Image

لائیو, کویت کا ایرانی سفارتی عملے کے دو اراکین کو ’ناپسندیدہ‘ شخصیات قرار دیتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم: ’13 ایرانی میزائل، 17 ڈرون تباہ کیے،‘ کویت

کویت کے نائب وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں ان ’مجرمانہ ایرانی حملوں‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ ’کویت اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا۔‘ کویت کی وزارت دفاع کے مطابق ایرانی حملے میں آج کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو متعدد ڈرونز نے نشانہ بنایا جس سے ایئرپورٹ کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا۔ اس حملے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ 63 زخمی ہوئے ہیں۔

خلاصہ

  • کویت کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون حملوں میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا ہے جس کے بعد فضائی آپریشنز معطل کر دیے گئے جبکہ ان حملوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں
  • بحرین کی فوج نے بھی 'ایرانی حملوں کی کوششوں کو ناکام' بنانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے حملوں کا ہدف مملکت کی شہری تنصیبات تھیں
  • امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بناتے ہوئے ایران کے جزیرہ قشم پر اہداف کے خلاف اپنے دفاع میں حملے کیے ہیں جبکہ ایران کی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے
  • صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات مسلسل جاری ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے معاہدہ کیا جائے‘

لائیو کوریج

  1. کویت کا ایرانی سفارتی عملے کے دو اراکین کو ’ناپسندیدہ‘ شخصیات قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم

    Reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کویت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دفتر نے بدھ کے روز نائب وزیر خارجہ حمد سلیمان المشعان نے ایران کے سفارت خانے کے قائم مقام ناظم الامور، کونسلر حامد حمید یعقوبی فر کو طلب کیا اور انھیں ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔

    کویت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’مراسلے میں ایران کے حملوں پر سخت احتجاج کرتے ہوئے ایران کے سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے اور ایرانی سفارت خانے کے دو ارکان کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ انھیں 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘

    نائب وزیر خارجہ کی جانب سے پر اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ اقدام اس پس منظر میں کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مسلسل اور شدید حملے کیے جا رہے ہیں، جن کی تازہ لہر بدھ کی صبح دوبارہ دیکھی گئی، جس میں متعدد شہری تنصیبات اور اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔‘

    ان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ درجنوں شہری زخمی ہوئے اور اہم تنصیبات و سفارتی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جو کویت کی خودمختاری، اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر (2817) کی صریح خلاف ورزی ہے۔

    نائب وزیر خارجہ نے کویت کی جانب سے ان ’مجرمانہ ایرانی حملوں‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کویت اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے بے بنیاد الزامات کسی بھی طرح درست یا شواہد پر مبنی نہیں اور ان کا بار بار اعادہ ان حملوں کا جواز فراہم نہیں کر سکتا جنھوں نے کویت کی سرزمین اور شہری و اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’کویت کو اپنی خودمختاری، سلامتی، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل اور جائز حق حاصل ہے۔‘

  2. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آل پارٹیز کانفرنس: انتخابات بروقت کروانے اور مہاجرین کی سیٹوں سے متعلق آئینی اصلاحات اسمبلی پر چھوڑنے کی قرارداد منظور, نصیر چوہدری، صحافی

    Farhan Tariq

    ،تصویر کا ذریعہFarhan Tariq

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں منعقد ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں آئندہ انتخابات، کشمیری مہاجرین کی نشستوں، آئینی اصلاحات اور مسئلہ کشمیر سے متعلق متعدد نکات شامل ہیں۔

    وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی زیرِ صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ شرکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اجلاس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں جاری جمہوری اور آئینی عمل کو ریاستی استحکام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جمہوری اداروں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ وقت پر منعقد کیے جائیں گے جبکہ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کے آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور پرامن انعقاد کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور انتخابی عمل میں مداخلت کی کسی بھی کوشش کا قانونی طور پر سدباب کیا جائے گا۔

    مہاجرین کی 12 نشستوں کے حوالے سے قرارداد میں کہا گیا کہ پاکستان میں مقیم مہاجرین کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے، تاہم انتخابی نظام سے متعلق بعض پیچیدگیوں کے حل کے لیے آئین کے مطابق ہی قانون سازی کی جا سکتی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ آئینی ترمیم کا اختیار منتخب نمائندوں اور قانون ساز اسمبلی کے پاس ہے۔ اجلاس میں سفارش کی گئی کہ کسی بھی ممکنہ آئینی تبدیلی سے قبل سیاسی جماعتوں، وکلا تنظیموں، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین سے مشاورت پر مبنی ایک وسیع عمل شروع کیا جائے۔

    اعلامیے میں برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کے فروغ کو خطے میں پائیدار امن کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ آل پارٹیز کانفرنس میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے موجودہ وزیراعظم، چار سابق وزرائے اعظم، قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سربراہان یا اُن کے نمائندے نے شرکت کی جبکہ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اس آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا تھا۔

  3. مسلح افواج نے 13 ایرانی بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرون تباہ کیے، ہلاک ہونے والا شخص انڈین شہری ہے: کویتی وزارتِ دفاع

    کویت

    ،تصویر کا ذریعہKuwait News Agency/X

    کویت کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ بدھ کو علی الصبح اس کی مسلح أفواج نے ایرانی حملوں کے دوران 13 بیلسٹک میزائلوں اور 17 ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔

    سرکاری خبر ایجنسی کویت نیوز کے مطابق وزارتِ دفاع کے ترجمان کرنل سعود العطوان کا کہنا تھا کہ ان کی مسلح افواج نے 13 بیلسٹک میزائلوں کو اپنی فضائی حدود میں کچھ ’رہائشی علاقوں کے اوپر‘ تباہ کیا، جس کے نتیجے میں ان کا ملبہ گرا۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حملوں میں کویت انٹرنیشنل انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت دیگر عام شہری اور عام تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ایک انڈیا شہری ہلاک ہوا، متعدد لوگ زخمی ہوئے اور وسیع پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا۔

    خیال رہے بدھ کی صبح کویت اور بحرین کی حکومتوں نے کہا تھا کہ دونوں ممالک کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    کویت اور بحرین کی جانب سے یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد ایران نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’امریکی اڈوں اور ہیلی کاپٹروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا جوابی کارروائی کے طور پر تھا۔‘

    کویت کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ کی علی الصبح ایران کی جانب سے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیے گئے میزائل و ڈرون حملے میں کم از کم 63 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایئرپورٹ کا عملہ اور مسافر بھی شامل ہیں۔

    اس سے قبل کویت کی وزارتِ خارجہ نے بتایا تھا کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک بھی ہوا ہے۔

  4. کسی بھی خلیجی ریاست کو ایرانی حملوں کا نشانہ بننے کے لیے تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے: امارتی صدر کے مشیر

    کویت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر برائے سفارتی امور ڈاکٹر انور قرقاش نے کویت اور بحرین کے خلاف ’ایرانی جارحیت‘ پر خلیجی ممالک سے ’ایک مضبوط، متحد اور مربوط مؤقف‘ اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ڈاکٹر انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی خلیجی ریاست کو (ایرانی حملوں کا) نشانہ بننے کے لیے تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔‘

    ’عرب خلیجی ریاستوں کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، ان کے مفادات مشترکہ ہیں اور ان کا مستقبل ایک ہے۔‘

    ’یہ جارحیت کسی ایک ریاست کو نہیں بلکہ ہم سب کو نشانہ بنا رہی ہے۔‘

    UAE

    ،تصویر کا ذریعہX

    خیال رہے بدھ کی صبح کویت اور بحرین کی حکومتوں نے کہا تھا کہ انھیں ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

    کویت اور بحرین کی جانب سے یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد ایران نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’امریکی اڈوں اور ہیلی کاپٹروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا جوابی کارروائی کے طور پر تھا۔‘

    کویت کی وزارتِ صحت کے مطابق بدھ کی علی الصبح ایران کی جانب سے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیے گئے میزائل و ڈرون حملے میں کم از کم 63 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایئرپورٹ کا عملہ اور مسافر بھی شامل ہیں۔

    اس سے قبل کویت کی وزارتِ خارجہ نے بتایا تھا کہ اس حملے میں ایک شخص ہلاک بھی ہوا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی حملے کے نتیجے میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل ون کی عمارت اور کئی دیگر سفارتی مقامات کو نقصان پہنچا ہے۔

  5. ایرانی حملے میں کم از کم 63 افراد، بشمول ایئرپورٹ کا عملہ اور مسافر، زخمی ہوئے ہیں: کویتی وزارت صحت

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنحملے کے بعد کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا منظر

    کویت کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ بدھ کی علی الصبح ایران کی جانب سے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیے گئے میزائل و ڈرون حملے میں کم از کم 63 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایئرپورٹ کا عملہ اور مسافر بھی شامل ہیں۔

    کویتی وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر عبداللہ السند کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ریاستِ کویت کے خلاف ایرانی جارحیت کے فوری بعد ایک جامع اور ہنگامی حکمتِ عملی پر عمل کیا جا رہا ہے، جس کے تحت 63 زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ سات ہنگامی اور سیریس سرجریز سرانجام دی گئی ہیں۔‘

    یاد رہے کہ کویت کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس حملے میں ایک شخص ہلاک بھی ہوا تھا۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایرانی حملے کے نتیجے میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی ٹرمینل 1 کی عمارت اور کئی دیگر سفارتی مقامات کو نقصان پہنچا۔

    ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ کویت کی سرزمین کو اس کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کر رہا ہے اور وہ اس کے لیے کویت کی قیادت کو ذمہ دار سمجھتے ہیں اور وہاں موجود امریکی اڈے ایران کے ’جائز اہداف‘ ہیں۔

  6. ’غصے میں نہیں تھا، لبنان سے مسلسل لڑائی پر پریشان ہو گیا تھا‘: ٹرمپ کی نیتن یاہو سے فون پر گفتگو کی تصدیق

    Trump and Netanyahu

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیو یارک پوسٹ یارک پوسٹ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ فون پر ہونے والی اس گفتگو کی بھی تصدیق کی، جس میں انھوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کے لیے نامناسب الفاظ بھی استعمال کیے تھے۔

    انٹرویو کے دوران میزبان نے سوال کیا کہ: ’ایگزیوس نے رپورٹ کیا کہ آپ کی بی بی نیتن یاہو سے فون پر بات ہوئی تھی، جس میں آپ نے ان پر غصہ کیا تھا اور کہا تھا ’کیا آپ پاگل ہو؟ یہ آپ کیا کر رہے ہو؟ میں نے آپ کی جیل سے باہر رہنے میں مدد کی۔‘ کیا آپ (ٹرمپ) نے ان سے اس طرح سے بات کی تھی؟‘

    امریکی صدر نے اس گفتگو کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے کی تھی۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ میں غصے میں تھا، میں ان کی لبنان سے مسلسل لڑائی کے سبب کچھ پریشان سا ہو گیا تھا۔‘

    ’میں نے کہا ہمیں اسے روکنا پڑے گا۔‘

    اس موقع پر صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا ان سے ایک بہت اچھا تعلق ہے۔ ہم نے ساتھ مل کر اچھا کام کیا ہے، میں بی بی (نیتن یاہو) کو بہت پسند کرتا ہوں اور میں نے ان کے ساتھ اچھا کام کیا ہے۔‘

  7. ’میں ان سے ملنا چاہوں گا‘: امریکی صدر کا ایرانی رہبرِ اعلیٰ سے ملاقات سے متعلق سوال کا جواب

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر رضامند ہو گیا ہے اور ان مذاکرات میں ملک کے رہبرِ اعلیٰ مجتبی خامنہ ای بھی شامل ہیں۔

    بدھ کو نیو یارک پوسٹ کے ساتھ ایک پوڈ کاسٹ میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ’ہم ایران کو نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنانے دے سکتے اور وہ اس پر رضامند ہیں کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے۔‘

    ’انھوں نے اس پر اتفاق کیا ہے، وہ (بعد میں) اپنا دماغ تبدیل کر سکتے ہیں لیکن یہ (معاملہ) ان چیزوں میں سے تھا جس پر انھیں اتفاق کرنا پڑا۔‘

    اس دوران ان سے سوال کیا گیا کہ کیا مجتبیٰ خامنہ ای ان افراد میں شامل ہیں جن سے امریکہ بات کر رہا ہے، تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا ’جن لوگوں سے ہم بات کر رہے ہیں، ان کے بارے میں ہمیں پتا ہے کہ وہی لوگ ملک کی قیادت کر رہے ہیں۔ جی، وہ (رہبرِ اعلیٰ) اس میں شامل ہیں۔‘

    ایرانی مذاکرات کاروں کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ’وہ ان (رہبرِ اعلیٰ) کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘

    جب امریکی صدر سے مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں پوچھا گیا، ان کا کہنا تھا کہ انھیں اس بات میں نہیں معلوم کیونکہ ’مجھے ان سے ملنے کا شرف حاصل نہیں ہوا ہے، لیکن میں نے یہ نہیں سنا کہ وہ ٹھیک ہیں۔‘

    ’اگر آپ کہانیوں پر یقین کریں تو ان کے (جسم کے) بہت سے حصے موجود نہیں ہیں۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کا یہی کہتی ہے کہ مذاکرات کی منظوری مجتبیٰ خامنہ ای ہی دے رہے ہیں اور ’ایک طویل عرصے سے ایسا ہی ہوتا آ رہا ہے۔ پہلے ان کے والد تھے اور اب وہ خود ہیں۔‘

    جب امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کبھی مجتبیٰ خامنہ ای یا دیگر ایرانی رہنماؤں سے ملنا چاہیں گے، تو ان امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’میں نے اس بارے میں کبھی سوچا نہیں ہے۔ یہ بہت اچھا سوال ہے، میں اس بارے میں سوچوں گا، میں ان سے ملنا چاہوں گا، میں ہر کسی سے ملنا چاہوں گا۔‘

    ’ہم شاید کبھی کسی موقع پر ملاقات کریں گے یہ اس بات پر منحصر ہے کہ معاملات کہاں جاتے ہیں۔‘

  8. امریکی و اسرائیلی حملے کے ایک گھنٹے بعد ہی علی خامنہ ای کی موت کا پتا چل گیا تھا: ایرانی ڈپٹی سپیکر

    علی نیکزاد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنعلی نیکزاد

    ایران کی اسلامی مشاورتی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر علی نیکزاد نے دعویٰ کیا ہے کہ 29 مارچ کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کے ابتدائی گھنٹوں میں ہی علی خامنہ ای کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی تھی۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق علی نیکزاد نے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ ’حملے کے دن، میری پارلیمان میں واقع اپنے دفتر میں ایک گورنر اور ایک نائب وزیر کے ساتھ ملاقات طے تھی۔ جب ہماری ملاقات ختم ہوئی اور (مہمان) روانہ ہوئے، تو ایک دھماکا ہوا۔ ہم سب باہر نکل آئے اور ایک دوسرے سے سوال کرنے لگے۔ ہمیں ابتدائی طور پر یہ تشویش لاحق ہوئی کہ کہیں ایرانی صدر (مسعود پزشکیان) کو صدارتی محل میں گولی تو نہیں مار دی گئی۔‘

    ڈپٹی سپیکر علی نیکزاد نے مزید کہا کہ ’کچھ ہی دیر بعد ہمیں معلوم ہوا کہ صدر مسعود اور اُن کے ساتھی محفوظ ہیں۔ اس کے بعد سرگوشیاں شروع ہوئیں، اور تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی ہمیں واضح ہو گیا کہ حضرت (علی خامنہ ای) شہید ہو چکے ہیں۔‘

    یاد رہے کہ ایرانی حکام نے جنگ کے پہلے دن کے اختتام تک علی خامنہ ای کی موت کی خبر کی تصدیق نہیں کی تھی۔

    علی نیکزاد نے مزید بتایا کہ ’(اسرائیلی و امریکی حملے کے بعد) رات ایک بجے ہونے والے اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ اذانِ فجر سے پہلے، یہ خبر ایرانی نشریاتی اداروں کے ذریعے ایرانی قوم تک پہنچائی جائے گی۔‘

    نیکزاد کے مطابق ’یہ معجزہ تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای اُس وقت اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود نہیں تھے اور شہید نہیں ہوئے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’جو میزائل کمپاؤنڈ کے احاطے پر لگے وہ بنکر شکن میزائل نہیں تھے بلکہ کروز میزائل تھے۔ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے رہنما (علی خامنہ ای) کسی تہہ خانے یا بنکر میں نہیں تھے بلکہ اپنے روزمرہ اُمور کو سرانجام دے رہے تھے۔‘

  9. نئی دہلی میں عمارت میں آگ لگنے سے غیر ملکی شہریوں سمیت 21 افراد ہلاک, نکیتا یادیو، بی بی سی نیوز

    پولیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پولیس کے مطابق انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں ایک کثیر المنزلہ عمارت میں آگ لگنے سے کم از کم 21 افراد ہلاک اور متعدد دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں جنوبی ایشیائی ممالک کے کئی شہری بھی شامل ہیں، جو اپنے طبی علاج یا زیرِ علاج عزیزوں کے ساتھ انڈیا آئے تھے۔

    مبینہ طور پر یہ عمارت ایک ’بیڈ اینڈ بریکفاسٹ‘ کے طور پر کام کر رہی تھی، جہاں قریبی نجی ہسپتال میں علاج کروانے والے مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو رہائش فراہم کی جاتی تھی۔

    آگ لگنے کے واقعے کے بعد 40 سے زیادہ افراد کو بچا کر ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مالویہ نگر کے علاقے میں واقع عمارت میں آگ لگنے کے وقت کتنے افراد اس میں موجود تھے، آگ لگنے کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

    فائر بریگیڈ نے آگ پر قابو پا لیا ہے جبکہ مقام پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    فائر افسر اے کے ملک کا کہنا ہے کہ ’آگ پر کافی جلد قابو پا لیا گیا اور اسے بہت تیزی سے محدود کر دیا گیا تھا۔ ہم نے اب عمارت کو کلیئر کر دیا ہے اور پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔‘

    دہلی میں وزیر آشیِش سود کا کہنا ہے کہ حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا اس عمارت کے پاس بیڈ اینڈ بریکفاسٹ سہولت کے طور پر کام کرنے کے لیے ضروری اجازت نامے موجود تھے یا نہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی خلاف ورزی کے ذمہ دار پائے جانے والوں کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب وزیراعظم نریندر مودی نے ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے لیے 200,000 روپے اور زخمیوں کے لیے 50,000 روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

  10. اسلام آباد میں بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقات میں توسیع

    اسلام آباد

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد میں ضلعی انتظامیہ نے حکومتی فیصلے پر بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقات کار میں توسیع کے حوالے سے نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق اب دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے، جبکہ ریستوران اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے۔

    ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گی، جبکہ شادی ہال اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلیں گے۔

    فارمیسیز، جمز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے ان اوقات سے مستثنیٰ قرار دیے گیے ہیں۔

  11. امریکہ اور ایران کے ایک دوسرے کے اہداف پر حملے: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    کویت ایئرپورٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنکویت پر حملے کے بعد لی گئی تصویر

    سیز فائر کے باوجود ایران اور امریکہ نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک، دوسرے کے اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    • پاکستانی وقت کے مطابق بدھ کی صبح تین بجے کے قریب کویتی وزارت دفاع نے آگاہ کیا کہ اُن کا فضائی دفاع کا نظام ’دشمن کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہا ہے۔‘ بعدازاں کویتی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ وزارت کے مطابق اس حملے میں کویت کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کو بھی نقصان پہنچا جس کے بعد فضائی آپریشنز معطل کر دیے گئے۔ کویت نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں
    • پاکستانی وقت کے مطابق تقریباً صبح چار بجے بحرین کی وزارت داخلہ کی جانب سے بھی آگاہ کیا گیا کہ میزائل اور ڈرون حملے کے بعد ملک کا فضائی دفاع کا نظام فعال کر دیا گیا ہے۔ بحرین نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اپنے شہریوں سے درخواست کی وہ پرسکون رہیں، قریب ترین محفوظ مقام کی طرف جائیں اور سرکاری چینلز کے ذریعے دی جانے والی اطلاعات پر نظر رکھیں۔
    • کویت اور بحرین کی جانب سے یہ اطلاعات سامنے آنے کے بعد ایران نے یہ حملے کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’امریکی اڈوں اور ہیلی کاپٹروں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانا جوابی کارروائی کے طور پر تھا‘۔ ایران نے دعویٰ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنے ایرانی آئل ٹینکر پر حملے اور جزیرہ قشم میں ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں ’جن کی منصوبہ بندی اور اس حوالے سے کی جانے والی کارروائی خطے کے دو ممالک سے کی گئی۔‘ ایران نے مزید کہا کہ ’کویت اور بحرین کی قیادت پر براہِ راست اور واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘
    • اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا کہ اس نے ایرانی بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی متعدد کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے انھیں تباہ کر دیا اور ایرانی جزیرہ قشم پر اہداف کے خلاف اپنے دفاع میں حملے کیے ہیں، جنھیں اس نے ’خطے میں ایرانی حملوں کی کوششوں‘ کے ردعمل کے طور پر بیان کیا تھا۔
    • ایرانی جزیرہ قشم پر حملے کے بعد ایران کی پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔
  12. مہاجرین کی نشستیں: جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا, شہزاد ملک، بی بی سی نیوز اردو

    پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے پر بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور کی جانب سے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو بھی شرکت دعوت دی گئ تھی، تاہم ایکشن کمیٹی نے اس کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ہے۔

    اس ضمن میں جموں کشمیر جوئنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنا تحریری جواب پیش کر دیا ہے۔ ایکشن کمیٹی کے کور رکن شوکت نواز میر کی جانب سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم کو لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ اس مرحلے پر نا انصافی، بنیادی حقوق کی پامالی اور عدم مساوات پر مبنی ڈھانچے سے مستفید ہونے والوں سے مشاورت استحصال کے شکار عام آدمی کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

    خط میں مزید لکھا گیا ہے کہ جموں کشمیر جو ائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس اجلاس میں عدم شرکت کے اپنے فیصلے پر قائم ہے۔

    شوکت میر کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ آپ سمیت دیگر ذمہ داران 4 اکتوبر 2025ء کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد کیلئے کسی سنجیدہ اور نتیجہ خیز کوشش کی جانب بڑھیں گے۔

    دوسری جانب آل پارٹیز کانفرنس جاری ہے، جس میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے چار سابق وزرائے اعظم، موجودہ وزیراعظم اور قانون ساز اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر کے علاوہ دیگر جماعتوں کے سربراہان یا ان کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

  13. جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نیا ٹیرف عائد کر دیا

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے پاکستان اور انڈیا سمیت درجنوں ممالک پر 10 سے 12.5 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، اس تشویش کے باعث کہ یہ ممالک جبری مشقت کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کر رہے۔

    یہ دوسرا موقع ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فروری میں امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ان کے کئی سابقہ محصولات کی منسوخی کے بعد نئے درآمدی ٹیکسز کا اعلان کیا ہے۔

    فہرست میں شامل 60 تجارتی شراکت دار، جن میں برطانیہ، یورپی یونین، کینیڈا، پاکستان، انڈیا اور جاپان شامل ہیں، امریکہ کو فروخت ہونے والی تقریباً تمام اشیا ہی برآمد کرتے ہیں۔

    امریکی محکمۂ تجارت کا کہنا ہے کہ ان ممالک پر ٹیرف اس لیے عائد کیے جائیں گے کیونکہ وہ جبری مشقت کے ذریعے تیار کی گئی اشیا کی درآمد کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

    ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی امریکہ اور دیگر ممالک میں قیمتوں میں اضافے کا سبب بنی ہے۔

    امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ ایسے ممالک کے ساتھ تجارت کرنا جو جبری مشقت سے بنی اشیا خریدتے ہیں امریکہ کے ساتھ ناانصافی ہے۔

    امریکی نمائندہ برائے تجارت جیمیسن گریئر نے کہا کہ اس سے ’ایسی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے جس میں امریکی کارکنوں کو عالمی سطح پر غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘

    ٹیرف کا یہ فیصلہ ان تحقیقات کے بعد سامنے آیا جو امریکہ نے مارچ میں جبری مشقت کے خدشات کے پیشِ نظر ان 60 تجارتی شراکت داروں کے خلاف شروع کی تھی، جہاں سے مجموعی طور پر 99.4 درآمدات آتی ہیں۔

    اپنی تحقیقات کے بعد امریکی محکمۂ تجارت نے منگل کو کہا کہ تمام 60 ممالک ’نہ تو جبری مشقت سے مکمل یا جزوی طور پر تیار ہونے والی اشیا کی درآمد پر قانونی پابندی عائد کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور نہ ہی ایسی پابندی کو مؤثر طریقے سے نافذ کر سکے ہیں۔‘

  14. موٹروے گینگ ریپ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے مجرموں کی اپیلیں خارج کر دیں

    پاکستان میں لاہور ہائیکورٹ نے موٹروے گینگ ریپ کیس میں سزا کے خلاف دائر اپیلیں خارج کرتے ہوئے مرکزی مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائیں برقرار رکھی ہیں

    جسٹس سید شہباز علی رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے دونوں مجرموں کو سنائی گئی سزائے موت برقرار رکھی ہے۔

    استغاثہ کی جانب سے راحیلہ شاہد نے عدالت میں دلائل دیے تھے۔

    یاد رہے کہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 20 مارچ 2021 کو دونوں مجرموں کو سزائے موت سنائی تھی۔ انھیں ریپ کا جرم ثابت ہونے پر سزائے موت، یرغمال بنانے کے جرم میں عمر قید اور ڈکیتی کے جرم میں 14 سال کی قید سنائی گئی تھی۔

    2020 میں لاہور کے قریب موٹر وے پر رات کے وقت ڈکیتی کے بعد بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا تھا۔ پولیس نے پہلے ایک ملزم شفقت کو گرفتار کیا اور پھر دوسرے ملزم کی گرفتاری ہوئی۔

  15. ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے: کویت

    کویت کی وزارتِ خارجہ نے ایران پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے ’وحشیانہ اور مسلسل حملوں‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

    کویتی وزارت خارجہ کے مطابق تازہ حملوں کا آغام بدھ کی علی الصبح ہوا ’جس میں ایک بار پھر سول اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔‘

    بیان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے اور اہم تنصیبات بشمول سفارتی مشنز کو بھی نقصان پہنچا۔

    وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ’کویت ایران کے کھلے اور جارحانہ حملوں کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے، کیونکہ یہ اقدامات خطے میں کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ کرتے ہیں اور علاقائی امن و استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا کہ یہ حملے بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

    بیان میں مزید زور دیا گیا کہ کویت کی سلامتی، خودمختاری اور اس کی سرزمین پر موجود شہریوں اور رہائشیوں کا تحفظ ایک ’ریڈ لائن‘ ہے جسے کسی صورت عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ وزارت نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کے مسلسل حملے ایک منظم جارحانہ طرزِعمل کی عکاسی کرتے ہیں، جسے کویت نہ تو قبول کرے گا اور نہ ہی برداشت کرے گا۔

    وزارت خارجہ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ کویت کو بین الاقوامی قوانین کے تحت ایران کی اس ’جارحیت‘ کا جواب دینے اور مناسب اقدامات کرنے کا مکمل اور بنیادی حق حاصل ہے۔

  16. ایران: ’کویت اور بحرین کی قیادت پر براہِ راست اور واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے‘

    ایران کی وزارتِ خارجہ نے اپنے ایک بیان میں آبنائے ہرمز میں ایک ایرانی آئل ٹینکر پر حملے اور جزیرہ قشم میں ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کو نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔

    بیان کے مطابق یہ حملے بدھ کو علی الصبح کیے گئے، ’جن کی منصوبہ بندی اور کی جانے والی کارروائی خطے کے دو ممالک سے کی گئی۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے ان کارروائیوں کو 10 اپریل کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے ’کویت اور بحرین کی قیادت پر براہِ راست اور واضح ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا کہ ’کوئی بھی ملک جو جارح عناصر کو اپنی سرزمین، سمندری حدود، فضائی حدود یا اپنے علاقوں میں واقع اڈوں کے استعمال کی اجازت دے گا، تاکہ ایران پر حملہ کیا جا سکے، اسے ایران کے خلاف جارحیت کے مترادف سمجھا جائے گا۔‘

    ایرانی وزارتِ خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ان حملوں کے ردعمل میں ’اصل مقام (یعنی جہاں سے حملے کیے گئے) کو نشانہ بنانے‘ کا حق حاصل ہے۔

    یاد رہے کہ ایران میں ہوئے ان حملوں کے ردعمل میں مبینہ طور پر ایران کی جانب سے کویت اور بحرین کی جانب میزائل اور ڈرون داغے گئے تھے۔

    کویت کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ ایک حملے کے نتیجے میں ملک کے بین الاقوامی ایئرپورٹ کی عمارت کو نقصان پہنچا اور چند افراد زخمی بھی ہوئے۔ اس حملے کے بعد کویت کی جانب سے فضائی آپریشنز عارضی طور پر معطل کیے گئے تھے۔

    دوسری جانب بحرین کی فوج نے بھی میزائل اور ڈرون حملوں کو پسپا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

  17. صوبہ سندھ میں یومیہ دو ہزار بیرل خام تیل کی پیداوار کرنے والے نئے ذخیرے کی دریافت کا اعلان, تنویر ملک، صحافی

    آئل اینڈ گیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی ) نے سندھ کے ضلع سانگھڑ میں واقع بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز کے ’بوبی ڈیپ-1‘ کنویں سے تیل اور گیس کی نئی دریافت کا اعلان کیا ہے۔

    کمپنی کے مطابق، بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز میں 100 فیصد حصہ رکھنے والی او جی ڈی سی ایل نے ’بوبی ڈیپ-1‘ سے ہائیڈروکاربن کے ذخائر دریافت کیے ہیں۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے متعلقہ ٹیسٹوں کے دوران یومیہ 2,000 بیرل خام تیل اور 1.1 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہوئی ہے۔اعلامیے کے مطابق ٹیسٹ کے وقت ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر 1,050 پی ایس آئی ریکارڈ کیا گیا۔

    او جی ڈی سی کے مطابق کنواں 3,305 میٹر کی گہرائی تک سیمبر فارمیشن میں کمپنی کی اپنی تکنیکی اور آپریشنل صلاحیتوں کے ذریعے کھودا گیا ہے۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ دریافت بوبی اور دھمراکی مائننگ لیز میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق، اس دریافت سے ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں مقامی وسائل کے استعمال کو فروغ ملے گا جبکہ او جی ڈی سی کے ذخائر اور قومی سطح پر ہائیڈروکاربن وسائل میں بھی اضافہ ہو گا۔

    تیل و گیس شعبے کے ماہر فرحان محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان میں تیل کی دریافت کے اعداد و شمار کے مطابق 24000 بیرل خام تیل کی دریافت ہوئی ہے۔

    انھوں نے کہا تاہم یہ لازمی نہیں کہ جتنی تیل و گیس کی دریافت کا اعلان کیا جائے وہاں پیداوار بھی شروع ہو جائے، جس کی مثال موجودہ مالی سال میں 24000 بیرل میں سے صرف 2000 تک کی اب تک پیدوار کا حاصل ہونا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ توانائی شعبے کے گردشی قرضوں، سیکورٹی صورتحال اور سسٹم میں درآمدی ایل این جی کی وجہ سے تیل و گیس کی مقامی پیداوار نہیں ہو رہی تھی۔

    فرحان نے بتایا کہ ملک کی مجموعی یومیہ 350000 بیرل خام تیل کی ضرورت ہے جب کہ مقامی طور پر صرف 70000 بیرل خام تیل روزا نہ حاصل ہوتا ہے۔

  18. کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقوں میں پیٹرول کی شدید قلت, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    پیٹرول

    ،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock

    کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر علاقوں میں پیٹرول کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ مختلف علاقوں میں نہ صرف سستا ملنے والا ایرانی پیٹرول نایاب ہو گیا ہے بلکہ جہاں دستیاب ہے وہاں اس کی قیمت پاکستانی آئل کمپنیوں کے پیٹرول سے بھی زیادہ ہے۔

    پاکستانی آئل کمپنیوں کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان کے اکثر علاقوں میں ایرانی تیل فروخت ہوتا ہے۔

    عید سے قبل کوئٹہ میں ایرانی پیٹرول 280 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا لیکن عید سے تین چار روز پہلے اس کی فی لیٹر قیمت 380 روپے تک پہنچ گئی۔ اور اب یہ اس نرخ پر بھی دستیاب نہیں ہے۔

    ریلوے کالونی کوئٹہ کے ایک رہائشی بسم اللہ بلوچ نے بتایا کہ ایرانی پیٹرول اس وقت کوئٹہ میں 400 روپے فی لیٹر سے زائد میں فروخت ہورہا ہے۔

    ایک جانب ایرانی پیٹرول مہنگا ہو گیا ہے دوسری جانب پاکستانی آئل کمپنیوں کے پیٹرول پمپس پر پیٹرول دستیاب ہی نہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے شہر میں تیل کی قلت کا نوٹس لیا ہے اور زیادہ قیمت پر تیل فروخت کرنے والے منی پیٹرول پمپس کے خلاف کارروائی کرکے گرفتاریاں کی گئی ہیں۔

    ایرانی سرحد سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ماشکیل شہر کے تاجر رہنما میر کبیر احمد ریکی نے بتایا کہ قلت کے باعث وہاں ایرانی پیٹرول 500 روپے فی لیٹر سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ماشکیل میں ایران آمد و رفت کے کراسنگ پوائنٹ سے صرف ایرانی ڈیزل لانے کی اجازت ہے، جبکہ پیٹرول کی ترسیل پنجگور کے چیدگی کراسنگ پوائنٹ اور چاغی کے راغے کراسنگ پوائنٹ سے ہوتی ہے۔ ان کے مطابق عید کی تعطیلات کے باعث بارڈر بند ہونے سے پیٹرول کی سپلائی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں قلت پیدا ہو گئی ہے۔

    اگرچہ ایران سے ملحق اضلاع کیچ اور گوادر میں ایرانی پیٹرول کی قیمتیں دیگر علاقوں کے مقابلے میں کم ہیں، تاہم قلت کے باعث وہاں بھی نرخ پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہو گئے ہیں۔

    ضلع کیچ کے صدر مقام تربت میں تیل کے کاروبار سے وابستہ وارث رند نے بتایا کہ تربت میں ایرانی پیٹرول 340 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو برسوں سے ضلع کیچ میں ایران سے پیٹرول نہیں بلکہ صرف ڈیزل آ رہا ہے، اور پیٹرول کے لیے انحصار گوادر پر ہے۔ چونکہ کنٹانی بارڈر سے سپلائی بند ہے اور دیگر راستوں سے آنے والی مقدار محدود ہے، اس لیے طلب پوری نہیں ہو رہی۔

    گوادر میں منگل کے روز ایرانی پیٹرول 260 سے 270 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا۔ گوادر میں تیل کے کاروبار سے وابستہ ایک تاجر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کنٹانی بارڈر سے عید سے قبل بعض وجوہات کی بنا پر تیل کی ترسیل روک دی گئی تھی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ دیگر راستوں سے آنے والا تیل صرف گوادر کی ضروریات پوری کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کیچ اور دیگر اضلاع میں پیٹرول کی سپلائی متاثر ہونے سے قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

  19. علیمہ خان کی تجویز کے بعد خیبرپختونخوا میں صوبائی بجٹ سے متعلق خدشات: ’ہمارے پاس 29 جون تک کا وقت ہے‘, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور

    عمران خان کی بہن علیمہ خان ، وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    خیبرپختونخوا حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلام کا کہنا ہے کہ صوبائی بجٹ تیار ہے تاہم اس کو پیش کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کریں گے اور جب اُن کی جانب سے اس ضمن میں ہدایت ملے گی تو بجٹ پیش کر دیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے دیے گئے ایک حالیہ بیان کے بعد خیبر پختونخوا میں سالانہ بجٹ پیش کرنے یا نہ کرنے سے متعلق بحث کا آغاز ہوا ہے۔

    علیمہ خان کی جانب سے مطالبات کی منظوری تک وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو صوبائی بجٹ پیش نہ کرنے کی تجویز دی گئی تھی جبکہ سہیل آفریدی نے بھی بجٹ پیش کرنے سے قبل عمران خان سے ملاقات کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

    وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے دن بھی اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم صوبائی حکومت کے مشیر خزانہ مزمل اسلام نے بی بی سی کو بتایا کہ بجٹ پیش کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وزیر اعلی کریں گے۔

    مزمل اسلم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگرچہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کو اس کے حصے کی رقم ادا نہیں کی جا رہی، لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت اپنا بجٹ پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

    سہیل آفریدی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ ان کی اور صوبائی مشیر خزانہ کی عمران خان سے ملاقات کروائی جائے تاکہ وہ بجٹ کے بارے میں عمران خان کی رائے لے سکیں۔

    اُن کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے عمران خان کو مینڈیٹ دیا ہے اور صوبے میں قائم حکومت بھی انہی کے اعتماد کی بنیاد پر قائم ہے، لہٰذا آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق دستاویزات اُن کے ساتھ شیئر کرنا اور ان کی رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا اور باقاعدہ پٹیشن دائر کی جائے گی۔

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے مزید کہا تھا کہ ’اگر ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی اور عمران خان سے ملاقات کا حق مسلسل سلب کیا جاتا رہا، تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

    س بارے میں جب پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور سابق وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی سے رابطہ قائم کیا تو ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وقت پر بجٹ پیش کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ علیمہ خان کی جانب سے ایک تجویز پیش کی گئی ہے جس پر غور کیا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ وزیر اعلی کی کوشش ہے کہ وہ بجٹ کے بارے میں عمران خان سے ملاقات کریں تاکہ ان سے مشاورت کے بعد بجٹ پیش کیا جائے اور اس کے لیے وزیر اعلی کوششیں کر رہے ہیں۔

    جب اُن سے پوچھا گیا کہ اگر صوبائی اسمبلی بجٹ پیش کرنے میں تاخیر سے کام لیتی ہے تو اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ اس پر شوکت یوسفزئی نے کہا کہ اگر 30 جون تک بجٹ پیش نہ کیا گیا تو اس کے بعد مالیاتی بل پیش کیا جاتا ہے اور اس میں پھر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور اس میں پھر وزیر اعلی کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے یا عدم اعتماد اور گورنر راج کے امکانات ہو سکتے ہیں اور اس میں عدم اعتماد کے سلسلے میں حزب اختلاف بھی اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ انھیں معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ ضرور پیش کیا جائے گا اور اس ضمن میں ’ہمارے پاس 29 جون تک کا وقت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ وفاقی حکومت سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے پوری جدوجہد ضرور کی جائے گیگ

    یاد رہے کہ مالی سال 2024-25 میں خیبرپختونخوا حکومت نے ملک کی تاریخ میں پہلی بار وفاقی بجٹ سے پہلے اپنا صوبائی بجٹ پیش کیا تھا جو باقاعدہ طریقے سے منظور بھی ہوا تھا۔ تاہم مالی سال 2025-26 میں صورتحال بالکل مختلف رہی۔

    وزیر خزانہ آفتاب عالم نے 13 جون 2025 کو 2,119 ارب روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش تو کیا تھا، لیکن وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے حکومتی اراکین کو مطالبات زر پر ووٹنگ سے روک دیا اور واضح کیا کہ بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کے بغیر بجٹ منظور نہیں کیا جائے گا۔

    اس کشمکش کے نتیجے میں بجٹ کی منظوری کا عمل کئی روز تک مؤخر رہا اور آخرکار 24 جون کی درمیانی رات کو آئینی بحران سے بچنے کے لیے بجٹ منظور کیا گیا تھا، جبکہ اپوزیشن نے کٹوتی کی تحاریک نہ لیے جانے پر کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا۔

    وزیراعلیٰ گنڈاپور نے بعد ازاں اعتراف کیا کہ بجٹ کی منظوری میں تاخیر صوبے میں گورنر راج کا پیش خیمہ بن سکتی تھی، اس لیے آئینی ذمہ داری نبھاتے ہوئے بجٹ پاس کیا گیا۔

  20. بریکنگ, کویت میں ایرانی حملوں میں متعدد افراد زخمی، فضائی آپریشن معطل

    کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک میں فضائی ٹریفک اور پروازوں کو عارضی طور پر معطل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ٹرمینل ون ایرانی حملوں کی زد میں آیا جس کے نتیجے میں بعض افراد زخمی ہوئے جبکہ ہوائی اڈے کے انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچا۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ مسافروں کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے متعدد پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی جانب منتقل کیا جا رہا ہے۔

    کویتی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور سکیورٹی اقدامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ شہریوں اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    کویت کی وزارت دفاع کے سرکاری ترجمان کرنل سعود عبدالعزیز العطوان نے بتایا کہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں آج کویت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ٹرمینل 1 کو متعدد ڈرونز نے نشانہ بنایا۔

    بیان کے مطابق ان حملوں میں کویت کے ہوائی اڈے کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی ہوئے جنھیں ضروری طبی امداد فراہم کی گئی۔

    انھوں نے تصدیق کی کہ مسلح افواج متعلقہ حکام کے ساتھ مل کر صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں اور کسی بھی پیش رفت سے نمٹنے اور ملک کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔