الیکشن ٹرین ڈائری

    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بھونیشور
  • وقت اشاعت

فورینرر عزت زیادہ دیتے ہیں

بی بی سی ٹرین کینٹین
،تصویر کا کیپشنبی بی سی ٹرین کے عملے کا کہنا ہے کہ بیرونی لوگ انہیں عزت دیے ہیں۔

بی بی سی کی الیکشن سپیشل ٹرین پر دو باتیں سیکھیں۔ اگر ریل کا سفر کرنا ہے تو ٹرین اپنی ہی ہونی چاہیے اور اگر فورینر ( غیرملکی) ساتھ میں سفر کر رہے ہوں تو 'ساری' اور 'تھینک یو' کا استعمال کثرت سے کرنا چاہیے۔

حیدرآباد سے بھبنیشور کا راستہ چوبیس گھنٹے میں طے ہوا۔ وقت گزارنے کے لیے میں پینٹری کار میں ان لڑکوں سے بات کر رہا تھا جو بہت خلوص دل سے ہماری ہر ضرورت کا خیال رکھتے ہیں۔ میں نے پوچھا کیسا گزر رہا ہے ٹرین پر وقت۔

جواب ملا کہ انوکھا تجربہ ہے۔ ہمیں شاید دوبارہ کبھی اتنا ہندوستان دیکھنے کا موقع نہ ملے۔ یا تو اتنے پیسے نہیں ہوں گے یا وقت۔ لیکن ایک بات ہے، فورینر بہت اچھے ہیں، تہذیب سے بات کرتے ہیں، بات بات پر تھینک یو کہتے ہیں، اتنی عزت ہمیں ہندوستانیوں سے کبھی نہیں ملتی! س وقت سے میں اپنی قومیت/شہریت؟ چھپاتا پھر رہا ہوں!

بی بی سی کے مداح

اڑیسہ کے ڈی جی
،تصویر کا کیپشنآڑیسہ کے ڈی جی بی بی سی کے مداح ہیں۔

اڑیسہ میں ہندی بولنے والے بھی مشکل سے ہی نظر آتے ہیں۔لہذا جب ریاست میں ماؤ نواز باغیوں کے بڑھتے ہوئے اثر کے بارے میں بات کرنے کے لیے میں نے ڈائریکٹر جنرل پولیس کو فون ملایا تو یہ بات بعید از قیاس ہی تھی کہ وہ بی بی سی ریڈیو کے پرانے مداح نکلیں گے۔

ڈی جی منموہن پراہ راج نے مجھے فوراً اپنے دفتر بلایا، ہندوستان اور پاکستان کے تعلقات سے لے کر قدیم زبانوں کی تاریخ تک، ہر موضوع پر گفتگو کی( یا یوں کہیے کہ انہوں نے گفتگو کی اور میں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا رہا کہ ان کی تمام باتیں میری سمجھ میں آرہی ہیں) دو تین پیالی کافی اور ایک بڑا گلاس لسی کا پلایا اور اس دوران بی بی سی کی انگریزی اور اردو سروس سے تقریباً تیس پینتیس سال کی محبت کی داستان سنائی۔

من موہن پراہ راج ایک انتہائی قابل انسان ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بی بی سی کی اردو سروس کا بھی اس میں کوئی رول ہو! لیکن اگر ایسا ہوتا تو ہم بھی تو۔۔۔

قبائلی بھی بدل رہے ہیں

اڑیسہ کے دارالحکومت بھونیشور سے صرف پندر منٹ کی مسافت کے بعد ہی جنگلات شروع ہو جاتے ہیں۔ یہاں قریب میں ہی ایک ہاتھی ریزرو بھی ہے جس میں کچھ قبائلی صدیوں سے آباد ہیں۔ میں اس گاؤں میں پہنچا تو جیسا سوچا تھا اس سے کچھ الگ ہی پایا۔

گھر تمام کے تمام کچے لیکن بہت صاف ستھرے تھے۔اور لوگ بے حد سادہ، زندگی سے توقعات بھی کم، اور دنیاوی ضروریات بھی۔ نہ کسی گھرمیں کوئی میز کرسی نہ بیڈ نہ بجلی نہ پانی، پھر بھی شکایت بس یہ کہ سکول میں ماسٹر نہیں ہے!

ان کی بات سنی تو ایک پرانا لطیفہ یاد آگیا۔ سیکڑوں سال سمندر کی لہروں سے جوجھنے کے بعد ایک بوتل بمبئی کے ساحل پر جاپہنچی۔ کسی نے ڈھکن کھولا تو اس میں سے جن نکلا اور کہنے لگا: کیا حکم ہے میرے آقا؟

اس شخص نے خوش ہوکر جواب دیا: ایک فلیٹ کا انتظام کردو۔ جواب ملا کہ بمبئی میں فلیٹ ملنا اتنا آسان ہوتا تو میں اتنے سال سے بوتل میں رہ رہا ہوتا؟ قبائلیوں کو ابھی بہت سے سبق سیکھنے ہیں۔