’فن کی قیمت، شوہر کی جان اور گمنامی‘

افغان اداکارہ پروین مشتل کو ایک اداکارہ ہونے کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑی ہے۔ فن سے پروین مشتل کی لگن نے نہ صرف ان کے شوہر کی جان لے لی بلکہ انہیں بچوں سمیت چھپ کر رہنے پر مجبور کر دیا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پروین کا کیرئیر کا انتخاب طالبان اور ان کے حمایتیوں کو پسند نہیں آیا۔ انہیں نہ صرف دھمکی آمیز فون کالز موصول ہوئیں بلکہ لوگوں کے ہتک آمیز جملوں نے ان کا گھر سے باہر نکلنا دو بھر کر دیا ۔یہ لوگ ان سے اداکاری چھوڑنے کا مطالبہ کرتے تھے۔
پروین نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ ان کی جان سے ان دھمکیوں کو مسلسل نظر انداز کرنے کے نتیجے میں ہی ان کے شوہر کو اپنی جان سےہاتھ دھونے پڑے اور گذشتہ دسمبر کی ایک سرد رات کابل میں وہ نا معلوم افراد کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔
تب سے اب تک ان کی زندگی یکسر بدل چکی ہے۔
پروین کا اداکاری کا شوق ان کے ہائی سکول کے دنوں سے شروع ہوا۔ انہوں نے بیس سے زیادہ تھیٹر ڈراموں اور درجنوں فلموں میں کام کیا۔ وہ بے شمار اشتہارات میں بھی کام کر چکی ہیں اور آج کل بھی ان کی ٹی وی سیریز ’بلبل‘ افغان ٹی وی پر دکھائی جا رہی ہے۔
شیکسپئیر کا کھیل ’لو، لیبر، لوسٹ‘ جسے دری زبان میں ٹیلی کاسٹ کیا گیا اور سوئیرز جو ان کی مشترکہ تخلیق ہے دونوں کارکردگی کے لحاظ سے پروین کے بہترین ڈراموں میں شمار ہوتے ہیں۔ یہ دونوں کھیل کابل کے ادارہ برائے ثقافت اور سول سوسائٹی کے اشتراک سے بنائےگئے تھے۔
اس کے باوجود کہ مشتل فن کی دنیا میں معروف تھیں ، انہیں اپنا کیریئر اپنے سسرال والوں سے چھپانا پڑا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں عمومی طور پر اداکاری کو غیر اخلاقی سمجھا جاتا ہے۔وہ خواتین جو اداکاری کے شعبے کا انتخاب کرتی ہیں ان پر آسانی سے طوائف ہونے کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ جب پروین کے سسرال والے ان کے گھر کابل آتے تو وہ ٹی وی بند رکھا کرتیں کیونکہ ہر وقت ان کا کوئی نہ کوئی اشتہار ٹی وی پر چل رہا ہوتا تھا۔
لیکن جیسے جیسے ان کی شہرت بڑھتی گئی ان کو ملنے والی دھمکیوں میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ پروین نے بی بی سی ورلڈ سروس کے پروگرام آؤٹ لُک میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک روز وہ اپنے گھر کی جانب جا رہی تھیں کہ موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص نے انہیں ٹکر ماری جس سے انہیں شدید چوٹ آئی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ ان کے شوہر کو ایسی ٹیلیفون کالز آنے لگیں کہ وہ پروین کو اداکاری کرنے سے منع کیوں نہیں کر رہے۔ فون کالز پر ان کے خاوند کو گھر سے باہر آنے کو بھی کہا جاتا۔ ایک دن ایسی ہی ایک فون کال پر ان کے شوہر باہر گئے اور پھر واپس نہیں آئے۔اگلی صبح پولیس نے انہیں اطلاع دی کہ ان کے شوہر کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ پروین کا کہنا تھا کہ وہ اب تک اپنے دو بچوں کے ساتھ چھپ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ کابل اور دوسرے شہروں میں ورکنگ وومن کے درمیان طالبان کی موجودگی پر بے چینی پائی جاتی ہے جو خواتین کے گھر سے باہر نکلنے اور کام کرنے کو شدید ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہیں۔






















