اداکار، ہدایتکار کیفی کا سفرِ آخرت

اداکار ہدایت کار کیفی
،تصویر کا کیپشنمشہور پنجابی فلم مولا جٹ میں اداکار کیفی بالا گاڈی کے روپ میں جلوہ ہوئے اور ان کا یہ کردار بہت پسند کیا گیا
    • مصنف, عارف وقار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پنجابی فلموں کے معروف ہیرو اور ہدایتکار کیفی کا تیرہ مارچ کو لاہور میں انتقال ہوگیا، پس ماندگان میں ایک بیٹی اور چار بیٹے ہیں۔

کیفی کو فلموں میں آمد کے لئے کسی طرح کی جدو جہد کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا کیونکہ اُن کے بڑے بھائی عوامی تھیٹر کے مقبول اداکار اور لوک گائیکی کے بادشاہ عنایت حسین بھٹی تھے۔ مشقت اور تگ و دو کا تمام تر فریضہ بڑے بھائی نے انجام دیا اور دیہات کے میلوں ٹھیلوں میں برسوں تک کمایا ہوا پیسہ فلم پروڈکشن پر لگا دیا۔

1964 میں جب عنایت حسین بھٹی نے فلم وارث شاہ پروڈیوس کی تو وہ اداکار کے طور پر فلمی دنیا کے لئے نئے نہیں تھے اور 1955 میں سورن لتا اور نذیر کے ساتھ فلم ہیر میں جلوہ افروز ہوچُکے تھے، لیکن اُن کے سامنے فلم پروڈکشن کا وسیع میدان تھا اور وہ اسے ایک بھرپور کاروبار کے طور پر چلانا چاہتے تھے۔

وارث شاہ بنانے کے چار برس بعد، جب اُن کا چھوٹا بھائی جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ رہا تھا، انھوں نے فلم سجن پیارا پروڈیوس کی جس میں عنایت بھٹی، رانی اور سلونی کے ساتھ ان کا بھائی بھی کیفی کے فلمی نام کے ساتھ نمودار ہوا اور یوں نوجوان کے اُس فلمی کیرئر کا آغاز ہوا جو اگلے 25 برس تک انتہائی کامیابی سے چلتا رہا۔

فلم سجن بے پرواہ کا پوسٹر
،تصویر کا کیپشنکیفی سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوا لیکن ہر طرح کی کامیابی کے بعد بھی محنت اور مشقت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا

پنجابی فلموں میں یہ سخت مقابلے کا دور تھا۔ ایک طرف اداکاروں میں فردوس اور اکمل کی جوڑی کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی تھی تو ساتھ ساتھ سکرپٹ نگاری کے میدان میں حزیں قادری اور ہدایتکاری کی دنیا میں ایم جے رانا، ایم اے رشید، شباب کیرانوی، وحید ڈار اور حیدر چوہدری کا طوطی بول رہا تھا۔ لیکن عنایت حسین بھٹی نے چھوٹے بھائی کی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے فلم سجن پیارا کی ہدایتکاری اس کے سپرد کر دی۔

یہ فلم ایسی ہٹ ہوئی کہ کیفی کے لئے نہ صرف بطور اداکار بلکہ ایک ہدایتکار کے طور پر بھی کامیابی کے راستے کھُل گئے۔ اُنیس سو ستّر کے عشرے میں بھٹی پروڈکشن کے بینر تلے 48 فلمیں پروڈیوس ہوئیں جن میں کیفی نے اداکاری اور ہدایتکاری کے جوہر دکھائے۔

دس برس کا یہ عرصہ یقیناً کیفی کی زندگی کا سنہری دور تھا، اسی زمانے میں کیفی نے سندھی اداکارہ چکوری سے شادی بھی کی اور علیحدگی بھی اختیار کر لی۔ کیفی کی دوسری شادی اداکارہ غزالہ سے ہوئی جو کہ اُن کے ساتھ کئی فلموں میں نمودار ہو چُکی تھی اور کیفی کے زیرِ ہدایات کام بھی کر چُکی تھی۔

فلم رائٹر حفیظ احمد
،تصویر کا کیپشنکیفی نے فلمی سکرپٹ نگاری کی دنیا میں حفیظ احمد جیسے رائیٹرر کا اضافہ کیا

دس سال کے اس سنہری دور میں دو اہم واقعات ہوئے، ایک تو فلم وحشی کی پروڈکشن جو کہ بھٹی برادران کے فلمی کیرئر کی واحد اُردو فلم تھی۔ اور دوسرا بڑا واقعہ میگا ہٹ فلم ظلم دا بدلہ کی نمائش تھی۔

اس فلم کا سکرپٹ کیفی نے فیصل آباد کے ایک ترقی پسند نوجوان سے لکھوایا اور یوں حفیظ احمد کو فلی دنیا میں متعارف کرایا۔

انیس سو اسی سے نوّے کے دوران بھٹی برادران کی فلم سازی دھیمی پڑگئی اور نئے نئے موضوعات آزمانے کی بجائے وہ گزشتہ دہائی کی کامیابیوں ہی کی جگالی کرتے رہے، چنانچہ پہلے دور میں جہاں ہمیں سجن پیارا، دنیا مطلب دی، سجن بیلی، سچا سودا، سجن دشمن اور ظلم دا بدلہ جیسی ہٹ فلمیں نظر آتی ہیں وہاں دورِ ثانی میں محض بدمعاشی بند، اتھرا تے جی دار، ضِدی ویر، بالا گاہدی اور قصائی پُتر جیسی کام چلاؤ فلمیں نظر آتی ہیں۔

1990 کے بعد بھٹی برادران کا ستارہ غروب ہوگیا اور اسکے چند برس بعد پاکستان کی فلم انڈسٹری کے افق پر مکمل اندھیرا چھا گیا، لیکن کیفی اور اُن کے فلم ساز ادارے کو ایک اعزاز ضرور حاصل رہا کہ انھوں نے فلم انڈسٹری کے دورِ سلطانی میں اپنا کاروبار شروع کیا تھا۔ یعنی اس دور میں جب سلطان راہی کے بغیر کسی فلم کا تصوّر ممکن نہیں تھا، لیکن بھٹی برادران نے سلطان راہی کا سہارا لئے بغیر عوام کو ایک متبادِل ٹیم کے ذریعے تفریح مہیا کی اور بیس برس تک سلطانی فلموں سے کڑا مقابلہ کیا۔