کشمیر: جج کی احتجاجیوں سے اپیل

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سرینگر
- وقت اشاعت
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہائی کورٹ نے شوپیان میں دو خواتین کے قتل پر جاری احتجاج ختم کرنے اپیل کی ہے۔
چیف جسٹس بارن گھوش نے مقتول خواتین کے گھر والوں سے کہا ہے کہ 'ہم اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے اور مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر ہی دم لیں گے'۔
کشمیر کے ضلع شوپیان دو خواتین کے قتل پر مسلسل احتجاج کو شروع ہوئے اب سنیتالیس دن ہو چکے ہیں۔
اور اس سلسلے میں تحقیقات شروع ہونے کے بعد پولیس اور کیمیائی تجزیے کی لیبارٹری میں کام کرنے والے عملے کے چار اہلکاروں کو معطل کیا جا چکا ہے۔
ان دو خواتین کی لاشیں شوپیان کی ایک نہر سے تیس مئی کو بازیاب کی گئی تھیں۔
گھر والوں کا کہنا تھا کہ ان سے زیادتی کرنے کے بعد انہیں قتل کیا گیا اور پھر نہر میں پھینک دیا گیا۔ جب کہ حکومت نے شروع میں یہ کہا کہ موت حادثاتی ہے اور جنسی زیادتی یا قتل نہیں ہوا۔
لیکن بعد میں پولیس نے جنسی زیادتی اور قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔
اس واقعے نے ریاست میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔ کیونکہ پُرتشدد احتجاج کے بعد انہیں تحقیقات کا حکم دینا پڑا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















