گندے انڈوں کی بدبو میں جنسی توانائی

گندے انڈوں
،تصویر کا کیپشنگندے انڈوں سے نکلنے والی گیس ہائیڈروجن سلفائیڈ ہوتی ہے
وقت اشاعت

گندے انڈوں سے نکلنے والی بدبو کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اس میں جنسی کمزوری کی ایک دوا کا راز پوشیدہ ہو سکتا ہے۔

اٹلی کی یونیورسٹی آف نیپلز کے ماہرین کی ایک ٹیم کے مطابق گندے انڈوں سے نکلنے والی گیس، ہائیڈروجن سلفائیڈ، مردانہ جنسی طاقت کو بڑھانے میں معاون ہوتی ہے۔

اطالوی ماہرین نے اپنی تحقیق جریدے نیشنل اکیڈمی آف سائنس میں شائع کی ہے جس میں ان کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے نتیجے میں جنسی توانائی کی مشہور عالم دوا 'ویاگرہ' کا بدل بنانے میں کامیابی ہو سکتی ہے۔

واضح رہے کہ ہر دس میں سے ایک مرد کو جنسی کمزوری کا سامنا رہتا ہے۔

تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ہائیڈوجن سلفائیڈ جنسی اعضاء میں خون کی نالیوں میں تناؤ کو کم کرتی ہے جس سے خون کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہائیڈوجن سلفائیڈ گندے انڈوں کے علاوہ گاڑیوں کے ایگزاسٹ سے بھی خارج ہوتی ہے۔

تحقیق کرنے والی ٹیم نے آٹھ مردوں کو کئی چوہوں کی جنسی توانائی پر مذکورہ گیس کے اثرات کا مطالعہ کیا۔

ٹیم کے سربراہ پروفیسر گیسپو سیرینو کا کہنا ہے کہ تجربات کی بنیاد پر انہیں لگتا ہے کہ مردوں کو چوہوں کی جنسی توانائی میں بہتری کا سبب مذکورہ گیس ہی تھی۔ اسی بنیاد پر ان کا کہنا ہے کہ یہ دریافت جنسی کمزوری کی کسی نئی دوا بنانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

برطانوی ادارے، سیکشؤل ڈِسفنگشن ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر گراہم جیکسن نے اس مطبوعہ تقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جنسی کمزوری کی نئی دوا کی دریافت بہت خوش آئند خبر ہو سکتی ہے۔

نہوں نے کہا کہ ویاگرا کا کوئی بدل بنانے کے یقیناً ضرورت ہے کیونکہ ویاگرا شوگر کے مریضوں میں صرف ساٹھ فیصد اور عام لوگوں میں اسی سے پچاسی فیصد کامیاب رہتی ہے۔