صدر اوباما کی تقریر پر ملا جلا ردعمل

اسلامی دنیا میں امریکی صدر براک اوباما کی قاہرہ یونیورسٹی میں مسلمانوں سے تقریر پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا گیا ہے۔
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خامنہ ای نےامریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکہ اب بھی مشرق وسطیٰ میں نفرت کی نشانی ہے۔
<link type="page"><caption> صدر براک اوبامہ کی تقریر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/06/090604_obama_speech_cairo_ra.shtml" platform="highweb"/></link>
انہوں نے کہا کہ خوبصورت اور میٹھے الفاظ سے زیادہ ضرورت ایکشن کی ہے ۔ایران کے روحانی پیشوا نے کہا کہ پچھلے کچھ برسوں میں ایک ’بیوقوف امریکی صدر‘ نے دو مسلمان ملکوں پر دہشتگردی کے نام پر قبضہ جما لیا ہے۔
ایرانی رہنما نے کہا افغانستان میں امریکی طیاروں کی بمباری میں سینکڑوں سو افراد ہلاک ہو جاتے ہیں۔’ یہ ایک بار نہیں ہوا ہے بکہ سینکڑوں بار ایسا ہو چکا ہے۔ امریکہ بھی وہی کچھ کر رہا ہے جو دہشتگرد کر رہے ہیں۔‘
فلسطینی اتھارٹی کےصدر محمود عباس کے ترجمان نے کہا امریکی صدر کی تقریر ایک اچھا آغاز ہے اور یہ امریکی پالیسی کا پہلا قدم ہے۔
اسرائیل کی حکومت نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ صدر اوباما کی تقریر عرب اسرائیل مفاہمت کی بنیاد بنے گے۔
اسرائیلی حکومت نے کہا ہے کہ وہ صدر اوباما کی اس امید میں برابر کے شریک ہیں کہ عرب اور اسرائیل مفاہمت ہونی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیلی ترجمان نے دو مملکتی منصوبے کے بارے کچھ کہنے سے گریز کیا۔ ’اسرائیل اپنے قومی مفادات اور سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے علاقےمیں پائیدار امن قائم کرنے میں اپنے کردار ادا کرے گا۔
عرب لیگ کے سربراہ امر موسی نے براک اوباما کی تقریر کو انتہائی متوازن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے لگتا ہے کہ اب امریکہ علاقائی جھگڑوں میں توازن قائم رکھے گا۔انہوں نے اس امید ظاہر کی کہ مستقبل میں امریکہ اسرائیلی بستیوں کے قیام اور فلسطینیوں کے حقوق میں توازن رکھے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فلسطینی تنظیم حماس کے حوالے سے کہا کہ حماس سمجھتی ہے کہ امریکی صدر براک اوباما اور جارج بش کی پالسیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔حماس نے کہاک شدت پسندی کے خلاف جنگ جاری رکھنے اور مسئلہ فلسطین کےحل کے لیے جو موقف صدر بش تھا وہی صدر اوباما کا بھی ہے۔
عراقی حکومت نے صدر اوباما کی تقریر کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واشنگٹن میں ایک مثبت تبدیلی کی نشاندھی کرتی ہے۔ عراقی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر کی طرف سے قرآن سے حوالے بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے ۔ عراقی حکومت نے کہا عمل کی ضرورت ہے۔
لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے صدر اوباما کی تقریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی دنیا کو اخلاقی اور سیاسی امور پر خطبات کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ جب تک اسرائیل کو مکمل سپورٹ کرنے کی پالیسی میں تبدیلی، عراق اور افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلاء نہیں کرتا تو کسی تقریر کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔






















