’شوہروں سے زیادہ فضل اللہ کا احترام کرتے تھے‘

- مصنف, عبدالحئی کاکڑ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
- وقت اشاعت
پاکستان کے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں پچھلے کئی سالوں سے جاری تشدد کی لہر نے نہ صرف لوگوں کے ذہنوں میں ملک کی ’سلامتی‘ کے بارے میں خدشات پیدا کیے ہیں بلکہ اس کی کوکھ سے جنم لینے والے المیے متاثرہ افراد کی زندگیوں کے ساتھ ہمیشہ کے لیے نتھی ہو چکے ہیں۔ طالبان اور سکیورٹی فورسز کے مابین لڑائی سے جنم لینے والے انسانی المیوں کے مختلف پہلووں کو صحافت کے تنگ دامن میں یا تو سرے سے جگہ ہی نہیں مل سکی اور اگر ملی بھی تو اس طرح نہیں جس طرح سے یہ واقعات رونما ہوئے اور یوں حقیقی کہانیاں صحافتی مقابلے کی دوڑ کے ملبے میں کہیں دفن ہوگئیں۔
پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ جنگ زدہ افراد یا خاندانوں پر بیتی ہوئی انہی کہانیوں کی کھوج میں ہیں جنہیں بی بی سی اردو ڈاٹ کام ایک سیریز کی صورت میں شائع کر رہی ہے۔ اس سلسلے کی تیسری کہانی۔
<link type="page"><caption> جنگ کہانی: پہلی قسط</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090813_war_stories_1_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> جنگ کہانی: دوسری قسط</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090819_war_stories2_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> جنگ کہانی: تیسری قسط</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/08/090828_war_stories_3_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
سوات میں طالبان سربراہ مولانا فضل اللہ نے جب دو ہزار چار میں ایک غیر قانونی ایف ایم قائم کرکے اس پر درسِ قرآن کا آغاز کیا تو انہوں نے کچھ عرصے بعد اپنی مقبولیت میں اضافے کو دیکھ کر امام ڈھیرئی مرکز میں ایک بڑے دینی مرکز کے قیام کا اعلان کیا۔انہوں نے جب ایف ایم پر لوگوں سے چندہ دینے کی درخواست کی تو اس درخواست پر عمل کرنے میں خواتین پیش پیش رہیں۔ سوات کے ایک اعلٰی پولیس اہلکار نے ایک دفعہ مجھے بتایا تھا کہ ان کےاندازے کے مطابق سوات کی خواتین نے مجموعی طور پر ایک من سے زیادہ سونا چندے کے طورپر مولانا فضل اللہ کو دیا ہوگا۔
’جنگ نامے‘ میں ایسی ہی ایک خاتون سے بات کی گئی ہے جنہوں نے بیس تولے سونا عطیہ کیا تھا لیکن آج وہ کہہ رہی ہیں کہ وہ اور دیگر خواتین اپنے اس عمل پر پشیمان ہیں۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ زیورات دینے والی کوئی خاتون میڈیا سے بات کررہی ہے۔
بی بی حلیمہ (فرضی نام) برہ بانڈئی، اپر سوات
مولانا فضل اللہ نے جب ریڈیو پر دینی مسئلے اور قرآن کا درس دینا شروع کیا تو لوگ انہیں بہت شوق سے سنا کرتے تھے خاص طور پر ہم خواتین کیونکہ ہم تو کسی مسجد میں جا نہیں سکتے تھے اور گھر پر ہی دین کی تعلیم میسر آگئی تھی۔ تقریر کے دوران ایک دن انہوں نے کہا کہ سوات میں کوئی بڑا دینی مرکز نہیں ہے اور اگر آپ لوگ مدد کریں تو ہم ایک بڑا دینی مرکز قائم کرلیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد انہوں نے لوگوں سے اللہ کی رضا کے لیے چندہ دینے کی درخواست کی۔ اگلے ہی دن لوگوں نے مدد کرنا شروع کردی۔ کوئی بیلچہ تو کوئی برتن اور کوئی گھر میں پڑا پرانا لوہا غرض جس چیز کی ضرورت تھی وہ دے دیتے۔ہم خواتین نے چندے میں زیورات دینا شروع کردیں۔
مولانا فضل اللہ نے زیورات اور دیگر چیزیں اکھٹا کرنے کےلیے اپنے نمائندے بھیجنا شروع کردیے۔ وہ کسی محلے میں جاکر گھر گھر سے چیزیں جمع کرتے اور پھر چلے جاتے۔ میں نے لوگوں کی طرف سے دینی مرکز کے لیے عطیات کا سلسلہ دیکھ کر خود بھی اس کارِ خیر میں حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا اور اپنا بیس تولے سونا دے دیا۔ یہ سونا میرے ساتھ تیس سال سے پڑا ہوا تھا اور ایک دفعہ تو میں نے اس سے اپنے شوہر کو بھی دینے سے انکار کیا تھا۔ مولانا فضل اللہ نے جب دین کی خدمت کی بات کی تومیں نے عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
میرے دیگر رشتہ داروں اور اڑوس پڑوس کی خواتین نے بھی اپنی استطاعت کے مطابق اپنے زیورات بطور چندہ دے دیے۔ آدھے سے لے کر ستر تولے تک خواتین نے اپنے زیوارات دیے۔ میری ایک رشتہ دار خاتون جس کا میں نام لینا نہیں چاہتی نے ستر تولے سے زائد سونا دیا۔ اس خاتون کا شوہر سعودی عرب میں محنت مزدوری کرتا ہے۔ وہ جب واپس آئے اور پتہ چلا کہ ان کی بیوی نے مولانا فضل اللہ کو اپنا تمام زیور دے دیا ہے تو انہوں نے برا بھلا کہا اور طلاق دے کر اس سے اپنےگھر سے نکال دیا۔
جو لوگ امام ڈھیرئی مرکز کے لیے کوئی چیز بھی عطیہ کرتے تو مولانا فضل اللہ رات کو ریڈیو پر ان کا فرداً فرداً نام لے کر دعائیں دیتے کہ ’اللہ تعالٰی آپ لوگوں کے اس دینی جذبے کو قبول کرے‘۔ یہ سن کر ہم اور بھی خوش ہوجاتے تھے۔ ہم اپنے شوہروں کا اتنا احترام نہیں کرتے تھے جتنا مولانا فضل اللہ کا کرتے تھے۔ ہمیں کیا پتہ تھا کہ ایک دن ان کی ہی وجہ سے ہم دربدری کی زندگی گزارنی پڑے گی۔
بعد میں انہوں نے تقریر میں جہاد کی باتیں بھی شروع کردیں اور ہمارے محلے کے کچھ نوجوان بھی ان کے پاس امام ڈھیرئی مرکز گئے۔ ان میں سے کئی ہلاک ہوگئے اور کئی اب بھی جیل میں ہیں۔
ہمارے تو وہم و گمان میں ہی نہیں تھا کہ وہ ایک دن بندوق اٹھا کر حکومت کے خلاف لڑیں گے۔ جب سے ہم نے انہیں سونا دیا ہے تب سے ہم نےگھر میں خوشی کا ایک دن بھی نہیں دیکھا۔ فوجی کارروائی کے دوران جب گھر بار چھوڑ دیا تو برے دن کے لیے رکھے گئے سونے کی ضرورت پڑی مگر وہ ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ روٹی کے لیے ترس گئے تھے۔ کبھی کسی سے کوئی روٹی لے لیتے تو کسی سے خوراک کی کسی اور چیز گھر لے آتے۔ اب بھی جب ہم خواتین آپس میں ملتے ہیں تو اس بات پر پشیمانی کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم نے انہیں کیوں اپنے زیوارات دی تھیں۔
وہ خواتین جنہوں نے اپنی زیورات نہیں دیے وہ اب جب بھی ہم سے ملتی ہیں تو طعنہ دیتے ہوئے کہتی ہیں ’فضل اللہ مو مبارک شہ‘ (تمہیں فضل اللہ مبارک ہو)۔






















