آخری وقت اشاعت:  Friday, 21 august, 2009, 11:03 GMT 16:03 PST

ملک کا سب سے بڑا آرٹ میلہ

انڈیا آرٹ سمٹ

دارالحکومت دلی میں ان دنوں ملک کا واحد عالمی آرٹ میلہ یعنی ’انڈین آرٹ سمٹ‘ جاری ہے جس میں دنیا بھر کے مشہور اور معروف آرٹسٹس کے علاوہ ملک کے معروف فن کار حصہ لے رہیں۔

اس میلے میں 54گیلریوں میں مختلف مصوروں اور فن کاروں کا کام دکھایا جارہا ہے۔ اس میلے میں17 عالمی گیلریاں بھی حصہ لے رہی ہیں۔ اور چار سو سے زیادہ فن کاروں کا کام نمائش پر ہے لیکن ملک کا واحد آرٹ میلہ ملک کے سب سے بڑے فن کار ایم ایف حسین کے بغیر ہورہا ہے۔

ایم ایف حسیین کی غیر حاضری کی وجہ بعض سخت گیر ہندو نظریاتی تنظیموں کی ان سے ناراضگی اور سمٹ منعقد کرنے والوں کا یہ ڈر ہے کہ ’حیسن کو بلایا تو سمٹ پر حملہ نہ ہوجائے۔‘

انڈین آرٹ سمٹ کی ایسوسی ائیٹ ڈاریکٹر نیہا کرپال کا کہنا ہے کہ انہیں افسوس ہے کہ ایم ایف حسین جیسا فن کار ہندوستان کی سب سے بڑے آرٹ میلے کا حصہ نہیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی تمام کوششوں کے باوجود حکومت انہیں اس بات کی یقین دہانی نہیں کرا پائی کہ وہ سمٹ کو پولیس حفاظت فراہم کرائے گی۔

حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے آج تک اس پورے معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ میرے والد کے خلاف پانچ مقدمات ختم کرچکی ہے اس کے باوجود حکومت نے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ہے

شمشاد حسین

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ ایم ایف حسین کی بعض پینٹنگز کی وجہ سے ہندو نظریاتی تنظمییں ان سے سخت ناراض ہیں اور ان کے خلاف کورٹ میں مقدمات درج ہیں تو وہ حسین کو بلاکر سمٹ اور یہاں آئے تمام فن کاروں کی زندگی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتی تھیں۔

حالانکہ ان کا کہنا ہے کہ وہ ابھی بھی کوشش کررہی ہیں کہ حکومت ایم ایف حسین کی سیکورٹی کی یقین دہانی کرائے تاکہ اگر وہ اس سمٹ میں نہیں توکم از کم اگلی سمٹ میں حصہ ضرور لے سکیں۔

انڈین آرٹ سمٹ میں ایم ایف حسین کی غیر حاضری اور ان کے کام کو نہ دکھائے جانے پر حکومت کی تنقید ہورہی ہے لیکن شاید ایم ایف حسین ان حالات سے مایوس ہوگئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب بی بی سی نے ان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ خوش ہیں کہ انڈین آرٹ سمٹ ایک بہت اچھا کام کررہی ہے۔ تاہم انہوں نے سمٹ میں اپنی غیر موجودگی کے بارے میں کچھ نہیں کہنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ہندوستان میں وہ اکیلے آرٹسٹ نہيں ہیں۔‘

حسین شاید اپنی لڑائی لڑکر تھک چکے ہیں لیکن اپنے والد کی جلا وطنی کی زندگی اور آزاد طور پر ان کے کام نہ دکھائے جانے پر ان کے بیٹے اور مصور شمشاد حسین کافی ناراض ہیں۔

ایم ایف حسین

ملک کے مختلف عدالتوں میں ایم ایف حسین کے خلاف تقریبا 800 مقدمات درج ہیں

شمشاد کا کہنا ہے ’حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے آج تک اس پورے معاملے پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ میرے والد کے خلاف پانچ مقدمات ختم کرچکی ہے اس کے باوجود حکومت نے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی ہے۔‘

حکومت کی طرف سے نہ تو کوئی ردعمل آیا ہے اور نہ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر کوئی بھی آرٹ گیلری یا آرٹ میلہ حسین کا کام دکھاتا ہے کہ حفاظت کی ذمہ داری ان کی ہے۔ حکومت کے اس رویہ پر ملک کے آرٹسٹ کافی ناراض ہیں۔

دلی آرٹ گیلری کے ڈاریکٹر آشیش آنند کا کہنا ہے کہ ’جو بھی ہورہا ہے وہ صحیح نہیں ہے۔ حسین نے ہندوستانی آرٹ کو جس مقام پر پہنچایا ہے وہ کسی نہیں کیا۔ اور چورانے سال کی عمر میں حسین جیسے فن کار کو جلا وطنی کی زندگی گزارنی پڑ رہی ہے۔ میرے خیال سے یہ ظلم ہے۔‘

وہیں ملک کے سرکردہ مصور راجیو لوچن کا کہنا ہے کہ ’ہندوستان کی پوری آرٹ کمیونٹی دل سے یہ چاہتی ہے کہ ایم ایف حسین جلد سے جلد ملک واپس آئیں۔‘

حکومت کی طرف سے نہ تو کوئی ردعمل آیا ہے اور نہ ہی اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگر کوئی بھی آرٹ گیلری یا آرٹ میلہ حسین کا کام دکھاتا ہے کہ حفاظت کی ذمہ داری انکی ہے۔ حکومت کے اس رویہ پر ملک کے آرٹسٹ کافی ناراض ہیں۔

واضح رہے کہ ایم ایف حسین کی پینٹگز پر اس وقت تنازعہ کھڑا ہوا تھا جب 1996 میں ان کی بعض پینٹگز کو ایک ميگزین میں شا‏ئع کیا گیاتھا اور بعض ہندو نظریاتی تنظیموں نے اس بات پر اعتراض کیا تھا کہ انہوں نے اپنی بعض پینٹگز میں ہندو دیو دیوتاؤں کو برہانہ انداز میں پیش کیا ہے اور ان کی ’بھارت ماتا‘ نامی پینٹنگ میں بھارت کو برہانہ عورت کی شکل میں دکھایا گيا ہے۔

اس تنازعہ کے بعد حسین کے گھر پر حملہ ہوا اور انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔ بعد میں حسین ملک چھوڑ کر دبئی اور لندن چلے گئے۔

اس تنازعہ کے بعد ملک کی کوئی بھی گیلری ان کے کام کی نمائش نہیں کرسکی ہے اور اس وقت ملک کے مختلف عدالتوں میں ایم ایف حسین کے خلاف تقریباً 800 مقدمات درج ہیں۔ حالانکہ سپریم کورٹ ان کے خلاف پانچ مقدمات خارج کرچکی ہے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔