بونیر: ٹینک، توپ خانے کا استعمال

تازہ حملوں میں ہلاکتوں کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں
،تصویر کا کیپشنتازہ حملوں میں ہلاکتوں کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے ضلع بونیر میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز کی طرف سے طالبان کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جمعرات کو تیسرے روز بھی سلسلہ جاری ہے جس میں مشتبہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر جیٹ طیاروں اورتوپ بردار ہیلی کاپٹروں سے بمباری کی گئی ہے۔

آپریشن میں پہلی مرتبہ ٹینکوں اور بھاری توپ خانے کا استعمال کیا گیا ہے۔

بونیر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بونیر اور سوات کے سرحدی علاقوں کڑاکڑ ، سلطان وس اور نواگئی میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاہم تازہ حملوں میں ہلاکتوں کے حوالے سے مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہیں۔

ایک اعلٰی سرکاری افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ آپریشن میں جیٹ طیاروں اور توپ بردار ہیلی کاپٹروں کو استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارروائیوں میں پہلی مرتبہ ٹینکوں اور بھاری توپ سے مشتبہ طالبان کے مراکز پر حملے کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرادن اور بونیر کے سرحد پر توپ خانہ نصب کیا گیا ہے جہاں سے وقفے وقفے سےگولہ باری کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج صبح سے لڑائی میں شدت آئی ہے اور جنگجوؤں کو ہر طرف سے محاصرے میں لیا گیا ہے۔

ادھر آپریشن میں شدت آنے کی وجہ سے لوگوں نے بونیر سے نقل مکانی کا سلسلہ تیز کردیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بونیر صوابی راستہ بند ہونے کی وجہ سے لوگوں پہاڑی راستوں سے سوات اور مردان پہنچ رہے ہیں جہاں سے وہ محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کے بونیر کے صدر مقام ڈگر میں تیسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے لوگ گھروں کے اندر محصور ہوگئے ہیں۔ علاقے میں بدستور ٹیلی فون اور موبائل سروس معطل ہے۔

دریں اثناء سرحد کے وزیراطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ طالبان بونیر پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اس لیے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کرنے کی خاطر وہاں آپریشن شروع کیا گیا ہے۔

پشاور میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بونیر میں طالبان کے آنے کے بعد حکومت بار بار درخواست کرتی رہی کہ وہ علاقے سے نکل جائیں کیونکہ یہ امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے مگر وعدوں کے باوجود وہ علاقہ نہیں چھوڑ رہے تھے اور وہ دیر اور بونیر میں متوازی حکومت بنانا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ امن معاہدے اور نظام عدل کے اعلان کے بعد بونیر میں طالبان کی طرف سے سرگرمیاں کرنا صریحً خلاف ورزی تھی۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن میں دارلقضاء یعنی ہائی کورٹ لیول بینچ کےلیے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہے صرف ٹی این ایس ایم کے سربراہ مولانا صوفی محمد سے مشاورت ہونا باقی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ دو تین دنوں تک صوفی محمد سے رابط نہیں ہوسکا تو حکومت خود ہی درالقضاء اور نظام عدل کے باقاعدہ عمل درامد شروع کردے گی۔