ڈی آئی خان: قتل کے بعد کشیدگی

ڈیرہ اسماعیل خان
،تصویر کا کیپشنڈیرہ اسماعیل خان شیعہ سنی فسادات کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

صوبہ سرحد کے جنوبی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے سُنی مسلک سے تعلق رکھنے والےمعروف تاجر کی ہلاکت کے بعد بازار بند ہیں اور شہر میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اتوار کو توپ نوالہ بازار میں دو نامعلوم افراد نے ایک سنی کی دکان پر خودکار ہھتیار سے حملہ کیا جس کے نتیجہ میں معروف تاجر محمد شریف موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔ اس کے بعد بازار غیر اعلانیہ طوپر بند ہوگیا ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری شہر میں پہنچ گئی ہے۔ پولیس کے مطابق اس واقعہ سے دو دن پہلے مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں سُنی اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے عمائدین کے درمیان ایک امن معاہدہ ہوا تھا۔ لیکن معاہدے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے ہیں۔

پولیس کے ایک اہلکار عبدالرشید نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ تین دنوں میں تین افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں ایف سی اور پولیس کی نفری میں اضافہ کردیاگیا ہے اور ڈیرہ سرکلر روڈ پر پولیس نے گشت شروع کردیا ہے۔ پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ شہر میں حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور شہر سے باہر تمام تھانوں سے ایس ایچ او سیمت پولیس کی بھاری نفری پہلے ہی سے شہر میں تعینات کی گئی ہے۔

ڈیرہ اسماعیل خان شیعہ سنی فسادات کے لحاظ سے انتہائی حساس ہے اور گزشتہ چند ماہ کے دوران ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے کئی لوگ ڈیرہ اسماعیل خان سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔گزشتہ چند مہینوں میں درجنوں خاندان ڈیرہ اسماعیل خان چھوڑ چکے ہیں۔