کانگریس: حکومت سازی کی تیاری شروع

- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دِلی
- وقت اشاعت
ہندوستان میں حکمراں جماعت کانگریس پارٹی نے ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ منگل کے روز پارلیمانی بورڈ کی میٹنگ میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کو باقاعدہ قائدہ ایوان منتخب کرنے کے بعد حکومت سازی کے لیے اسی روز اتحادی جماعتوں سے صلاح و مشورہ کیا جائےگا۔
ملک میں اب تقریباً تمام انتخابی نتائج سامنے آچکے ہیں جس کے مطابق کانگریس کے قیادت والے یونائیٹیڈ پروگرسیو الائنس یعنی یو پی اے کو دو سو ساٹھ سیٹیں ملی ہیں اور کانگریس نے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے تیاریاں شروع کردی ہیں۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے قومی جمہوری محاذ این ڈی اے کو ایک سو ستاون سیٹیں ملی ہیں۔ جبکہ تیسرے محاذ کو شدید دھچکہ لگا ہے بالخصوص بائیں بازوں کی جماعتوں ایک بڑی شکست کا سامنا ہے۔
پانچ سو تینتالیس رکنی پارلیمان میں سادہ اکثریت کے لیے دو سو بہتر ارکان کی ضرورت ہے اور کانگریس یہ تعداد بعض آزاد امید وار اور چھوٹی جماعتوں کی حمایت سے حاصل کر لے گی۔
اب سب کی نظریں کابینہ پر لگی ہوئی ہیں۔ وزیرِ اعظم منموہن سنگھ پہلے ہی نوجوانوں کی کابینہ میں اہمیت پر زور دے چکے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وہ نہرو خاندان کے فرزند راہول گاندھی کو کابینہ میں شامل ہونے پر راضی کر لیں گے۔
دریں اثناء عالمی رہنماؤں نے کانگریس کو انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ انتخابات نے انڈیا کی ’تاباں جمہوریت‘ کو مستحکم کیا ہے اور امریکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید بڑھائے گا۔
کانگریس نے اتوار کے روز ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں ایک قرارداد میں اپنی جیت پر عوام کا شکریہ ادا کیا۔ میٹنگ کے بعد پارٹی کے ترجمان جناردھن دویدی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ نئے لیڈر کا انتخاب ایک رسمی کارروائی ہے اور یہ طے ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ ہی ہوں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ منموہن سنگھ 1961 کے بعد جواہر لال نہرو کے بعد پہلے وزیرِ اعظم ہوں گے جو اپنا عہدۂ مدت پورا کرنے کے بعد دوبارہ وزیرِ اعظم منتخب ہوں گے۔
کانگریس پارٹی کے ترجمان جناردھن دویدی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دوسری جماعتوں کو حکومت میں شمولیت کی دعوت کا فیصلہ بھی منگل کے روز کانگریس کی اتحادی جماعتوں سے صلاح و مشورہ کے بعد کیا جائے گا۔
سماجوادی پارٹی اور لالو پرساد کی جماعت نے انتخاب میں کانگریس کے ساتھ اتحاد نہیں کیا تھا لیکن اب وہ حکومت میں شامل ہونا چاہتی ہیں۔
حکمراں کانگریس پارٹی کے اتحادیوں میں ترنمول کانگریس اور ڈی ایم کے نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کانگریس نے انفرادی طور پر دو سو پانچ سیٹیں حاصل کی ہیں اور اسے حکومت سازی میں زیادہ مشکل نہیں ہو گی۔ تاہم اتحادی جماعتوں میں وزارتوں کی تقسیم میں اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔

ملائم سنگھ کی جماعت سماجوادی پارٹی نے اترپردیش میں اچھی کار کردگی مظاہرہ کیا ہے اور انہوں نے نئی حکومت کی حمایت کا بھی اعلان کیا ہے۔ بعض دیگر جماعتوں نے بھی کانگریس سے رابطہ کیا ہے لیکن کانگریس نے اس معاملے میں ابھی اپنی حکمت عملی ظاہر نہیں کی ہے۔
ادھربی جے پی کے رہنما لال کرشن اڈوانی کے اس اعلان کے بعد کہ وہ پارلیمان میں لیڈر آف دی اپوزیشن کا کردار نہیں کرنا چاہتے بھارتیہ جنتا پارٹی ان کا متبادل تلاش کرنے میں سرگرداں ہیں۔ اس کے لیے مرلی منوہر جوشی، شسما سواراج اور جسونت سنگھ جیسے راہنماؤں کے نام سامنے آ رہے ہیں۔
لوک سبھا انتخابات کے ساتھ ہی ریاست آندھرا پردیش اور اڑیسہ اسمبلی کے بھی انتخابات ہوئے ہیں۔ آندھرا پردیش میں کانگریس اقتدار میں واپس آگئی ہے۔ اسے دو سو نواسی میں سے ایک سو چون سیٹیں ملی ہیں ملی ہیں اور وزیر اعلی چندر شیکھر راؤ دوبارہ واضح اکثریت مل گئی ہے۔ تیلگو دیشم پارٹی اور ٹی آر ایس اتحاد کو ایک سو پانچ سیٹیں ملی ہیں۔
اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک کو بھی اس بار کے انتخاب میں واضح اکثریت مل گئی ہے اور انہیں ایک سو سات نشستیں ملی ہیں۔ نوین پٹنائک کی حکومت کو بی جے پی کی حمایت حاصل تھی لیکن وہ نئی حکومت اپنی پارٹی کی طاقت پر بنالیں گے۔
کانگریس کی قیادت والے یو پی اے محاذ کو دو سو ساٹھ، جبکہ انفرادی طور پر کانگریس کو دو سو پانچ سیٹیں ملی ہیں۔
بی جے پی کے قیادت والے قومی جمہوری محاذ کو ایک سو ستاون سیٹیں ملی ہیں۔ بی جے پی نے انفرادی طور پر ایک سولہ سیٹیں جیتی ہیں۔
تیسرے محاذ کو سڑسٹھ نشستیں ملی ہیں جس میں بائیں محاذ کو صرف چوبیس سیٹیں ملی ہیں۔
سماجوادی پارٹی کو بائیس، بہوجن سماج پارٹی کو بیس، شیو سینا کو گیارہ ، بیجو جنتادل کو چودہ، اے آئی ڈی ایم کے کو دس سیٹیں ملی ہیں۔
درایں اثناء پیر کی صبح وزير اعظم کی سربراہی میں کابینہ کے آخری اجلاس میں 14 ویں لوک سبھا کی تحلیل کی سفارش کی گئی۔ اس قرار دار کو لوک سبھا کے لیڈر پرنب مکھرجی نے پیش کیا جس کی وزیر اعظم نے تائید کی۔ اس کے بعد وزير اعظم منموہن سنگھ نے صدر جمہوریہ ترتبھا پاٹل سے ملاقات کی اور آئین کے مطابق انہیں کابینہ کی قرارداد سونپ دی۔ کابینہ کی سفارش کے مطابق صدر جمہوریہ نے 14 ویں لوک سبھا تحلیل کر دی اور وزير اعظم نے اپنا استعفی صدر کو سونپ دیا۔
نئی کابینہ کے سلسلے ميں دلی میں ایک نیوز کانفرنس میں کانگریس پارٹی کے ترجمان جناردھن دیویدی نے بتایا کے متحدہ ترقی پسند محاذ کی میٹنگ بیس تاریخ کو ہونا طے پائي ہے۔
بھلے ہی متحدہ ترقی پسند محاذ کی میٹنگ بیس تاریخ کو ہو لیکن اگلی کابینہ ميں کون شامل ہو گا اور کون نہیں اس بات پر قیاس آرائیاں پہلے سے ہی تیز ہو چکی ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق ریلوے کے مرکزی وزیر لالو پرساد یادو کی زبردست شکست کے بعد انہیں یہ وزارت دوبارہ ملنا تو مشکل ہے اور یہ بھی بتانا مشکل ہے کہ وہ وزارت میں شامل کیے جائیں گے یا نہیں۔ آج انہوں نے کابینہ کی میٹنگ میں شرکت تو کی اور غیر مشروط حمایت فراہم کرنے کی بھی بات کہی لیکن میٹنگ کے بعد پارٹی کے سیئنر رہنما دگوجے سنگھ نے لالو یادو کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو برتاؤ لالو یادو جیسے سیئنر رہنما نے کانگریس پارٹی کے ساتھ کیا ہے وہ ان جیسے رہنما کو زیبا نہیں دیتا۔
وہیں وزارت خزانہ کے لیے بھی کئی نام سامنے آ رہے ہیں جن میں منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین موٹیک سنگھ اہلووالیہ اور وزیر تجارت کمل ناتھ کے نام شامل ہیں جبکہ یہ بھی ایک بڑا سوال بن چکا ہے کہ کیا پارٹی کے نوجوان جنرل سکریٹری راہل گاندھی کابیہ میں شامل ہوں گے یا نہیں؟ باظاہر ایسا لگتا ہے کہ خارجی امور کی وزارت سیئنر رہنما پرنب مکھرجی کے پاس اور داخلی امور پی چدمبرم کے پاس ہی رہے گا۔ لیکن ایک بات تو صاف ہے کہ چونکہ کانگریس اس مرتبہ دو سو سے زيادہ سیٹوں کے ساتھ جیت کر آئی ہے اس لیے وزارتوں کی تقسیم میں اتنی دقتیں پیش نہیں آئے کی جتنی پچھلی مرتبہ آئی تھی۔



















