ایرانی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز قومی فضائی کمپنی کا طیارہ جو بدھ کے روز تہران کے شمال طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا اس کو بلیک باکس مل گیا ہے۔
ایران کی قومی فضائی کمپنی کیسپین ایئرلائنز کا روسی ساخت کا بائیس سال پرانا طیارہ ملک کے شمال میں گر کر تباہ ہو تھا جس میں سوار 168 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ایرانی طیارہ تہران سے طیارہ ایران کے دارالحکومت سے آرمینیا جا رہا تھا۔
طیارہ میں سوار مسافروں کی اکثریت ایرانی باشندوں کی تھی۔ ہلاک ہونے والے مسافروں میں پانچ آرمینائی اور دو جارجین شہری تھے۔
طیارہ کے مسافروں میں ایران کی جوڈو ٹیم کے آٹھ کھلاڑی ہلاک ہوگئے ہیں۔ نوجوان جوڈو کھلاڑی آرمینیا میں تربیت کی غرض سے جا رہے تھے۔
ایرانی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ نقصان زدہ بلیک باکس سےمعلومات اکٹھی کی جا سکیں گی جس سے طیارہ تباہ ہونے کی وجوہات کا پتہ چل سکے گا۔
ایران کی فضائی کمپنی کا حفاظتی ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ ایران پرمختلف عالمی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی ایئر لائن کو اپنے پرانے جہازوں کو چالو حالت میں رکھنے کےلیے درکار پرزے دستیاب نہیں ہیں۔
طیارہ تہران کے شمال مغرب میں صوبہ قزوین کے ایک گاؤں جنت آباد کے قریب تباہ ہوا ہے
ایرانی ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان رضا جعفرزادے کے مطابق ’کیسپین ایئر لائنز کا طیارہ انٹرنیشنل امام خمینی ایئرپورٹ سے اڑنے کے سولہ منٹ بعد گر گیا‘۔ انہوں نے کہا کہ طیارے کی پرواز سے قبل کوئی غیر معمولی صورتحال رپورٹ نہیں کی گئی۔
صوبہ قزوین کے فائر برگیڈ محکمے کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مقامی شہریوں نے دوپہر کو گہرا دھواں دیکھ کر ہنگامی سروسز کو فون کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’جائے وقوع پر پہنچنے کے بعد ہمیں اندازہ ہوا کہ جہاز کا ملبہ تقریباً دو سو میل کے دائرے میں پھیلا ہوا ہو سکتا ہے۔‘
ایران میں 1979 میں اسلامی انقلاب آنے کے بعد مغربی ممالک نے ایران پر تجارتی پابندیاں عائد کی تھیں جس کے باعث ایران کو اپنے ہوائی بیڑے میں روسی ساخت کے جہاز شامل کرنے پڑے تھے۔
BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔