مہمند:امن کمیٹی سربراہ ہلاک

قبائلی لشکر
،تصویر کا کیپشنطالبان کے خلاف لڑائی کے لیے مقامی افراد پر مشتمل لشکر بنائے گئے ہیں
    • مصنف, دلاور خان وزیر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام،وانا جنوبی وزیرستان
  • وقت اشاعت

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں امن کمیٹی اور عسکریت پسندوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئی ہیں جس کے نتیجہ میں امن کمیٹی کے سربراہ سمیت دس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں امن کمیٹی کے چار رضا کار اور چھ شدت پسند شامل ہیں۔

مہمند ایجنسی میں پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اعلی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گزشتہ رات ایک بجے کے قریب تحصیل خویزئی کے گاؤں وچہ ژاورہ میں مقامی عسکریت پسندوں نے امن کمیٹی کے سربراہ ملک اجمل خان اور ان کے ساتھیوں کے گھروں پر راکٹوں اور خود کار ہھتیاروں سے حملہ کیا جس کے بعد امن کمیٹی کے رضا کاروں نے بھی جوابی کارروائی شروع کی اور تین گھنٹوں تک جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے حملے میں امن کمیٹی کے تین رضا کار موقع پر ہلاک جبکہ ملک اجمل ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسے۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ جوابی کارروائی میں چھ شدت پسند بھی مارے گئے ہیں اور نو شدت پسند زخمی ہیں جن کو مقامی عسکریت پسندوں نے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھڑپوں کے دوران ایف سی قلعہ غلنئی سے سکیورٹی فورسز نے توپخانے سے عسکریت پسندوں کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں کئی ٹھکانے تباہ ہوگئے ہیں۔

گزشتہ روز بھی مہمند ایجنسی کی تحصیل لکڑو میں مولانا شہزاد گل اور رسول شاہ کی لاشیں کندارو کے قریب سے ملی تھی اور ان دونوں کو گلا کاٹ کر ہلاک کیا گیا تھا۔

مولانا شہزادگل مہمند ایجنسی میں مقامی طالبان کے ایک کمانڈر تھے لیکن کچھ عرصہ پہلے ایک قبائلی جرگے کے ذریعے انہوں نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے جبکہ پچاس سالہ رسول شاہ مہمند ایجنسی میں امن کمیٹی کے سرگرم رُکن تھے۔دونوں کی ہلاکت کی ذمہ داری مقامی طالبان نے قبول کی تھی۔