’مائیکل کے جسم میں مہلک دوا‘

امریکی میڈیا کے مطابق جس وقت پوپ موسیقی کے بادشاہ مائیکل جیکسن کا انتقال ہوا انہوں نے مہلک حد تک بے ہوشی طاری کرنے والی ایک دوا استعمال کی ہوئی تھی۔نئی اطلاعات ہوسٹن میں ڈاکٹر مرے کی تلاشی کے ایک وارنٹ کے منظرِ عام پر آنے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اس وارنٹ کو ابتدا میں سر بمہر کر دیا گیا تھا۔
مائیکل جیکسن پچیس جون کو پچاس برس کی عمر میں لاس انجیلیز میں اپنے گھر میں اچانک موت کی آغوش میں چلے گئے تھے۔
پولیس نے ان کے ڈاکٹر کانریڈ مرے سے دو مرتبہ مائیکل جیکسن کی موت کے بارے میں گفتگو کی ہے لیکن انہیں مشتبہ قرار نہیں دیا گیا۔
میڈیا اطلاعات کے مطابق مائیکل جیکسن کے جسم میں جس دوا کے اثرات ملے ہیں اسے عام طور پر ہسپتالوں میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن زیادہ مقدار میں اس کا استعمال ہلاکت خیز بن جاتا ہے۔
تلاشی کے ایک وارنٹ کے بعد ڈاکٹر مرے نے پولیس کو بتایا تھا کہ وہ مائیکل جیکسن کو بے خوابی کے علاج کے ذیل میں ایک دوائی دے رہے تھے۔ لیکن ڈاکٹر مرے کے مطابق انہیں یہ تشویش لاحق ہو گئی تھی کہ مائیکل جیکسن اس دوا کے عادی ہو رہے تھے چنانچہ انہوں نے (ڈاکٹر مرے نے) اس دوا کی مقدار کم کر دی تھی۔
جس روز مائیکل جیکسن کی موت واقع ہوئی اس صبح مبینہ طور پر ڈاکٹر مرے نے انہیں ہلکی مقدار میں دوا دی تھی کیونکہ دیگر ادویات کام نہیں کر رہی تھیں۔


















