حامدمرزا:’ماہرقانون دان اور کھرے انسان‘

حامد علی مرزا
،تصویر کا کیپشنحامد علی مرزا کوریٹا ئرمنٹ کے بعد دو سال کے لیے کانٹریکٹ پر دوبارہ تعینات کیا گیا
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

پاکستان کے نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ حامد علی مرزا حیدرآباد سے تعلق رکھتے ہیں اور سول جج سے ترقی پاکر سپریم کورٹ کے جج کے عہدے پر پہنچے ہیں ، دوستوں میں ان کا شمار پروفیشنل قانون دان اور کھرے لوگوں میں کیا جاتا ہے ۔

حامد علی مرزا کے والد عبدالرحمان مرزا بھی قانون کے شعبے سے منسلک رہے۔ وہ تحریک آزادی کے رہنما اور جمنا نربدا سندھ ساگر پارٹی کے سربراہ مولانا عبیداللہ سندھی کے معتقدوں میں شامل تھے اور انگریز دور میں گرفتار ہونے والے کارکنوں کے مقدمات کی وہ مفت پیروی کیا کرتے تھے۔

والد کے برعکس جسٹس حامد مرزا کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں رہا ہے۔ وہ حیدرآباد میں پیدا ہوئے، انیس سو اکسٹھ میں سندھ یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد ایل ایل بی کیا اور کمیشن پاس کرکے سول جج بن گئے۔ انیس سو تہتر کو اسٹنٹ سیشن جج کے طور پر ترقی حاصل کی اور اس دوران سندھ کے مختلف اضلاع میں فرائض سرانجام دیتے رہے ۔

بعد میں انہیں سندھ ہائی کورٹ میں رجسٹرار تعینات کیا گیا اور انیس سو چھیانوے کو ہائی کورٹ کا جج بنایا گیا۔ جہاں سے سن دو ہزار میں ترقی پاکر سپریم کورٹ پہنچ گئے اور پانچ سال تک فرائض سرانجام دیئے ۔ دوہزار پانچ میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں مزید دوسال کے لیے کانٹریکٹ پر مقرر کیا گیا۔

ایسی کم ہی مثالیں ہیں کہ سپریم کورٹ میں کانٹریکٹ پر ججز تعینات کیے گئے ہوں۔ کانٹریکٹ پر مقرری کے بعد اپنے ماتحت ججز کے ساتھ بطور جونئیر جج فرائض سر انجام دیے ۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی معزولی کے خلاف سخت موقف رکھنے والوں میں جسٹس حامد علی مرزا بھی شامل تھے۔ اور جس بینچ نے صدارتی ریفرنس کو رد کرکے جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کیا ۔ عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے سے انک کرنے والے ججز میں ان کا نام بھی شامل ہے۔

جسٹس ریٹائرڈ حامد مرزا کے خاندان کی ایک شناخت درس و تدریس بھی ہے۔ ان کی اہلیہ ڈاو میڈیکل یونیورسٹی میں پرو فیسر ہیں جبکہ ان کے برادر نسبتی رشید شاھ سندھ یونیورسٹی اور شاہ عبدالطیف یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہ چکے ہیں جبکہ ان کے کزن پروفیسر نذیر مغل امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں سوشل سائنس کے پروفیسر تھے اور سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر بھی فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ حامد علی مرزا کی چار بیٹیاں ہیں جبکہ بیٹے نے گھریلو معاملات کی وجہ سے نوے کی دہائی میں خودکشی کرلی تھی۔ آصف مرزا فائنل ایئر ایم بی بی ایس کے طالب علم تھے۔

حامد علی مرزا الیکشن کمیشن میں سندھ کے ممبربھی رہے چکے ہیں، ان کی تقرری ایسے وقت ہوئی ہے جب الیکشن کمیشن الیکٹورل اصلاحات پر سفارشات مکمل کرچکا ہے اور انہیں منظوری کے لیےوزیر اعظم کو بھیج دیا گیا ہے ۔

ان کا کہنا ہے کہ فنی باریکیاں انصاف کی فراہمی میں بنیادی رکاوٹ ہیں انہیں نظر انداز کرنا چاہیئے۔