نیا سردار: بےگھر بگٹی مزید فکرمند

بگٹی قبیلہ
،تصویر کا کیپشنفوجی آپریشن کے متاثرہ در بدر بگٹیوں کی ایک بڑی تعداد نے جعفرآباد اور ڈیرہ مراد جمالی میں پناہ لے رکھی ہے
    • مصنف, نثار کھوکھر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ الہیار بلوچستان
  • وقت اشاعت

بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی سے فوجی آپریشن کے بعد دربدر ہونے والے بگٹی قبیلے کے عام لوگ میر عالی کی دستار بندی پر بظاہر خوش نظر آتے ہیں مگر ان کے مخالف برہمداغ بگٹی کو بھی وہ اپنا نواب یا قبیلے کا سربراہ مانتے ہیں۔

بگٹی قبیلے کے رہنماؤں نے دو دن پہلے منگل کے روز نواب اکبر بگٹی کےایک پوتے میر عالی بگٹی کی سوئی میں دستار بندی کی ہے۔ مگر نواب اکبر بگٹی کے دوسرے پوتے اور بلوچ مزاحمت کار برہمداغ بگٹی کی جماعت نے دستار بندی کی مخالفت کی ہے۔

بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کے متاثرین بگٹی قبیلے کے عام لوگ میر عالی بگٹی کی دستار بندی کے بعد مزید فکرمند ہوگئے ہیں۔ ان دربدر بگٹیوں کی ایک بڑی اکثریت نے جعفرآباد اور ڈیرہ مراد جمالی کے قریب گھاس پھوس کی بنی جھگیوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

ان پناہ گزینوں سے جب بات ہوئی تو اکثر بگٹیوں نے کھل کر بات کرنے سے گریز کیا اور کہا ہے کہ دو ہاتھیوں کی لڑائی میں ان کی حیثیت گھاس کی سی ہے، جیت کسی کی بھی ہو لیکن گھاس کو تو کچلا جانا ہے۔

ان بے گھر بگٹیوں کے ایک رہنماء نے اپنا نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ میر عالی کی حمایت کریں گے تو صبح کو ان کے گھر کے سامنے بارودی سرنگیں بچھی ہونگی اور اگر وہ برہمداغ کی حمایت کرتے ہیں تو حکومتی ایجنسیوں کے اہلکار انہیں لاپتہ بنا دیں گے۔ وہ فکرمند ہیں کہ سرکار عالی اور برہمداغ میں سے وہ کس کی حمایت کریں۔

ڈیرہ الہیار میں برہمداغ بگٹی کی جماعت بلوچ ریپبلکن پارٹی کے جھنڈے جگہ جگہ لگے ہوئے ہیں اور دیواروں پر برہمداغ کی حمایت میں کی گئی چاکنگ تاحال موجود ہے جبکہ میر عالی کے حامیوں کی بھی ایک تعداد ڈیرہ میں موجود ہے۔

نواب اکبر بگٹی کے دونوں پوتوں کے حامی شہر میں موجود ہیں مگر وہ کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہیں اور اگر کوئی بات کرنے پر رضامند ہو بھی جائے تو وہ ایک نوجوان میراں بخش بگٹی کی طرح بات کرتا ہے۔

میراں بخش نے بتایا ہے کہ نواب عالی بگٹی ان کے قبیلے کے تیئسویں نواب بن چکے ہیں وہ اپنے قبیلے کا خیال رکھیں گے اور برہمداغ بھی مزاحمت کر رہے ہیں۔ وہ پورے بلوچستان کا خیال رکھیں گے۔ ’ہماری نظر میں تو وہ بھی نواب ہیں اور عالی بھی نواب ہیں۔‘

دربدر بگٹیوں کے ایک رہنماء عیسٰی بگٹی نے اپنی جھونپڑی میں بتایا کہ وہ نوابی پر بات نہیں کریں گے مگر وہ اپنے علاقے ڈیرہ بگٹی واپس جانے کے منتظر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ دربدر بگٹیوں کی بحالی کے لیے اور ان کے نقصانات کا معاوضہ ادا کرنے کے لیے حکومت کیا کرتی ہے اور اگر حکومتی اقدامات انہیں نظر آگئے تو وہ اپنے علاقوں کی طرف واپس روانہ ہوجائیں گے۔

دیواروں پر نواب اکبر بگٹی کے دوسرے پوتے اور بلوچ مزاحمت کار برہمداغ بگٹی کی حمایت میں کی گئی چاکنگ تاحال موجود ہے
،تصویر کا کیپشندیواروں پر نواب اکبر بگٹی کے دوسرے پوتے اور بلوچ مزاحمت کار برہمداغ بگٹی کی حمایت میں کی گئی چاکنگ تاحال موجود ہے

بلوچستان کے بعض علاقوں میں عام تاثر یہ ہے کہ میر عالی بگٹی کی دستار بندی حکومتی خفیہ ایجنسیوں کی حمایت سے ہوئی ہے اور سوئی میں دستار بندی کی تقریب کے انتظامات حکومتی اہلکاروں نے سنبھال رکھے تھے۔

جبکہ میر عالی بگٹی کے ایک حامی میراں بخش نے اس تاثر کو غلط قرار دیا اور کہا کہ میر عالی سرکاری حمایت سے نہیں بلکہ اپنے قبیلے کی خدمت کرنے خود سوئی آئے ہیں۔

بگٹی قبیلے کے بزرگ کہتے ہیں بگٹیوں کا نواب یا قبیلے کا سربراہ جو بن گیا سو بن گیا اس پر بعد میں مزید تنازعہ نہیں ہوتا۔ اس سلسلے میں ایک مثال خود نواب اکبر بگٹی کی دی جا رہی ہے کہ انہوں نے اپنے والد کی وفات کے بعد بڑے بھائی عبدالرحمان بگٹی کو نواب نہیں بننے دیا اور بارہ بر س کی عمر میں خود نواب بن گئے۔ بعد میں عبدالرحمان نے ڈیرہ بگٹی چھوڑ کر جیکب آباد میں رہائش اختیار کی تھی۔

نواب اکبر بگٹی کی تین شادیوں میں سے ان کے چھ بیٹے ہیں جن میں سلیم، ریحان، سلال، طلال، جمیل اور شہزور شامل ہیں۔ میر عالی ان کے بڑے صاحبزادے سلیم بگٹی کے بیٹے ہیں جبکہ برہمداغ ان کے دوسرے بڑے بیٹے ریحان بگٹی کے بیٹے ہیں۔

گزشتہ کئی برسوں سے حالت جنگ میں رہنے والے بگٹی قبیلے کا تیئسواں نواب بننا میر عالی کے لیے ایک بہت بڑا چیلینج ثابت ہوا ہے۔ مگر عام بگٹی منتظر ہیں کہ برہمداغ کا کیا ردعمل کھل کر سامنے آتا ہے اور عام بے گھر بگٹی کس طرح اپنے علاقوں میں دوبارہ آباد ہوسکتے ہیں۔