بیت اللہ کا جانشین کون؟

حکیم اللہ
،تصویر کا کیپشنبیت اللہ کے جانشین کے لیے حکیم اللہ محسود کا نام بھی شامل ہے
    • مصنف, عبدالحئی کاکڑ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت

تحریک طالبان کے سربراہ بیت اللہ محسود کی ہلاکت کی سرکاری تصدیق ہو چکی ہے اور ذرائع کے مطابق اس وقت جنوبی وزیرستان میں طالبان رہنماؤں کا اجلاس جاری ہے جس میں ان کے جانشین کے انتخاب کے لیے تین نام زیر غور ہیں۔

جن ناموں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں حکیم اللہ محسود، عظمت اللہ محسود اور مفتی ولی الرحمٰن شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تینوں میں سے کسی بھی شخص کی تقرری کا تنظیم کے مستبقل پر گہرے اثرات اس لیے مرتب ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ان تینوں کا تعلق طالبان کے اندر دو الگ الگ گروپوں اور قبیلوں سے ہے۔

مفتی ولی الرحمٰن محسود

مفتی ولی الرحمٰن کا تعلق جنوبی وزیرستان سے ہے اور ان کی عمر پینتیس سال کے قریب بتائی جارہی ہے۔ وہ طالبان شوریٰ کے رکن ہیں اور آج کل بیت اللہ محسود کے ترجمان کے طور پر کام کررہے تھے۔ ان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ بیت اللہ محسود کے مقابلے میں انہیں طالبان حلقوں میں علمی لحاظ سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

حکیم اللہ محسود

جنوبی وزیرستان میں جاری شدت پسندی کے حوالے سے بیت اللہ کے بعد جس طالبان کمانڈر کو زیادہ شہرت ملی ہے وہ حکیم اللہ محسود ہیں۔ انہیں بیت اللہ کا دستِ راست سمجھا جاتا رہا ہے۔ ان کی عمر تیس سال کے قریب ہے۔ وہ آجکل کرم، اورکزئی اور خیبر ایجنسی کے کمانڈر ہیں۔

ان پر کرم میں ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات اور خیبر ایجنسی سے نیٹو فورسز کی گزرنے والی گاڑیوں پر حملوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ جب پہلی بار بیت اللہ محسود منظر عام پر آئے تھے تو وہ ذوالفقار کے نام سے ان کے ترجمان کے طور پر کام کرتے رہے۔ ان کا اصلی نام جمشید ہے اور گھر میں انہیں جمو کہہ کر پکارا جاتا ہے۔

عظمت اللہ محسود

عظمت اللہ محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کے بروند علاقے سے ہے اور ان کی عمر تیس اور پینتیس سال کے درمیان بتائی جارہی ہے۔ ان کا تعلق بیت اللہ محسود کے قبیلے شابی خیل سے ہے۔ ان کا نام میڈیا میں پہلی بار سامنے آیا ہے۔ ان کی زیادہ تر کارروائیاں جنوبی وزیرستان، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل محدود رہی ہیں۔