بلوچ رہنماؤں کے ریاست پر الزام

بلوچستان نیشنل فرنٹ کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ریاستی اداروں نے یہ منصوبہ بندی کی ہے جو آزادی پسند ہیں انہیں اغوا کے بعد ایک ایک کرکے ختم کیا جائے مگر جیسے جیسے ریاست کا رویہ جارحانہ ہو رہا ہے لوگوں کے عزائم کمزور ہونے کے بجائے مضبوط ہوتے جا رہے ہیں۔
کراچی میں بلوچستان نیشنل فرنٹ کے رہنما عبدالوہاب بلوچ، بلوچ نیشنل موومنٹ کے قائم مقام صدر آسا ظفر بلوچ، بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزئیشن آزاد کے رہنما زاہد گل نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بی این ایم کے رہنما رسول بخش مینگل کی ہلاکت کی مذمت کی۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچ قومی آزادی کی جدوجہد میں شدت آنے اور بلوچ سرفروشوں کے خلاف کارروائیوں میں پسپائی کے بعد اب پاکستانی خفیہ ادارے نے غیر مسلح بلوچ حریت پسند سیاسی کارکنوں کو اغوا کرنے کے بعد ہلاک کرنے کا نیا سلسلہ شروع کرچکے ہیں ۔
بلوچ نیشنل موومنٹ کے قائم مقام صدر آسا ظفر بلوچ نے رسول بخش مینگل کی لاش وصول کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ لاش چوبیس گھنٹے پرانی ہے جو مسخ شدہ تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے ’جسم کو سگریٹ سے داغا گیا تھا اور کسی نوکدار چیز کے ذریعے سوراخ کیے گئے تھے، سیدھے طرف بوٹ کا واضح نشان موجود تھا جو لات مارنے سے ہوا تھا، جب کہ گلے میں رسی کا نشان تھا اور زبان نکلی ہوئی تھی‘۔
ان کے مطابق پولیس نے انہیں بتایا کہ جب لاش ملی تو آنکھوں پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور کپڑا بھی وہ تھا جو گاڑیوں کی صفائی کے لیے استعمال ہوتا ہے، اس برے طریقے سے تشدد سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ذاتی دشمنی ہو۔
بلوچ رہنماؤں کے مطابق اس وقت ذاکر مجید، جلیل ریکی، ڈاکٹر دین محمد، مشتاق بلوچ، مجیب بلوچ اور اقبال بلوچ سمیت بی آر پی کے ایک سو پچاس، بی این ایم کے ایک سو تیس اور بی ایس او آزاد کے دو سو کارکن عقبوت خانوں میں تشدد کا شکار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی لاپتہ کارکنوں کی درخواستیں عدالتوں میں زیر سماعت ہیں مگر چیف جسٹس افتخار محمد چوھری کی بحالی کے باوجود کسی ایک درخواست پر پیشی نہیں ہوئی ’جسٹس افتخار محمد چودھری جب کراچی بار میں آئے تھے تو انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ زرینہ مری واقعے کا از خود نوٹس لیں گے انہیں اس کا انتظار ہے مگر دوسری طرف خاموشی ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ پیرکو کراچی سے ملحقہ بلوچستان کے شہر بیلہ کے قریب بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ڈپٹی سکریٹری جنرل رسول بخش مینگل کی مسخ شدہ لاش ملی تھی، اس سے قبل تین اپریل کو تربت کے علاقے سے بی این ایم کے سربراہ غلام محمد بلوچ، شیرمحمد بلوچ اور لالا منیر کی لاشیں ملی تھیں۔
عبدالوہاب بلوچ، آسا ظفر بلوچ اور زاہد گل نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ بلوچوں کی نسل کشی کے اس غیر انسانی عمل کا نوٹس لی جائے اور بلوچستان سے قبضہ ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کیا جائے۔






















