سندھ میں تیزی سے پھیلتا ہیپاٹائٹس

اس بیماری کے پھیلاو کی بنیادی وجوہات میں متاثرہ افراد کے استعمال شدہ سرینج، استرے یا ڈاکٹروں کے وہ آلات جو متاثرہ مریض کے علاج میں استعمال ہوئے ہیں
،تصویر کا کیپشناس بیماری کے پھیلاو کی بنیادی وجوہات میں متاثرہ افراد کے استعمال شدہ سرینج، استرے یا ڈاکٹروں کے وہ آلات جو متاثرہ مریض کے علاج میں استعمال ہوئے ہیں
    • مصنف, علی حسن
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، حیدرآباد، سندھ
  • وقت اشاعت

صوبہ سندھ میں ڈاکٹر ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد میں تیزتر اضافے کے باعث شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔

اندرون سندھ سب سے بڑے سرکاری اسپتال لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے میڈیکل وارڈ کے سینئر رجسٹرار ڈاکٹر مصطفیٰ نوح پوٹہ کہتے ہیں بات تو ہے ہی شدید تشویش کی کہ چھوٹی عمر کے بچے تک جگر کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح تو ہماری پوری نسل تباہ ہو سکتی ہے۔

جگر کی بیماریوں کا شکار صوبہ کے ہر علاقے کے لوگ ہیں۔ البتہ ڈاکٹر نوح پوٹہ کا خیال ہے کہ غریب اور متوسط گھرانوں کے لوگ اس جان لیوا بیماری کا زیادہ یہ شکار ہیں۔ بیماری کا شکار ہونے والوں میں سندھ پولیس کے ارکان کی بڑی تعداد شامل ہے۔

حیدرآباد میں پولیس اسپتال کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر ضیاءالدین نے انکشاف کیا ہے کہ اکثر پولیس والوں کو یہ بیماری شہدادپور ٹریننگ سکول سے لگی ہے کیونکہ سکول میں ڈارھی بنانے کے لیے جن حجاموں کی خدمات لی جاتی ہیں وہ آٹھوں اس بیماری کا شکار ہیں۔

ڈاکٹر ضیاءالدین کا کہنا ہے کہ محکمے نے اس کا حل یہ نکالا کہ تربیت حاصل کرنے والے تمام سپاہیوں کو استرے فراہم کر دیے ہیں تاکہ ایک دوسرے کے استرے یا بلیڈ استعمال نہیں کیے جائیں۔

جنوری میں قائم کیے گئے ہیپاٹائٹس پر قابو پانے کے تین سالہ پروگرام کے منیجر ڈاکٹر مجید چھٹو بڑے بڑے ڈاکٹروں کو بھی مورد الزام ٹھہراتے ہیں ’یہ لوگ بھی اپنے آلات صحیح طریقے سے سٹرلائز نہیں کرتے ہیں، خون دینے والی لیبارٹری بغیر سکریننگ کے خون تبدیل کرتی ہیں‘۔ ڈاکٹر مجید نے تو یہ الزم بھی عائد کیا ہے کہ ’عطائی تو ایک ایک سرنج کو کئی کئی بار استعمال کرتے ہی ہیں لیکن بعض بڑے بڑے ڈاکٹر بھی اس غیر اخلاقی عمل کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اگرچہ فی الحال یہ عمل غیرقانونی تصور نہیں کیا جاتا کیونکہ اس بارے میں کوئی قانون ہی نہیں ہے لیکن ان کے پاس عقل کی تو کمی نہیں ہے‘۔

حکومت سندھ نے اس بیماری سے نمٹنے کے لیے اس مالی سال میں اسی کڑوڑ روپے رکھے ہیں۔ خوب خریداریاں ہو رہی ہیں ۔ دوائیں ، سامان ، مشینیں، فرنیچر وغیرہ لیکن مربوط پالیسی کی عدم موجودگی شدت محسوس کی جا رہی ہے۔ تشہیر اور جلسے جلوسوں پر بھی اسی رقم سے خرچہ کیا جارہا ہے۔

غریب اور علاج کے ضرورت مند اسپتالوں کے چکر ہی کاٹ رہے ہیں جہاں ڈاکٹر انہیں شاز و نادر ہی ملتے ہیں اگرچہ حکومت سندھ نے بیماری سے نمٹنے کے لیے سے اسی کڑوڑ روپے مختں کیے ہیں۔