پاکستانی بیروکریسی میں تبدیلیاں

یوسف رضا گیلانی
،تصویر کا کیپشنپیپلز پارٹی کی حکومت کی طرف سے بیروکریسی میں یہ پہلی بڑی تبدیلی ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے بیوروکریسی میں تبدیلیاں اور ترقیاں دی ہیں۔ اکتالیس افسران کے ترقیاں اور تبادلے کیےگئے ہیں جبکہ دو افسران کے کنٹریکٹ ختم کرکے اُنہیں برطرف کردیا ہے۔ جن افسران کے کنٹریکٹ ختم کیے گئے ہیں اُن میں سیکرٹری داخلہ سید کمال شاہ اور سیکرٹری اطلاعات اشفاق گوندل شامل ہیں۔

جن افسران کو ترقی دی گئی ہے اُن میں وفاقی تحقیاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل طارق کھوسہ، پنجاب کے چیف سیکرٹری جاوید محمود، پنجاب پولیس کے سربراہ طارق سلیم ڈوگر، موٹر وے پولیس کے سربراہ وسیم کوثر اور اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کے چیئرمین کو گریڈ 22 میں ترقی دی گئی ہے۔

وزیر اعظم کی پرنسپل سیکرٹری نرگس سیٹھی کو 22 ویں گریڈ میں ترقی دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے ایڈشنل سیکرٹری قمر زمان کو گریڈ 22 کو ترقی دیکر سیکرٹری داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔ سید کمال شاہ چار سال سے زیادہ سیکرٹری داخلہ کے عہدے پر فائض رہے اس سے پہلے وہ صوبہ سرحد، بلوچستان اور سندھ پولیس کے سربراہ بھی رہے ہیں۔

کمال شاہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے بہت قابل اعتماد ساتھی سمجھے جاتے تھے اور پیپلز پارٹی کی حکومت نے برسراقتدار آنے کے بعد وزیر داخلہ رحمان ملک کی سفارش پر اُن کے کنٹریکٹ میں غیر معینہ مدت کے لیے توسیع کردی تھی۔

وزارتِ اطلاعات کے گریڈ 21 میں تعینات افسر سہیل منصور کوترقی دیکرسیکرٹری اطلاعات مقرر کردیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اشفاق گوندل کنٹریکٹ پر سیکرٹری اطلاعات تعینات تھے۔

قومی اسمبلی میں تعینات گریڈ 21 کے افسر اشتیاق احمد کو 22 میں ترقی دیکر سیکرٹری الیکشن کمیشن تعینات کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کنٹریکٹ ختم کردیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ کے پانچ افسران کو گریڈ 22 میں ترقی دے دی گئی ہے ان میں چین میں پاکستان کے سفیر مسعود خان، آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر جلیل عباس جیلانی، جنیوا میں پاکستان کےمندوب ضمیر اکرم ، ایڈشنل سیکرٹری وزارت خارجہ ہارون شوکت اور خالد خٹک شامل ہیں۔

اڈٹ اور اکاؤنٹس کے چار افسران کو گریڈ 22 میں ترقی دی گئی ہے۔