ہندوستان میں خشک سالی کا اندیشہ

وسطی ہندوستان کے میدانی علاقوں میں کسان بارش کے انتظار میں ہیں
،تصویر کا کیپشنوسطی ہندوستان کے میدانی علاقوں میں کسان بارش کے انتظار میں ہیں
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
  • وقت اشاعت

ہندوستان میں دس دن سے زیادہ کی تاخیر کے بعد بھی بیشتر علاقوں میں مون سون ابھی تک نہیں پہنچا ہے اور ملک کے متعدد علاقے اس وقت شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ موسمیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بارش مزید ایک ہفتے تک نہ ہوئی تو صورتحال سنگین ہو جائے گی۔

جون کے تیسرے ہفتے تک مون سون بادل ملک کے مشرقی اور وسطی علاقوں اور جنوبی ریاستوں سے لے کر مہاراشٹر اور گجرات کے بیشتر علاقوں تک پہنچ جاتے ہیں لیکن اس برس زیادہ بارش والے جنوب اور شمال مشرقی صوبے بھی مون سون بارشوں کے انتظار میں ہیں۔

مون سون کی آمد میں پہلے ہی دس سے بارہ دنوں کی تاخیر ہو چکی ہے اور آسمان اب بھی خالی ہے ۔محکمہ موسمیات کے سربراہ بی پی یادو کہتے ہیں’ کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں ہے۔مون سون کا اپنا مزاج ہے۔ کسی برس وہ اچھا ہوتا ہے اور کسی برس کمزور ہوتا ہے۔ اس برس وہ کمزور ہے ۔ اس کی ہواؤں میں جان کم ہے۔‘

مسٹر یادو کہتے ہیں کہ’اس میں کو ئی دو رائے نہیں کہ جون میں بارش اب تک تقریباً نہ ہونے کے برابر ہو ئی ہے۔لیکن اگر جولائی میں بھر پور بارش ہو جائے تو جون کی کمی پوری ہو جائےگی۔اب سارا دارو مدار جولائی کی بارش پر ہے۔‘

خریف کی فصل بالخصوص چاول کی کھیتی کا بیشتر انحصار مون سون بارش پر ہوتا ہے۔ جنوب میں دھان کی بوائی ہو چکی ہے اور بارش میں تاخیر سے وہاں کچھ نقصان ہوا ہے۔ ماہر زراعت دیوندر شرما کہتے ہیں کہ ’شمال میں 15 جولائی تک بوائی ہوتی ہے اس لیے خریف کی فصل کے لیے اب بھی کافی وقت ہے۔ وسطی ہندوستان کے میدانی علاقوں میں کسان اب بھی بارش کے انتظار میں ہیں۔‘

مسٹر شرما کہتے ہیں کہ مون سون میں تاخیر سے فوری طور پرتشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ ’تھوڑی سی فکر کی بات ضرور ہے لیکن ابھی گھبرانے والی صورتحال نہیں پیدا ہوئی ہے۔اگر مزید ایک ہفتے تک بارش نہیں ہوئی تو ضرور گھبراہٹ کی بات ہو گی۔‘

اس وقت دارالحکومت دلی سمیت ملک کے بیشتر علاقے شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ بہار، جھارکھنڈ ، اتر پردیش ، اڑیسہ، اتر پردیش، چھتیس گڑھ ،آندھرا پردیش کے ساحلی علاقوں، مہاراشٹر کے ودربھ خطے، دلی، ہریانہ اور پنجاب میں تیز لو کے ساتھ شدت کی گرمی پڑ رہی ہے۔

اڑیسہ کے سمبھل پور علاقے میں پیر کو درجہ حرارت تقریباً سینتالیس ڈگری تھا۔ دلی میں گزشتہ دو دنوں سے ٹمپریچر چوالیس ڈگری سے زیادہ ہے ۔

محکمہ موسمیات نے بتایا ہے کہ آئندہ اڑتالیس گھنٹوں میں ان صوبوں میں گرمی کی لہر میں مزید شدت آ سکتی ہے۔ لیکن ایک اچھی خبر یہ ہے کہ مہاراشٹر اورکرناٹک میں مون سون بادل پھر دکھائی دیے ہیں اوراگر ہوائیں مستحکم رہیں تو آئندہ چند دنوں میں مون سون گجرات تک پہنچ جائےگا۔ ملک کے مختلف علاقوں میں لوگ بارش کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔