انڈیا کے انتخابات میں سولہ اپریل سے تیرہ مئی تک پانچ مرحلوں میں ووٹنگ ہو گی۔ نتائج کا اعلان سنیچر سولہ مئی کو ہو گا۔ یہ جاننے کے لیے کہ کون سی ریاست میں کب ووٹنگ ہو گی نیچے دیئے گئے بٹنوں کو کلک کریں۔
![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() ![]() |
نشستیں: 80
آبادی: 166 ملین
ماضی میں کانگریس پارٹی کا مضبوط قلعہ سمجھی جانے والی انڈیا کی آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی اس ریاست پر اب ذات پات پر یقین رکھنے والی دو بڑی جماعتوں کا غلبہ ہے۔ ان میں دلتوں کی رہنما مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) اور ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی (ایس پی) شامل ہیں۔ ایس پی کو نچلی ذات کے ہندؤوں اور مسلمانوں کی حمایت حاصل ہے۔ سنہ دو ہزار چار کے انتخابات میں اِن دونوں پارٹیوں نے مجموعی طور پر 54 نشتیس حاصل کی تھیں جبکہ کانگریس پارٹی اور بی جے پی نے مجموعی طور پر انیس نشتوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
انڈیا کا دِل سمجھی جانے والی ریاست اتر پردیش کے بڑے مسائل میں شدید غربت، بڑھتے ہوئے جرائم، ذرائع آمد ورفت کی دگرگوں حالت اور صحت کی سہولتوں کا فقدان جیسے مسائل شامل ہیں۔
مایاوتی کی کوشش ہے کہ وہ خود کو ایک قومی لیڈر کے طور پر منوا سکیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ووٹوں کی گنتی کے بعد شروع ہونے والی جوڑ توڑ میں وہ اہم کردار ادا کریں گی۔ یہ بھی ممکن ہے وہ کمیونسٹ اور بائیں بازو کی دیگر پارٹیوں کے اتحاد کی نمائندہ لیڈر بن کر انڈیا کی وزیر اعظم بن جائیں۔
مایاوتی کی کوشش ہے کہ وہ خود کو ایک قومی لیڈر کے طور پر منوا سکیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ووٹوں کی گنتی کے بعد شروع ہونے والی جوڑ توڑ میں وہ اہم کردار ادا کریں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کمیونسٹ اور بائیں بازو کی دیگر پارٹیوں کے اتحاد کی نمائندہ لیڈر بن کر انڈیا کی وزیر اعظم بن جائیں۔
نشتیں: 40
آبادی: 82 ملین
بہار کو انڈیا کی غریب ترین ریاستوں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں لاقانونیت کا دور دورہ ہے۔
ریاست بہار کی سیاست پر دو علاقائی پارٹیوں، یعنی راشٹریا جنتا دل (آر جے ڈی) اور جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کو غلبہ حاصل ہے۔ دونوں ہی پارٹیوں کو ملک کی بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ آر جے ڈی کو کانگریس کی حمایت ہے جبکہ جے ڈی یو کو بی جے پی کی۔
یہاں سے سنہ دو ہزار چار کے انتخابات میں بہار کے مشہور زمانہ لیڈر لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی نے نصف سے زیادہ نشتوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ جے ڈی یو کو صرف چھ نشتیں ملی تھیں۔ اس کے بعد لالو پرساد کانگریس حکومت میں ریلوے کے وزیر بن گئے۔ لالو پرساد کو ہی انڈیا کے بیمار ریلوے نیٹ ورک کو درست کرنے کا اعزاز دیا جاتا رہا ہے۔
لیکن حالات سنہ دو ہزار جیسے نہیں رہے کیونکہ سنہ دو ہزار پانچ کے ریاستی انتخابات میں جے ڈی پی اور بی جے پی نے یہاں زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔ ان انتخابات میں جے ڈی پی کے رہنما نتیش کمار نے آر جے ڈی کی حکومت سے عوام کی بیزاری اور ریاست میں امن عامہ کی مسلسل بگڑتی ہوئی صورتحال جیسے مسائل کو اپنی مہم میں خوب استعمال کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آر جے ڈی اور کانگریس کے اتحاد کے مقابلے میں جے ڈی یو اور بی جے پی کے انتخابی اتحاد کے جیتنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
بہار کو انڈیا کی دیگر ریاستوں کے برابر ہونا ہے۔ اسی لیے ان انتخابات میں عوام کے مطالبات میں زیادہ ملازمتیں، ترقی، ذرائع آمد ورفت میں بہتری اور امن عامہ کی بہتری جیسے مسائل شامل ہیں۔
سیٹیں: 39
آبادی: 62 ملین
تمل ناڈو کا شمار معاشی اعتبار سے انڈیا کی سب سے ترقی یافتہ لیکن سیاسی لحظ سے سب سے زیادہ غیر مستحکم ریاستوں میں ہوتا ہے۔ اپنی مشہور کاریں بنانے کی فیکٹریوں کی وجہ سے انڈیا کا ڈیٹرائٹ کہلانے والی اس ریاست میں سروس سیکٹر بھی مضبوط ہے اور یہاں کی فلم انڈسٹری بھی کسی سے کم نہیں۔
اصل مقابلہ انڈیا کی دو مضبوط ترین علاقائی جماعتوں، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، کے درمیان ہوگا۔ انیس سو ساٹھ کے بعد سے علاقائی جماعتوں کو تمل قوم پرستی اور نچلی ذات کے ہندؤوں کی امنگوں کی ترجمانی کی وجہ سے زیادہ شہرت ملی ہے۔
موجودہ ریاستی حکومت ڈی ایم کے پاس ہے جس کے سربراہ ایم کروناندھی ایک منجھے ہوئے سکرپٹ رائٹر ہیں۔ ان کے مقابلے پر اے آئی اے ڈی ایم کے، کی جے للیتا ہیں جو کہ خود ماضی میں اداکارہ تھیں۔ ان دونوں پارٹیوں کی لیڈرشپ اتنی مشہور شخصیات کے ہاتھ میں ہونے کی وجہ سے گزشتہ تین دہائیوں میں کوئی بھی قومی جماعت تمل ناڈو میں خاطر خواہ مقبولیت حاصل نہیں کر سکی ہے۔
دو ہزار چار کے انتخابات میں ڈی ایم کے نے ہر نشست پر اپنے مخالفین کو زبردست شکست سے دوچار کیا، تاہم تمل ناڈو کو ایک ایسی ریاست سمجھا جاتا ہے جو آخری گنتی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تمل ناڈو میں جو بھی جماعت کامیاب ہوتی ہے وہ انڈیا کی آئندہ مخلوط حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرے گی۔
نشستیں: 42
آبادی: 75 ملین
آندھرا پردیش انتہا درجے کی خوشحالی کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہاں بڑے بڑے زرعی فارم ہیں اور تیزی سے بڑھتی ہوئی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت اور بہت بڑا سروس سیکٹر ہے، لیکن ان کے ساتھ ساتھ شدید غربت بھی ہے۔ ریاست کو اپنے سب سے زیادہ غریب علاقے تلنگانہ میں ایک علیحدگی پسند تحریک کا بھی سامنا ہے۔
یہاں پر قومی اور ریاستی دونوں انتخابات ہو رہے ہیں اور اصل مقابلہ حکمران کانگریس پارٹی اور حزب مخالف کے مرکزی اتحاد کے درمیان ہے۔ اس اتحاد کی رہنمائی تلیگو دیسم پارٹی کے پاس ہے جسے کمیونسٹوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔
انیس سو اسی کی دہائی میں ٹی ڈی پی کے منطر پر آنے سے پہلے آندھرا پردیش کانگریس کا مضبوط قلعہ رہی ہے۔ دو ہزار چار کے انتخابات میں کانگریس کی رہنمائی میں انتخاب لڑنے والے ایک اتحاد نے آندھرا پردیش میں زبردست کامیابی حاصل کی تھی جب اسے سینتیس نشستیں ملی تھیں۔ اس سے پانچ سال پہلے ٹی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان ہونے والے اتحاد نے چھتیس نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
اس مرتبہ کانگریس سستے چاولوں، کسانوں کے لیے مفت بجلی، غریب گھرانوں کے لیے مفت صحت کی سہولتوں اور عورتوں کے لیے سستے قرضوں جیسی سکیموں پر انحصار کر رہی ہے۔
دوسری جانب ٹی ڈی پی کے رہنما چندرا بابو نائڈو، جنہیں معاشی اصلاحات کا گرو مانا جاتا ہے، مفت بجلی، ٹی وی اور بیروزگاری الاؤنس کے وعدے کر رہے ہیں۔
نشتیں: 21
آبادی: 37 ملین
یہاں پر قومی اور ریاستی دونوں انتخابات میں اصل مقابلہ تین فریقوں کے درمیان ہے۔ یہ فریق مارچ میں بیجو جنتا دل اور بی جے پی کی علیحدگی کے بعد سامنے آئے ہیں۔
اب یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف انتخاب لڑیں گے اور دوسری جانب انہیں کانگریس کا سامنا ہے جو کہ اس وقت ریاست میں حزب اختلاف میں ہے۔
بی جے پی کو امید ہے کہ وہ حال ہی میں متعارف کرائی جانے والی اصلاحات سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ان اصلاحات میں غریبوں کے لیے سستے چاول، سرکاری ملازمین کے لیے بہتر تنخواہیں اور عمر رسیدہ لوگوں کے لیے بہتر پنشن جیسی ترغیبات شامل ہیں۔
کانگریس کا کہنا ہے کہ اس کا انتخابی نعرہ بدعنوانی کا خاتمہ ہوگا۔ جبکہ بی جے پی کے مطابق ریاست میں امن عامہ کی بگڑتی ہوئی صورتحال اس کی مہم کا مرکزی خیال ہوگا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ریاست میں ایک ہنگ پارلیمنٹ یا معلق اسمبلی وجود میں آئے گی۔ اگرچہ کانگریس کو بی جے ڈی اور بی جے پی کی علیحدگی سے فائدہ ہونا چاہیے لیکن لگتا یہ ہے کہ کانگریس بھی واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکے گی۔
معلق اسمبلی اوڑیسہ کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہوگی کیوں کہ یہاں انیس سو پچاس سے معلق اسمبلیاں ہی وجود میں آتی رہی ہیں۔
نشتیں: 48
آبادی: 96 ملین
نومبر میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد سکیورٹی اس ریاست کا اہم ترین مسئلہ بن گیا ہے۔
ممبئی حملوں کے سلسے میں مبینہ ناکامی کے الزام کے پیش نظر کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر اعلیٰ اور ان کے نائب دونوں کو استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ اب کانگریس نے انتخابات سے پہلے شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی سے اتحاد کر لیا ہے۔
دائیں بازو کی جماعت شوسینا پارٹی کے سربراہ بال ٹھاکرے بیمار رہے اور انتخابی مہم میں بھی کم ہی نظر آئے۔ اس دوران ان کے بھتیجے راج ٹھاکرے نے دوسرے دائیں بازو کے قوم پرستوں کے ساتھ مل کر ایک نئی جماعت بنا لی ہے۔ لیکن لگتا ہے کہ وہ قومی سطح پر اثر انداز نہیں ہو سکے گی۔
توقع ہے کہ بی جے پی سکیورٹی اور مالی مجبوریوں کے باعث خود کشی کرنے والے کسانوں سے متعلق ایشوز کو اپنی مہم میں استعمال کرے گی۔
ان مسائل کے علاوہ ریاست میں بجلی کی شدید قلت ووٹروں کی نظر میں بہت بڑا مسئلہ ہے۔
نشستیں: 42
آبادی: 80 ملین
گزشتہ تین دہائیوں سے ریاست میں بائیں بازو کی مخلوط حکومت رہی ہے۔ دو ہزار چار کے انتخابات میں بائیں بازو کی جماعتوں کو پینتیس نشتیں ملیں، کانگریس نے چھ پر کامیابی حاصل کی جبکہ ترینامل کانگریس کو محض ایک نشت ملی تھی۔
لیکن حزب اختلاف کی جماعتیں بھی خاصی پرجوش ہیں اور انہیں امید ہے کہ انہیں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوگی۔
لیکن اب لگتا ہے کہ بائیں بازو کو مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ غریب دیہاتی جو وزیر اعلیٰ کے حامی تھے اب ان کے خلاف ہوگئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ اپنے اس منصوبے پر قائم ہیں کہ وہ بڑے صنعتی منصوبوں کے لیے زرعی زمینیں استعمال کریں گے۔
اس دوران حزب مخالف، اور خاص طور پر ترینامل کانگریس چھوٹے کسانوں کے حق میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں بھی پیش پیش ہے۔
لیکن وزیر اعلیٰ مسٹر بدھا دیو بھٹاچاریہ کا اصرار ہے کہ مغربی بنگال کو تیزی سے صنعتیں قائم کرنی چاہئیں تا کہ بیروزگار مردوں اور خواتین کو ملازمتیں دی جا سکیں۔
سیاسی تجزیہ کار باسو رے چوھدری کہتے ہیں ' تین دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے بعد بائیں بازو کی جماعتیں اپنا اثر و رسوخ کھو رہی ہیں۔
نشستیں: 26
آبادی: 51 ملین
دو ہزار سات کے انتخابات میں یہاں کانگریس نے بہت کوشش کی تھی لیکن اسے پھر بھی بی جے پی کے ہاتھوں شکست ہوگئی تھی جس کے نتیجے میں متنازعہ لیڈر نریندر مودی مسلسل تیسری مرتبہ وزیر اعلیٰ بن گئے تھے۔
دو ہزار دو میں نریندر مودی ہندو قومیت کے نعرے پر منتخب ہوئے تھے جبکہ انتخابات سے پہلے گجرات میں تقریباً ایک ہزار مسلمانوں کا قتل عام ہو چکا تھا۔ دو ہزار سات میں انہوں نے ہندو قومیت کے نعرے میں نرمی پیدا کر لی اور اپنے دور میں ہونے والی ریکارڈ معاشی ترقی کو اپنی انتخابی مہم میں سامنے رکھا۔
فروری میں نریندر مودی نے ایک مسلمان افسر کو ریاست کی پولیس کا سربراہ مقرر کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ اقدام خود کو سیکولر ثابت کرنے کے لیے کیا ہے۔ لیکن اس سال ستائیس مارچ کو مسلم کش فسادات کے الزام میں ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیر تعلیم گی گرفتاری کے بعد نریندر مودی کی پارٹی کو خاصی خفت اٹھانا پڑی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی کے رہنما ایل کے ایڈوانی کے بڑھاپے کے پیش نظر مسٹر مودی پارٹی کے نئے سربراہ کے طور پر منتخب ہو سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کو یہ توقع بھی ہے کہ مسٹر مودی گجرات کے علاوہ باقی ریاستوں میں بھی انتخابی مہم میں کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔
نشستیں: 20
آبادی: 32 ملین
سب سے زیادہ شرح خواندگی والی اس ریاست پر کمیونسٹوں کا غلبہ ہے۔ اس ریاست کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی مسلمان ہے۔ دو ہزار چار کے انتخابات میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ایف ڈی) کے اتحاد نے بیس میں سے انیس نشتوں پر کامیابی حاصل کی جبکہ کانگریس پارٹی کی سربراہی میں شامل اتحادی پارٹیوں کو صرف ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔
کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یا سی پی آئی (ایم) کے بعض روایتی اتحادی چیف منسٹر وی ایس اچوتانندن کے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے لیڈر عبدالنصیر مدنی کے ساتھ تعلقات پر ناخوش ہیں۔ سی پی آئی میں اس رنجش کے باعث اس مرتبہ انتخابات میں ان کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔
مسٹر مدنی کو 1998 میں تمل ناڈو میں الیکشن ریلی کے دوران ہونے والے دھماکے کے بعد گرفتار کر لیا گیا تھا۔ دو ہزار سات میں انہیں ان الزامات سے بری کر دیا گیا تھا لیکن لوگ اب تک اس بات کو بھولے نہیں۔
اپنے سابقہ اتحادی جنتا دل پارٹی کے ساتھ تعلقات میں کھنچاؤ بھی انتخابات میں سی پی آئی کی کارکردگی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
کانگریس پارٹی اس مرتبہ کیرالا میں کافی گرم جوشی کا مظاہرہ کر رہی ہے اور انتخابی مہم کے لیے راہول گاندھی کو وہاں بھیج رہی ہے۔ کانگریس اقوام متحدہ کے سابق انڈر سکریٹری جنرل ششی تھرور کو ریاست میں اپنے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سولہ اپریل: آندھرا پردیش، ارونا چل پردیش، آسام، بہار، جموں و کشمیر، کیرالا، مہاراشٹرا، منی پور، میگھا لایا، میزورام، ناگا لینڈ، اڑیسہ، اترپردیش، چھتیس گڑھ، جھار کھنڈ، اینڈیمان، نکوبار آئی لینڈز، لکشوادیپ
کل حلقے: 124
بائیس اپریل: منی پور
تئیس اپریل: آندھرا پردیش، آسام، بہار، گوا، جموں و کشمیر، کراٹکا، مدھیہ پردیش، مہاراشٹرا، اڑیسہ، تری پورہ، اتر پردیش، جھارکھنڈ
کل حلقے: 141
تیس اپریل: بہار، کرناٹکا، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، مغربی بنگال، جموں و کشمیر، گجرات، سکم، دادر اور نگر حویلی، دامن اور دیو
کل حلقے: 107
سات مئی: بہار، ہریانہ، جموں و کشمیر، پنجاب، راجستھان، اتر پردیش، مغربی بنگال، دلی
کل حلقے: 85
تیرہ مئی: ہماچل پردیش، جموں و کشمیر، پنجاب، تمل ناڈو، مغربی بنگال، اتراکھنڈ، چندی گڑھ، پونڈی چری، اتر پردیش
کل حلقے: 86
BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔