے گریز کرتے ہیں، لیکن ان کے مطابق جینیاتی تغیرات اور قدرتی دفاعی طریقہ کار کو سمجھنا طویل مدت میں فائدہ مند ہو گا۔
رائس مائر کا خیال ہے کہ جین کنورژن دیگر غیر جنسی تولید کرنے والی انواع میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور یہ کہ 'یہ کہانی کا حصہ بہت ممکن ہے دیگر جانداروں میں بھی موجود ہو۔'
یہ ابھی واضح نہیں کہ ایمازون مولی نے واقعی جنسی تولید کے بغیر ایک مکمل اور مستحکم متبادل نظام حاصل کر لیا ہے یا نہیں۔
سائنسدان اب بھی یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جین کنورژن کب تک 'مولرز ریچیٹ' کو روکے رکھ سکتا ہے۔
ایک ایسی مچھلی جس کے بارے میں کبھی ارتقائی نظریہ کہتا تھا کہ اس کا وجود ممکن نہیں، آج وہ جینیاتی طور پر مضبوط حالت میں سامنے آئی ہے۔
رائس مائر کے الفاظ میں 'ہم سمجھتے تھے کہ جینوم کو صحت مند رکھنے کا واحد طریقہ جنسی تولید ہے، لیکن اب ہمیں معلوم ہوا کہ ایسا نہیں، ایک اور راستہ بھی موجود ہے۔'
یہ دریافت حیاتیاتی ارتقا کے بارے میں ہمارے روایتی تصورات کو چیلنج کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ قدرت ایک ہی مقصد تک پہنچنے کے لیے مختلف راستے اختیار کر سکتی ہے۔
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے