دیر: سات مشتبہ طالبان ہلاک

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع دیر بالا میں حکام کا کہنا ہے کہ قومی لشکر نے ایک کارروائی کے دوران سات مشتبہ طالبان کو ہلاک کردیا ہے۔ تاہم بعض ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کو مبینہ طور پر پولیس کے تحویل میں ہلاک کیا گیا ہے۔
پولیس تھانہ شرینگل کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دیر قومی لشکر نے ڈوگ درہ کے علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہے اور سنیچر کی رات ایک تازہ کاروائی میں سات مزید مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کارروائی میں ایک عسکریت پسند زخمی ہوا جس کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ دو دن پہلے دیر بالا سے فرار ہونے والے نو عسکریت پسندوں کو چترال پولیس نے دروش کے علاقے سے گرفتار کرکے دیر پولیس کے حوالے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سنیچر کی رات ان عسکریت پسندوں میں سات کی لاشیں پتھراک کے علاقے سے ملی تھیں
ایک عینی شاہد نے بتایا کہ گرفتار شدہ عسکریت پسندوں کو پولیس کی تحویل میں ہلاک کیا گیا ہے تاہم سرکاری طورپر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک افغان جنگجو بھی شامل ہے۔
ادھر چترال پولیس نے بھی تصدیق کی ہے کہ دو دن پہلے دیر بالا سے فرار ہونے والے نو عسکریت پسندوں کو گرفتار کرکے سنیچر کو دیر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔
مقامی لوگوں کے مطابق ہلاک ہونے والے تمام سات عسکریت پسندوں کی لاشیں تھانہ شرینگل کے سامنے چارپائیوں پر بدستور پڑی ہوئی ہیں۔
ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ جب قومی لشکر کو عسکریت پسندوں کی گرفتاری کا علم ہوا تو انہوں نے مبینہ طورپر پولیس کی مدد سے جنگجوؤں کو تھانے کے قریب ایک علاقے میں لے جاکر وہاں باری باری گولیاں مار کر سب کو قتل کردیا۔
یاد رہے کہ دو ہفتے قبل دیر بالا کے علاقے حیا گئی میں ایک مسجد میں ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں چالیس کے قریب افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہوئے تھے۔ مقامی لوگوں نے اس دھماکے کا الزام پہاڑی علاقے ڈوگ درہ میں سرگرم مقامی طالبان پر عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف لشکر تشکیل دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی






















