
پولنگ سے قبل ووٹنگ مشینیں ایک ٹیکسی کی ڈِگی میں

پولنگ سے قبل ووٹنگ مشینیں ایک ٹیکسی کی ڈِگی میں
جمعرات تیس اپریل کو ممبئی کے چھ پارلیمانی حلقوں میں پولنگ ہوئی۔ ممبئی سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے قاری جاوید جمال الدین نے اس دن اپنا ووٹ ڈالا اور اپنے تجربات اور چند تصاویر ہمیں بھیجی ہیں:
میرا علاقہ شیخ مصری اینٹاپ ہِل، جنوب وسطی ممبئی لوک سبھا حلقے میں آتا ہے۔ اس حلقے میں ممبئی کی سب سے بڑی کچی آبادی دھاراوی بھی واقع ہے۔ اس حلقے سے کانگریس کے موجودہ ایم پی ایکناتھ گائکواڈ سمیت تئیس امیدوار میدان میں ہیں۔ ان میں صرف ایک خاتون امیدوار ہیں جن کا تعلق راج ٹھاکرے کی مہاراشٹرا نو نرمان سینا (ایم این ایس) سے ہے۔ یہاں ایم این ایس اور شیو سینا میں سخت ٹکر ہے۔ اکنات گائکوڈ دلِت ہیں اور اس حلقے کے کئی علاقوں میں دلت طبقے کی اکثریت ہے۔

جمعرات کی صبح گیارہ بجے کے بعد جب میں اپنے مکان سے صرف سو میٹر کے فاصلے پر شیخ مصری میونسپل اردو سکول میں واقع پولنگ سینٹر پہنچا تو وہاں سخت حفاظتی انتظامات نظر آئے۔ صدر دروازے پر خواتین پولیس اہلکار بھی موجود تھیں۔ جن ووٹروں کے پاس ووٹنگ کارڈ یا شناختی کارڈ تھے انہیں نہیں روکا جا رہا تھا۔ سکول کی عمارت کے سو میٹر کے دائرے میں دکانیں بند تھیں اور کسی بھی سیاسی پارٹی کے ورکر کو وہاں بھٹکنے کی اجازت نہیں تھی۔
اس پولنگ سٹیشن میں بارہ پولنگ بوتھ (199 - 210) بنائے گئے تھے جو گراؤنڈ، پہلی اور دوسری منزل پر تھے۔ میرا بوتھ پہلی منزل پر بوتھ نمبر 203 تھا لیکن اتفاق سے میری بیوی اور بھابی کا نام بوتھ نمبر 204 میں تھا۔ ایسا صرف ہمارے ساتھ ہی نہیں ہوا بلکہ کئی لوگوں کو یہی شکایت تھی۔ بوتھ کے باہر تعینات ایک پولیس حولدار ووٹروں کی رہنمائی کر رہا تھا۔ میری قطار میں دس ووٹر تھے اور سات سے آٹھ منٹ بعد میرا نمبر آ گیا۔ افسر نے میرا شناختی کارڈ دیکھا اور ووٹر سلپ سے نمبر پکارا جس کے بعد دوسرے نے ایک سلپ پر میرا نمبر لکھ کر دیا۔ تیسرے نے انگلی پر سیاحی لگائی اور اس کے بعد میں نے ووٹنگ مشین پر اپنے پسندیدہ امیدوار کے نشان کے آگے لگا بٹن دبا دیا، بیپ کی آواز آئی اور افسر نے اشارہ دیا کہ ووٹنگ ہوگئی۔
ممبئی میں اچانک گرمی میں اضافے کی وجہ سے بہت سے لوگ چھتری کے سائے میں ووٹ دینے آئے۔ دوسرے علاقوں کی نسبت اس علاقے میں ووٹنگ کی شرح کافی اچھی رہی اور دوپہر تین بجے تک چالیس فیصد پولنگ ہو چکی تھی۔ پولنگ سینٹر سے کچھ فاصلے پر شیخ مصری درگاہ کے باہر ایک میز پر ووٹروں کو ووٹنگ سلپ دی جا رہی تھی اور چند افراد نے یہ شکایت بھی کی کہ ان کا نام ووٹروں کی لسٹ میں نہیں ہے۔ اس قسم کی شکایت متعدد لوگوں نے کی۔ یہ ایک پرامن علاقہ ہے اور پولنگ کے دوران بھی امن رہا۔
BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔