چینی ناپید، ذخیرہ اندازوں کےخلاف کارروائی

پاکستان کے بااثر سیاستدان شوگر ملوں کے مالک ہیں
،تصویر کا کیپشنپاکستان کے بااثر سیاستدان شوگر ملوں کے مالک ہیں
    • مصنف, عباد الحق
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
  • وقت اشاعت

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں چینی کی قلت کو ختم کرنے کے لیے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران صوبے کے مختلف شہروں میں گوداموں پر چھاپہ مار کر وہاں سے چینی کی لاکھوں بوریاں برآمد کی گئیں۔

دوسری جانب سے پنجاب کی شوگر ملز ایسوسی ایشن کا اجلاس طلب کرلیا گیا جو سترہ اگست کو لاہور میں ہوگا۔اس اجلاس میں صورت حال جائزہ لیا جائے گا اور آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔

وزیراعلٰی پنجاب کی ہدایت پر شروع کی جانے والی اس کارروائی کے دوران مختلف شہروں میں انتظامیہ حرکت میں آئی اور گوداموں میں چھاپے مار کر وہاں چینی کی بوریاں برآمد کیں اور ان گوداموں کو سربمہر کردیا۔

صوبائی وزیر خوراک ندیم کامران کے بقول گوداموں سے چینی کی جو بوریاں برآمد ہوئی ہیں اب وہ انتظامیہ کے کنٹرول میں ہیں۔

ادھر وفاقی وزیر صنعت و پیداوار منظور وٹو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ چینی کے بحران پر قابو پانے کے لیے چینی درآمد کی جا رہی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سوا لاکھ ٹن چینی درآمد کی جا رہی ہے جبکہ مزید ایک لاکھ ٹن چینی درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔

ان کا کہناہے کہ یہ کارروائی مل مالکان کے خلاف نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ماہ رمضان کے دوران یوٹیلٹی سٹورز سے چینی 38 روپے کلو ملے گی۔

وفاقی وزیر صعنت نے چینی کے بحران پر قابو پانے کے لیے مل مالکان کا اجلاس اٹھارہ اگست کو بلایا ہے۔

دوسری جانب سابق وزیر تجارت ہمایوں اخترخان نے کہا کہ چینی کے بحران کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر ہے۔ ان کے بقول اس مرتبہ پیدا وار کم ہونے کی وجہ سے مارچ میں ہی چینی برآمد کی جانی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں کیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اب جو چینی درآمد کر رہی ہے اس پر کسٹم اگر صفر فی صد بھی ہو توبھی مارکیٹ میں چینی 65 روپے کلو سے کم پر دستیاب نہیں ہوگی۔

چینی کے بحران پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو انیس اگست کو طلب کر کیا ہے۔