منموہن سنگھ کی دوسری اننگز

منمو ہن سنگھ
،تصویر کا کیپشنمنموہن سنگھ دوبارہ بھارت کے وزیراعظم بن رہے ہیں
    • مصنف, صلاح الدین
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،دلی
  • وقت اشاعت

بائیس مئی دو ہزار چار کو ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ آج بائیس مئی دو ہزار نو ہے اور ایک بار پھر سے وہ اسی عہدے کو سنبھال رہے ہیں۔

فرق صرف اتنا ہے کہ پہلی بار حلف برداری کی تقریب سنیچر کو ہوئی تھی جبکہ اس بار یہ جمعہ کو ہورہی ہے۔

ہندوستان میں اس سے پہلے دوبارہ انتخابات جیت کر اقتدار حاصل کرنے والی محترمہ اندراگاندھی کی حکومت تھی۔ لیکن اس حکومت نے بھی اپنی معیاد پوری کرنے سے پہلے انتخابات کر وائے تھے اس لیے تکنیکی طور پر جواہر لال نہرو کے بعد منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے حکومت ہی ایسی حکومت ہے جو اپنی معیاد پوری کرنے کے بعد دوبارہ اقتدار سنبھال رہی ہے۔

ڈاکٹر منموہن سنگھ بھارت کے سترہویں وزیراعظم ہیں۔ وہ سنہ انیس سو بتیس میں پنجاب کے ایک گاؤں گاہ میں پیدا ہوئے تھے جو اب پاکستان میں ہے۔ پیشے سے وہ ماہر اقتصادیات ہیں۔ سنہ انیس سو بیاسی اور پچاسی کے درمیان وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے گورنر رہے، پلاننگ کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور سنہ انیس سو اکانوے اور چھیانوئے کے درمیان ملک کے وزیر خزانہ رہے۔

دو ہزار چار میں کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے جب وزیر اعظم بننے سے انکار کر دیا تو کانگریس کی قیادت والے یونائیٹیڈ پروگریسو الائنس یو پی اے نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کو غیر متوقع طور پر وزارت عظمی کے عہدے کے لیے منتخب کیا تھا۔

کانگریس کی قیادت والے یو پی اے محاذ کی اس نئی حکومت کی باگ ڈور ایک بار پھر انہیں کے سپرد ہے۔ لیکن اس نئی حکومت میں ان کے کئی پرانے اتحادی نہیں ہوں گے اور انہیں نئے لوگوں کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ اس بار اس اتحاد میں ترنمول کانگریس اور نیشنل کانفرنس جیسی جماعتیں شامل ہیں جو پچھلی بار اس اتحاد کا حصہ نہیں تھیں۔

پچھلی حکومت میں لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی، رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی، مفتی سعید کی پی ڈی پی جیسی جماعتیں حکومت میں شامل تھیں۔ لیکن اس بار لالو پرساد، رگھونش پرساد اور رام ولاس پاسوان جیسے رہنماؤں سمیت ان پارٹیوں کا بھی حکومت سے کچھ لینا دینا نہیں ہوگا۔

نئی کابینہ میں خود کانگریس کے بھی کئی چہرے شامل نہیں ہوں گے۔ ارجن سنگھ، منی شنکر ایّر، عبدالرحمن انتولے، رینوکا چودھری اور شیو راج پاٹل جیسے وزراء منموہن سنگھ کابینہ کا حصہ نہیں ہیں۔

منموہن سنگھ
،تصویر کا کیپشنمنموہن سنگھ کو وزیراعظم بننے کے لیے نا پہلی بار انتخاب پڑنا پڑا اور نا دوسری بار

پچھلی حکومت تقریبا ساڑھے چار برس تک بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے چلی تھی۔ بایاں محاذ اگر چہ حکومت میں شامل نہیں تھا لیکن کامن منیمم پروگرام کے تحت وہ اکثر و بیشتر حکومت کے کام کاج میں مداخلت کرتے رہے تھے۔ دونوں کے درمیان اختلافات کے بھی کئی مواقع پر سامنے آئے جنہیں بات چیت سے سلجھا لیا گیا تاہم امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر اختلافات اتنے شدید ہوئے کہ بایاں محاذ نے حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی۔

لیکن اس بار کانگریس بہتر پوزیشن میں ہے۔ انفرادی طور پر اسے دو سو چھ سیٹیں ملی ہیں اس لیے اہم وزارتوں کا قلم دان بھی اسی کے ہاتھ میں ہے اور مبصرین کے مطابق حکومت کا ایجنڈہ طے کرنے میں وہی حتمی رول ادا کر نے کی پوزیشن میں بھی ہے۔

نئی حکومت ایک ایسے وقت اقتدار سنبھال رہی ہے جب ملک میں معاشی مندی کا دور دورہ ہے اور مہنگائی بھی رکی نہیں ہے۔ پڑوسی ملک پاکستان میں طالبان کے خلاف جنگ جاری ہے تو نیپال میں بھی سیاسی عدم استحکام کا ماحول ہے۔ سری لنکا میں اب جنگ کا خاتمہ ہوچکا ہے لیکن نئے تناظر میں مسائل کی وہاں بھی کمی نہیں۔ من موہن سنگھ کی حکومت کو ان اندرونی اور بیرونی مسائل پر فوری توجہ دینی ہوگي۔