دیر: ’لشکر کا اہم طالبان مرکز پر قبضہ‘

- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
صوبہ سرحد کے ضلع دیر بالا میں حکام کے مطابق مقامی لوگوں پر مشتمل حکومت کے حامی قومی لشکر نے مقامی طالبان کے ایک اہم مرکز شاٹ کس پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ لڑائی میں چھ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔
تھانہ شرینگل دیر بالا کے ایک اہلکار رحیم گل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پیر کی شام قومی لشکر نے طالبان کے ایک اہم مرکز شاٹ کس پر کنٹرول حاصل کرکے وہاں سے شدت پسندوں کو نکال دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لشکر نے اس کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے گیارہ کے قریب مکانات اور تربیتی مراکز کو آگ لگاکر تباہ کردیا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا کہ گزشتہ شام سے جاری لڑائی میں اب تک چھ شدت پسند مارے جاچکے ہیں جبکہ سات زخمی بتائے گئے ہیں۔ جھڑپوں میں لشکر کے دو رضاکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔تاہم سرکاری طور پر ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قومی لشکر نے کئی دنوں کی لڑائی کے بعد غازگئی کے آس پاس واقع تمام علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ ان کے مطابق عسکریت پسندوں کو اب غازگئی کے علاقے تک محدود کردیاگیا ہے۔
بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ لشکر نے غازگئی کے کچھ مقامات پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا ہے تاہم مقامی طور پر اس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔
واضح رہے کہ دیر بالا کے علاقے حیاگئی میں اس ماہ کے شروع میں ایک مسجد پر ہونے والے خودکش حملے میں چالیس کے قریب عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔ اس دھماکے میں بچے بھی مارے گئے تھے۔ مقامی لوگوں نے اس دھماکے کی ذمہ داری ڈوگ درہ کے علاقے میں سرگرم مقامی طالبان پر عائد کرتے ہوئے ان کے خلاف قومی لشکر تشکیل دیا اور ان کے خلاف کاروائیاں شروع کی تھیں۔ اس لشکر کو حکومت کی حمایت بھی حاصل ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق ان کارروائیوں میں اب تک کئی شدت پسند مارے گئے ہیں جبکہ درجنوں مکانات اور تربیتی مراکز کو تباہ کیا جاچکا ہے۔


















