کم کیلوریاں، کم بیماریاں

بندر
،تصویر کا کیپشنرہسس بندروں پر تقریباً پندرہ برس تک تحقیق کی گئی
وقت اشاعت

بندروں پر کی گئی ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ خوراک میں کیلوری کی مقدار کم کرنے سے بڑھاپا آہستہ آتا ہے اور بیماریوں کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ (کیلوری حرارت کی مقدار کی ایک اکائی ہے اور اس سے غذا کی قوت کو ناپا جاتا ہے)

دوسرے جانوروں پر پہلے ہی تحقیقات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کم کیلوری کے کتنے فائدے ہیں لیکن اب یہ تحقیق انسان کے قریبی رشتہ دار پر ایک لمبے عرصے کے لیے کی گئی ہے۔

بیس سالوں پر محیط اس تحقیق میں جن بندروں کی خوراک میں کیلوری پر کوئی حد مقرر نہیں کی گئی ان میں سے اکثر ان بندروں سے جلدی ہلاک ہو گئے جن کو ناپ تول کر کیلوریاں دی گئیں۔

کم کیلوری والی خوراک
،تصویر کا کیپشنکم کیلوری والی خوراک سے صحت اچھی رہتی ہے

امریکی تحقیق کاروں نے ’سائنس‘ جریدے میں خوراک کے اثر والی تحقیق کو سراہا ہے۔

اس تحقیق کے دوران بندروں کی خوراک میں سے 30 فیصد کیلوری کم کی گئی جب کہ غذائیت برقرار رکھی گئی۔ اس سے یہ دیکھا گیا کہ بندروں میں عمر کے ساتھ آنے والی کئی بیماریوں میں جن میں کینسر، ذیابیطس اور دل اور دماغ کی بیماریاں شامل ہیں، کمی واقع ہوئی۔

ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ اس تحقیق کا اثر انسانوں پر بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ جو افراد اپنی خوراک میں کیلوری کی مقدار پر دھیان رکھتے ہیں ان کی صحت اچھی رہتی ہے۔

یہ تحقیق 76 بندروں پر پندرہ برس تک کی گئی۔