نیا ریستوران تنازعے کا شکار

- مصنف, ہارون رشید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے انتہائی سکیورٹی والے سفارتی علاقے ڈپلومیٹک انکلیو میں نیا فرانسیسی ریستوران تنازعہ کا شکار ہوگیا ہے۔
شہری حکام اس پر پاکستانیوں کو داخلے کی اجازت نہ دینے کا الزام عائد کر رہے ہیں جبکہ ریستوراں انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ پابندی محض رمضان کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔
چند روز قبل ہی شروع ہونے والے ’کورڈن روج‘ نامی یہ ریستوران ایک پاکستانی اور فرانسیسی شہری کا مشترکہ کاروبار ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہوٹل انتظامیہ نے صدر دروازے پر ’فار فارنرز اونلی‘ اور ’رائٹ آف ایڈمشن ریزروڈ‘ کے نوٹس آویزاں کر رکھے ہیں۔ بعض ناقدین کے مطابق یہ امتیازی سلوک ہے جس کی ڈپلومیٹک انکلیو میں بسنے والے ’تہذیب یافتہ‘ افراد سے توقع نہیں کی جا رہی تھی۔
اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے ممبر سٹیٹ بریگیڈیر (ر) اسد منیر کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیقات کے مطابق یہ ریستوران نہ صرف امتیازی پالیسی اپنائے ہوئے ہے بلکہ اس کی غیرقانونی تعمیر بھی رہائشی علاقے میں بنیادی طور پر ایک کلینک کے لیے مختص پلاٹ پر ہوئی ہے۔
انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ امکان ہے کہ اس ریستوران کو کل (بدھ) کو نوٹس جاری کر دیا جائے گا جس میں اسے پندرہ روز میں بند کرنے کی مہلت دی جائے گی۔ ان کے مطابق اس کے علاوہ اس پر جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے۔
یہ ریستوران ایک تہہ خانے میں قائم کیا گیا ہے جس میں ایک وقت میں تیس افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔
تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کورڈن روج کے فرانسیسی مالک جان لکس نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس تمام سرکاری اجازت نامے موجود ہیں۔ البتہ پاکستانیوں پر پابندی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ نوٹس ماہ رمضان کو مدنطر رکھتے ہوئے لگایا گیا تھا۔’یہ مستقل نوٹس نہیں ہے۔ ہمارے پاس اسلام آباد کے مجسٹریٹ کا رمضان میں صرف غیرمسلموں کے لیے ہوٹل کھلا رکھنے کا اجازت نامہ ہے۔ ہمارے ساتھ پاکستانی بھی ہیں۔ میرا پارٹنر بھی پاکستانی ہے۔‘
انہوں نے سی ڈی اے کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ ان کے پاس اس پلاٹ پر کاروبار شروع کرنے کی اجازت نہیں۔ ’یہ شاید اسلام آباد میں واحد جگہ ہے جس کا کمرشل لائسنس بھی موجود ہے۔ میرے پاس سی ڈی اے کی دستاویزات ہیں جن میں اسے کمرشل عمارت قرار دیا گیا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جان لکس کو شک ہے کہ یہ سارا تنازعہ کسی ناراض ہمسائے کی کارستانی ہوسکتی ہے جسے مناسب لباس نہ پہننے کی وجہ سے ریستوران میں نہیں آنے دیا گیا ہو اور اب وہ اس کا انتقام لینا چاہتا ہو۔ ان کا کہنا تھا: ’ایسا تو پاکستان میں ہوتا ہے۔‘
یاد رہے کہ ڈپلومیٹک انکلیو میں عام پاکستانی شہری کے لیے داخل ہونا ویسے ہی نہایت دشوار ہے۔






















