دلی حادثہ: میٹرو چیف نے استعفی دے دیا

میٹرو کا زیر تعمیر پل
،تصویر کا کیپشنیہ حادثہ اتوار کی صبح پانچ بجے جنوبی دلی کے لیڈی شری رام کالج کے نزدیک پیش آیا ہے
    • مصنف, بیورو رپورٹ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دِلی
  • وقت اشاعت

دلی میٹرو پروجکٹ کے چیف ائی سریدھرن نے دلی میں ہوئے حادثے کی ذمےداری لیتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔

دلی ميں اتوار کی صبح میٹرو ریل کا ایک زیر تعمیر پل گر گیا تھا۔ اس حادثے میں پانچ مزدور ہلاک جبکہ بیس مزدور زخمی ہو گئے ہیں۔

ایک نیوز کانفرنس میں ائی سریدھنر نے کہا ' میں پچھلے دس برس سے اس پروجکٹ کا چیف رہا ہوں۔ باضابطہ طور پر میرا اس حادثے سے کوئی لینا دینا نہيں ہے لیکن میں اس ذمےداری لیتا ہوں اور میں نے اپنا استعفی وزیر اعلی کو بھیج دیا ہے۔ مجھے اس حادثے سے کافی تکلیف ہوئی ہے۔'

ائی سریدھرن کا مزید کہنا تھا' ہماری ٹیم مشکل حالات میں اس پروجکٹ کا کام پورا کرتی رہی ہے اور عام طور پر کوئی حادثہ پیش نہیں آیا ہے۔ لیکن پچھلے برس لکشمی نگر ميں ایک حادثہ ہوا تھا اور اتوار کا یہ حادثہ دوسرا بڑا حادثہ ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت وہ بنگلور ميں تھے اور حادثے کے دس منٹ بعد ہی ان کو خبر موصول ہو گئی تھی اور فوری طور پر وہ دلی کے لیے روانہ ہو گئے۔

سریدھرن نے بتایا کہ حادثے کی تحقیقات کے لیے چار رکنی تکنیکی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حادثے کے سبب اس علاقے ميں پروجکٹ میں کم از کم تین مہینے کی تاخیر اور تقریبا چھ کروڑ روپے کانقصان ہو گا۔

میٹرو حادثہ

یہ حادثہ اتوار کی صبح پانچ بجے جنوبی دلی کے لیڈی شری رام کالج کے نزدیک پیش آیا ہے۔ زخمیوں کو آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف سائنسس (ایمز) میں داخل کروایا گیا ہے۔

جائے حادثے پر پولیس اور سول ڈیفنس کے افراد امدادی کارروائی کے لیے پہنچ گئے ہیں۔

دلی میٹرو کے ترجمان انج دیال نے خبر رساں ایجنسیوں کو بتایا کہ ’یہ حادثہ زیر تعمیر پل کے پلر نمبر 66 اور 67 کے درمیان ہوا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ پل کے ڈیزائن ميں کمی حادثے کی وجہ تھی۔

میٹرو ریل کے اہلکاروں کے مطابق حادثے کی تفتیش کے بعد قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

حادثے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے دلی کی وزیر اعلیٰ شیلا ڈکشت نے قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔

وزیر اعلی نے یہ بھی کہا کہ اس بات کے پختہ انتظامات کیے جائيں تاکہ اس طرح کے حادثے دوبارہ پیش نہ آئيں۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس مشرقی دلی کے علاقے میں اسی طرح کے حادثہ ہوا تھا۔

میٹرو ریل کی تعمیر ميں سکیورٹی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے لیکن کئی مقامات پر آئی تیزی کے سبب پچھلے کچھ عرصے میں سکیورٹی کے حوالے سے کئی سوال اٹھائے جا رہے ہيں۔