اوباما کی جائے پیدائش پر تنازعہ

امریکی صدر براک اوبامہ نےچار اگست کو اپنی اڑتالیسوں سالگرہ منائی لیکن امریکہ میں ان کی جائے پیدائش سے متعلق تنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر براک حسین اوباما کے سخت ترین مخالفین یہ ثابت کرنے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی پیدائش امریکہ کی سرزمین پر نہیں ہوئی تھی۔ امریکہ کے آئین کے مطابق کوئی ایسا شخص جس کی پیدائش امریکی سرزمین پر نہ ہوئی ہو وہ صدر بننے کا اہل نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مخالفین کا الزام ہے کہ وہ دراصل افریقی ملک کینیا میں پیدا ہوئے اور انہوں نے جعل سازی کر کے امریکی ریاست ہوائی سے ایسا پیدائشی سرٹیفکیٹ حاصل کر لیا ہے جس کے مطابق ان کی پیدائش امریکہ میں ہوئی ہے۔
براک اوباما کے مخالفین انٹرنیٹ پر چلائی جانے والی مہم میں یہ بھی الزام لگا رہے ہیں کہ محمد بھی براک اوباما کے نام کا حصہ ہے۔
امریکی صدر کا موقف ہے کہ ان کا والد کا تعلق کینیا سے تھا جو تعلیم کی غرض سے امریکہ آئے جہاں انہوں نے سفید فام عورت سے شادی کی جس سے وہ ریاست ہوائی کے شہر ہونولولو میں پیدا ہوئے اور ان کا مکمل نام براک حسین اوباما ہے۔
ہوائی کے محکمہ صحت نے وضاحت کی ہےکہ براک اوباما چار اگست 1961 کو سات بج کر چوبیس منٹ پر ہوائی کے شہر ہونولولو میں پیدا ہوئے اور اس کے تمام شواہد فائل پر موجود ہیں۔
ہوائی کے محکمہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چیومو فکینو نے کہا ہے کہ براک حسین اوباما کی پیدائش ہوائی میں ہی ہوئی اور اس کے تمام شواہد فائل پر موجود ہیں۔
ہوائی کے محکمہ صحت کی وضاحت کے بعد بھی اوباما مخالفیں کی مہم جاری ہے اور ان کا الزام ہے کہ کوئی شخص بھی ریاست ہوائی سے برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتا ہے اور براک اوباما نے بھی ایسا ہی کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہوائی محکمہ صحت کے ڈائریکٹر ڈاکٹر چیومو فکینو نے واشنگٹن انڈیپنڈنٹ نامی اخبار کو بتایا ہے کہ یہ بات ٹھیک ہے کہ دنیا میں کہیں بھی پیدا ہونےوالے شخص ریاست ہوائی سے برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتا ہے لیکن اس سرٹیفکیٹ میں یہ درج نہیں ہوتا کہ وہ شخص ریاست ہوائی میں پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بالی میں پیدا ہونے والے شخص کو ہوائی ریاست سے جو سرٹیفکیٹ ملے گا کہ اس پر درج ہو گا کہ یہ شخص فلاں تاریخ کو بالی میں پیدا ہوا نہ کہ ریاست ہوائی میں۔
براک اوباما کی پیدائش سے متعلق سرٹیفکیٹ جاری ہونے کے باوجود ان کے خلاف مہم جاری ہے اور الزام لگایا جا رہا ہے کہ یہ سرٹیفکیٹ جعلی ہے۔ انٹرنیٹ بلاگوں، ای میلوں اور انٹرنیٹ فورمز پر الزام لگائے جا رہے کہ ہوائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والا برتھ سرٹیفکیٹ جعلی ہے کیونکہ اس پر سرکاری مہر ثبت نہیں ہے۔
انبرگ پبلک پالیسی سنٹر کے نمائندوں نے اصلی برتھ سرٹیفکیٹ کا معائنہ کرنے کے بعد کہا ہے کہ ہوائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہونے والا برتھ سرٹیفکیٹ اصلی ہے اور اس پر سرکاری مہر ثبت ہے۔
براک اوباما کی جائے پیدائش سے متعلق بحث کو کئی مرتبہ عدالتوں میں چیلنج کرنے کی کوشش کی گئی۔ سب سے پہلے امریکی فوج کے ایک سپاہی سٹیفن کوک نے جولائی میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں ان کا موقف تھا کہ براک اوباما امریکہ صدارت کے لیے نا اہل ہیں۔ سٹیفن کک کا، جس کی تعیناتی افغانستان میں ہونے والی ہے، موقف تھا کہ براک حسین اوباما صدراتی عہدے کے لیے اہل نہیں ہیں لہذا وہ انہیں افغانستان تعینات کرنے سے متعلق ان کا حکم غیر موثر ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کو مسترد کر دیا۔
براک اوباما کی جائے پیدائش سے متعلق الزامات کو سیاسی سطح پر زیادہ پذیرائی نہیں ملی ہیں لیکن کچھ ریپلیکن سیاستدان اس مہم میں شامل ہو چکے ہیں۔
ریپلیکن پارٹی کے صدارتی امیدار بننے کے ایک امیدوار ایلن کیز نے بھی ایک مقدمہ دائر کیا جس میں انہوں نے صدر اوباما کی جائے پیدائش پر سوالات اٹھائے ہیں۔ اسی طرح ریپبلیکن پارٹی کے سینٹر جیمز انہوف نے کہا ہے کہ وہ اس تحریک کی حوصلہ شکنی نہیں کرنا چاہتے۔






















