باتیں صدام حسین کی

صدام حسین نے ان ’قیاس آرائیوں‘ کو بے بنیاد قرار دیا کہ وہ اپنے ممکنہ ’قاتلوں‘ کو دھوکہ دینے کے لیے ہم شکلوں کا سہارا لیتے تھے۔
،تصویر کا کیپشنصدام حسین نے ان ’قیاس آرائیوں‘ کو بے بنیاد قرار دیا کہ وہ اپنے ممکنہ ’قاتلوں‘ کو دھوکہ دینے کے لیے ہم شکلوں کا سہارا لیتے تھے۔
وقت اشاعت

امریکی تفتیش کاروں نے ان تفتیشی انٹرویوز کی کچھ تفصیلات جاری کی ہیں جو انہوں نے سابق عراقی صدر صدام حسین کو حراست میں لینے کے بعد ان سے کیے تھے اور جن سے ان کی ذاتی زندگی کے کچھ پہلوؤں کا پتا چلتا ہے۔

ان تفتیشی انٹرویوز کے کچھ حصے صدام حسین سے پوچھے گئے سوالوں کے علاوہ ان کے ساتھ امریکی اہلکاروں کی غیر رسمی بات بات چیت پر بھی مبنی ہیں جو سنہ دو ہزار چار میں سابق عراقی صدر کی حراست کے دوران ریکارڈ گئی تھی۔ دستاویزی شکل میں جاری ہونے والے یہ انٹرویوز بغداد ائیر پورٹ میں واقع حراستی مرکز میں کیے گئے جہاں صدام حسین کو رکھا گیا تھا۔

صدام حسن نے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ہتھیاروں کے معائنہ کاروں کو عراق آنے کی اجازت اس لیے نہ دی کہ کہیں ایران کو یہ علم نہ ہو جائے کہ عراق کا پروگرام کتا کمزور ہو چکا تھا۔

انہوں نے ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا کہ وہ اپنے ممکنہ ’قاتلوں‘ کو دھوکہ دینے کے لیے ہم شکلوں کا سہارا لیتے تھے۔

سابق عراقی رہنما سے ایف بی آئی کے ایک عربی بولنے والے افسر نے تفتیش کی جن کا نام جارج پیرو ہے۔صدام حسین نے ایک جگہ کہا کہ مارچ سنہ انیس سو نوے کے بعد ان کی یاداشت کے مطابق انہوں نے صرف دو بار کسی کو ٹیلی فون کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنے قیام کا مقام ہر روز تبدیل کرتے تھے۔

عراقی رہنما نے یہ انکشاف بھی کیا کہ شمالی عراق میں وہ جگہ جہاں سے انہیں دسمبر سنہ دو ہزار تین میں گرفتار کیا گیا تھا، وہی مقام تھا جہاں انہوں نے سنہ انیس سو انسٹھ کی ناکام بغاوت کے بعد پناہ لی تھی۔

صدام حسین ایران کو عراق کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ باوجود اس کے کہ انہوں نے وسیع تباہی کے تمام ہتھیاوں کو ختم کر دیا تھا، انہوں نے عالمی معائنہ کاروں کو نوے کی دہائی میں عراق نہ آنے دیا تاکہ ایران کو اصل صورتِ حال کا علم نہ ہو سکے۔صدام سمجھتے تھے کہ عالمی انسپکٹروں کو علم ہونے سے ایران کو بھی عراق کی کمزوریوں کا پتہ چل جائے گا۔

تاہم سنہ دو ہزار تین کا عراق پر حملہ روکنے کے لیے انہوں نے بعد میں انسپکٹروں کو عراق آنے کی اجازت دے دی۔ لیکن اس وقت تک دیر ہو چکی تھی اور امریکہ عراق پر حملے کا ذہن بنا چکا تھا۔

صدام حسین نے اس بات کی تردید کی کہ ان کا القاعدہ کے رہنما اوسامہ بن لادن سے کوئی تعلق واسطہ تھا۔

دستاویزات کے مطابق صدام حسین سمجھتے تھے کہ اگر ان کا کوئی حلیف ہو سکتا ہے تو وہ شمالی کوریا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے ہی سنہ اکانوے میں اسرائیل پر سکڈ میزائل داغنے کا حکم دیا کیونکہ اسرائیل امریکہ پر بہت اثر رسوخ رکھتا تھا اور ’یہ عرب دنیا کہ تمام مسائل کی وجہ تھی‘۔