آخری وقت اشاعت:  Wednesday, 29 july, 2009, 10:59 GMT 15:59 PST

ممبئی کےساحلوں پرکئی ٹن کچرا

سمندر کی تیز طرار لہروں نے ممبئی کے خوبصورت ساحلوں پر تقریبا ساڑھےچھ سو ٹن کچرا جمع ہوگیا ہے جسے ہٹانے کے لیے ممبئی میونسپل کارپوریشن اور کچرا صاف کرنے والے ٹھیکہ داروں کے صفائی ملازمین نے دن رات کام کرکے ہٹا یا ہے۔

کہتے ہیں کہ سمندر اپنے اندر کچھ نہیں رکھتا اور وہ اسے واپس ایک نہ ایک دن باہر پھنک دیتا ہے۔ایسا ہی کچھ نظارہ ممبئی کے ساحلوں پر دیکھنے کو ملا جب ممبئی میں موسلا دھار بارش اور اس دوران تین دن سمندر کی لہروں میں زبردست اچھال کے بعد ساحل کچرے سے پٹ گیا۔

ممبئی میونسپل کارپوریشن میں کچرا صفائی محکمہ کے چیف انجینئر این ڈی مانکر کے مطابق بیس جولائی سے چھبیس جولائی تک چھ سو اکتالیس اعشاریہ تراسی ٹن کچرا ممبئی کے محض تین ساحلوں پر جمع ہو گیا تھا۔ جو عام دنوں کے مقابلے ڈبل تھا۔

ممبئی کے ساحلوں پر جو کچرا جمع ہوا تھا اس میں پلاسٹک ، پولیتین کی تھیلیاں اور تھرمو کول ، اور وہ کچرا جو پانی میں گھلتا نہیں ہے وہ سب جمع ہو گیا تھا۔ جن سے بدبو اٹھ رہی تھی۔

اس کچرے کو صاف کرنے کے لیے ملازمین نے ڈبل شفٹ میں کام کیا تھا۔ مانکر کا کہنا تھا کہ صفائی کا کام جلدی کراوانا ضروری تھا کیونکہ ممبئی کے ساحلوں کو دیکھنے غیر ملکی سیاح آتے ہیں۔

ممبئی تین طرف بحیرہ عرب سمندر سے گھرا ہے۔ یہاں جوہو ، گرگام ، دادر، ملاڈ ، مڈھ آئی لینڈ میں خوبصورت ساحل ہیں۔ ممبئی میں بارش کا مزہ لینے ہزارہا افراد ساحل سمندر پر جمع ہوئے تھے۔ ملک اور غیر ممالک سے لوگ تین روز تک سمندر کی اونچی لہروں کا نظارہ دیکھنے ساحلوں پر جمع ہوئے تھے۔

جوہو کا ساحل ایک لاکھ اٹھارہ ہزار کلو اور دادر ساحل تین لاکھ پینتیس ہزار کلو کچرا سے بھر گیا تھا۔ ساحل کے اطراف ہرنے والے کے گھروں میں سمندر کا پانی ہی نہیں کچرا بھی جمع ہو گیا تھا۔

ممبئی میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی رکن ڈاکٹر اویشا کلکرنی کا کہنا ہے کہ ' ہم قدرت کے ساتھ کھلواڑ کرتے ہیں۔ ہم میں صاف صفائی کا شعور ہی نہیں ہے۔ عوام کے ساتھ ساتھ میونسپل انتظامیہ اور حکومت بھی کچھ حد تک اس کی ذمہ دار ہے جو پلاسٹک تھیلیوں پر پابندی عائد نہیں کرتی ہے۔'

ابھی شہر میں گنپتی وسرجن ہو گا ہندو اپنے بھگوان گنیش کی مورتی کو سمندر میں غرق کرتے ہیں۔ اس وسرجن کے بعد بھی ساحلوں پر لاکھوں کلو کچرا جمع ہو جاتا ہے۔ کلکرنی کہتی ہیں کہ مورتی کو بنانے میں جو مٹیرئیل استعمال ہوتا ہے اس سے سمندر کا پانی خراب ہو جاتا ہے اس لیے لوگوں کو ماحولیات کے مطابق مورتی بنانی چاہئے تاکہ سمندر کا پانی بھی آلودہ نہ ہو۔

پورے شہر مبمئی سے روزانہ چھ سو پچاس ٹن کچرا جمع کیا جاتا ہے جسے شہر اور اس کے باہر چند ڈمپنگ گراؤنڈ میں پھینک دیا جاتا ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔