کویت کا ایرانی سفارتی عملے کے دو اراکین کو ’ناپسندیدہ‘ شخصیات قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہReuters
کویت کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ دفتر نے بدھ کے روز نائب وزیر خارجہ حمد سلیمان المشعان نے ایران کے سفارت خانے کے قائم مقام ناظم الامور، کونسلر حامد حمید یعقوبی فر کو طلب کیا اور انھیں ایک باضابطہ احتجاجی مراسلہ دیا گیا۔
کویت کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’مراسلے میں ایران کے حملوں پر سخت احتجاج کرتے ہوئے ایران کے سفارتی عملے کی تعداد کم کرنے اور ایرانی سفارت خانے کے دو ارکان کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے ساتھ انھیں 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔‘
نائب وزیر خارجہ کی جانب سے پر اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ اقدام اس پس منظر میں کیا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے مبینہ طور پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مسلسل اور شدید حملے کیے جا رہے ہیں، جن کی تازہ لہر بدھ کی صبح دوبارہ دیکھی گئی، جس میں متعدد شہری تنصیبات اور اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی شامل ہے۔‘
ان کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ درجنوں شہری زخمی ہوئے اور اہم تنصیبات و سفارتی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا، جو کویت کی خودمختاری، اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر (2817) کی صریح خلاف ورزی ہے۔
نائب وزیر خارجہ نے کویت کی جانب سے ان ’مجرمانہ ایرانی حملوں‘ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کویت اپنی سرزمین یا فضائی حدود کو کسی بھی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کے لیے استعمال ہونے کی قطعی طور پر اجازت نہیں دیتا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران کے بے بنیاد الزامات کسی بھی طرح درست یا شواہد پر مبنی نہیں اور ان کا بار بار اعادہ ان حملوں کا جواز فراہم نہیں کر سکتا جنھوں نے کویت کی سرزمین اور شہری و اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’کویت کو اپنی خودمختاری، سلامتی، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام ضروری اقدامات کرنے کا مکمل اور جائز حق حاصل ہے۔‘















