ممبئی، سمندری لہروں سے خطرہ

ہندوستان کے صنعتی شہر ممبئی میں حکام کے مطابق اس ہفتے پانچ میٹر سے بھی اونچی سمندر کی تیز لہریں اٹھ سکتی جس کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ساحلی علاقوں میں بسے لوگوں خبردار کیا جارہا ہے۔
سول انتظامیہ کے مطابق تیز و تند سمندری لہروں کے اٹھنے سے بعض علاقوں میں پانی بھر سکتا ہے اور اس کے ساتھ تیز بارش ہوئی تو ممبئی کی حالت بد تر ہو سکتی ہے۔
ممبئی میونسپل کارپوریشن کے حکام کا کہنا ہے کہ جمعہ کے روز پانچ میٹر سے بھی اونچی لہریں اٹھ سکتی ہیں اس لیے لوگ اس کا خیال رکھ کر ہی باہر جانے کی سوچیں اور جو لوگ سمندر سے قریب رہ رہے ہیں انہیں حالات پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
کولی واڑا، ورساوا، گیتا نگر اور کفی پریڈ جیسے کئی ساحلی علاقوں میں تیز سمندری لہروں کے سبب پانی بھر گیا ہے۔ پانی کے سبب میئر بنگلو کی ایک دیوار گر گئی ہے۔
تیز سمندری لہروں سے نچلے علاقوں میں بھرنے والے پانی کو نکالنے کے لیے بہت ساری پمپ مشینوں کو تیار رکھا گيا ہے۔ بامبے میونسپل کارپوریشن جےراج پاٹھک کا کہنا ہے کہ '' اگر ممکنہ سمندری لہریں اٹھتی ہیں تو ساحلی علاقوں میں بسے لوگوں کو وہاں نکل لیا جائےگا۔''
ان حالات کے پیش نظر بہت سے لوگ گھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کر رہے ہیں۔ دوہزار پانچ میں زبردست بارش کے سبب ممبئی تھم گئی تھی۔
اس دوران سمندر کی لہروں کی اونچائی پر ممبئی میں بحث بھی چھڑ گئی ہے۔ ''سروے آف انڈیا'' کا کہنا ہے کہ بی ایم سی نے ان لہروں کو ممبئی میں گزشتہ سو برس میں سب سے اونچی لہریں کہہ کر لوگوں میں خوف پیدا کر دیا ہے۔
ایس او آئی نے اس بارے میں بی ایم سی کو ایک خط لکھ بتایا ہے کہ اس اطلاعات درست نہیں ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ممبئی میں اس برس جنوری میں سب سے اونچی ( آٹھ میٹر) لہریں ریکارڈ کی گئی تھیں اور یہ جمعہ کے روز ہونے والی ممکنہ لہروں سے کہیں زیادہ اونچی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















