ٹارگٹ کلنگ کی عدالتی تحقیقات

رحمان ملک(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشنآج کے بعد کراچی میں کوئی ٹارگٹ کلنگ نظر آئی تو دیکھیے گا کہ کیا ایکشن ہوتا ہے‘
وقت اشاعت

کراچی میں جاری سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات روکنے کے لیے ایجنسیوں کا کردار بڑھا دیا گیا ہے، رینجرز کو تلاشی کے اختیارات دیے جا رہے ہیں اور کرائسز مینجمنٹ سیل کا ڈائریکٹوریٹ قائم جائے گا۔

کراچی میں منگل کی شام گورنر ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاھ سے ملاقات اور امن امان کے بارے میں اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’آج کے بعد کراچی میں کوئی ٹارگٹ کلنگ نظر آئی تو دیکھیے گا کہ کیا ایکشن ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ رینجرز کے تلاشی کے اختیارات میں اضافہ کیا جا رہا ہے، کسی معلومات کی بنیاد پر رینجرز کا انسداد دہشت گردی یونٹ پولیس کی موجودگی میں تلاشی لے سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس تلاشی کے دوران کسی کو ہرگز ہراساں نہیں کیا جائے گا۔

رحمان ملک کا کہنا تھا کہ جب کسی کو پتہ ہے کہ کسی جماعت کے دو دھڑے ہیں ان میں لڑائی کروا کر ان کے کارکنوں کو ہلاک کر کے تیسری جماعت فائدہ اٹھاتی ہے۔

’برے لوگ ہر جماعت میں ہوتے ہیں اس لیے ہم ان سے سختی سے نمٹنے جا رہے ہیں، پھر چاہے وہ پیپلز پارٹی میں ہوں، اے این پی ، ایم کیو ایم ، حقیقی یا سنی تحریک میں کیوں نہ ہو، ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

وفاقی وزیر نے بتایا کہ کراچی میں بھی کرائسز مئیجمنٹ سیل کا ڈائریکٹوریٹ قائم کیا جائے گا، جو روزانہ انٹیلی جنس معلومات متعلقہ محکموں کو بھیجا کرے گا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ٹارگٹ کلنگ کے حالیہ واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے گا۔ یہ ایک نہایت غلط اور شرمناک عمل ہے، ان واقعات میں ملوث عناصر کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

رحمان ملک نے بتایا کہ جن عناصر نے صوبہ سرحد سے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی ان کے کچھ اثرات یہاں بھی نظر آتے ہیں انہیں پاک صاف کیا جائے گا چاہے۔

اس موقعے پر موجود گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کا کہنا تھا کہ کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ پر سب کو ہی تشویش ہے، اس حوالے سے اقدامات کیے گئے ہیں اور مزید کیے جائیں گے۔

’سیاسی اور انتظامی مدد سے ایک نظام بنانا چاہتے ہیں اس قسم کے واقعات کا تداراک کیا جاسکے، جو لوگ اس میں ملوث ہیں انہیں بے نقاب کیا جاسکے۔‘