چند دلچسپ تصاویر

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
پاکستان میں جب کوئی ذرا سا بھی اہم اچھا یا برا واقعہ ہوتا ہے تو ہر کسی کے موبائل فون پر ایک کے بعد ایک بھانت بھانت کے ایس ایم ایس اترنے شروع ہوجاتے ہیں لیکن اتوار سے اب تک میرے موبائل پر اسامہ کے تعلق سے صرف ایک دوست کا ایس ایم ایس آیا جس میں پوچھا گیا ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو ایس ایم ایس کیوں نہیں بھیج رہے۔
یہ صرف مجھ اکیلے کا ہی تجربہ نہیں بلکہ دفتر میں موجود ساتھی بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد ان کا فون صوتی و حرفی خاموشی کا شکار ہے۔
ہو سکتا ہے کہ جس طرح فوج ، آئی ایس آئی اور حکومت ضروری یا غیر ضروری یا سوچی سمجھی یا پھر کنیفوژڈ احتیاط سے کام لے رہی ہے اسی طرح عام آدمی بھی ڈر رہا ہو کہ کہیں وہ مذاق مذاق میں اس واقعہ پر تبصرہ کرے اور کوئی اندرونی و بیرونی ادارہ اس تبصرے کو جانے کیا سمجھتے ہوئے ٹریس کرلے اوروہ ایک نئی مصیبت میں پھنس جائے۔
یا ہو سکتا ہے کہ عام آدمی اپنے ہی مسائل میں اس قدر گھر چکا ہے کہ اس نے اسامہ کی خبر کو محض ایک اور دلچسپ خبر کے طور پر لیا ہے۔یا پھر ہوسکتا ہے کہ عام آدمی پر یہ خبر بجلی بن کر گری ہو اور وہ سکتے کے عالم میں ہو۔
جہاں تک اسامہ کی ہلاکت کا کریڈٹ لینے کا معاملہ ہے تو حالانکہ صدر اوباما کی جانب سے پاکستان کی رسمی تعریف کے بعد دیگر سرکاری امریکی حلقے اور عہدیدار یک زبان ہیں کہ اس آپریشن میں پاکستان کا کوئی براہِ راست کردار نہیں لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ واقعہ کے دو روز بعد بھی چھًپن چھًپائی کھیل رہی ہے۔
اسامہ کی ہلاکت کے لگ بھگ بارہ گھنٹے بعد تک اسلام آباد یا راولپنڈی سے ایک لفظ کا ردِ عمل بھی جاری نہیں ہوا۔شاید جو کچھ بھی ہوا ہر کوئی اس کی براہ راست ذمہ داری سے بچنا چاہتا ہو یا اگر امریکیوں کا یکطرفہ کاروائی کا موقف تسلیم کرلیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ بارہ چودہ گھنٹے تک اس کیفیت سے نکلنے میں ناکام رہی ہو کہ ایک ایٹمی طاقت کے ساتھ یہ کیا ہاتھ ہوگیا کہ امریکی آئے بھی اور شکار جھپٹ کر بھی لے گئے اور ہم صرف ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے اور آصف زرداری سے حسین حقانی تک ایسی ڈھیلی ڈھالی نیم کچی نیم پکی وضاحتیں کرنے کے لیے چھوڑ دیے گئے جن سے ابہام کم ہونے کے بجائے کچھ اور بڑھ گیا۔
بین الاقوامی تعلقات کی دنیا میں ردِ عمل کی ٹائمنگ بہت اہم عنصر ہوتا ہے۔ حالانکہ رات ڈیڑھ بجے یہ خبر پاکستانی چینلز نے ہی نشر کی کہ ایک ہیلی کاپٹر کاکول کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے ۔لیکن اس خبر کو کئی گھنٹے تک محض ایک فضائی حادثے کے طور پر برتا جاتا رہا۔
چینل چوہدری شجاعت حسین اور پرویزالہی کی صدر زرداری سے ملاقات کے بعد کی میڈیا بریفنگ میں ہی الجھے رہے۔ کسی نے بھی یہ سوال اٹھانے کی زحمت نہیں کی کہ آدھی رات کو ایبٹ آباد جیسی حساس جگہ پر ہیلی کاپٹر کیوں اڑ رہے تھے تاوقت یکہ کوئی بہت ہی غیر معمولی صورتِ حال نہ ہو۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یوں لگتا ہے کہ مقامی میڈیا یا تو معلق تھا یا کسی کے مکمل کنٹرول میں تھا۔واردات کے ایک دن بعد تک پاکستانی میڈیا جو بھی تفصیلات دے رہا تھا ان میں سے ننانوے فیصد تفصیلات سیکنڈ ہینڈ تھیں۔جن کا ماخذ بی بی سی ، سی این این ، امریکی اخبارات اور ان میں امریکی حکام کے توسط سے قطرہ قطرہ ٹپکنے والی سمعی ، بصری اور حرفی معلومات تھیں۔پاکستانی میڈیا صرف مقامی پنڈتوں کے اندازوں یا ایبٹ آباد کی بلال کالونی کے مکینوں کے تاثرات پر گذارہ کررہا تھا۔
مزید ستم ظریفی یہ کہ کم ازکم تین مقامی چینل دوسرے ذرائع سے اٹھائی ہوئی خبروں پر بھی یہ کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے رہے کہ اسامہ کی ہلاکت کی خبر سب سے پہلے انہوں نے بریک کی۔
جتنا اس بات کا امکان ہے کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس ڈرامے کا ایک اہم کردار تھی اتنا ہی یہ بھی امکان ہے کہ ڈرامے کے آخری ایکٹ میں امریکیوں نے معاون اداکاروں کو اعتماد میں نہیں لیا۔
اگر دوسری بات درست مان لی جائے تو پھر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ یہ کہہ کر اپنا دفاع کر سکتی ہے کہ سرکار جب ہم پاکستان کے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے اندر تک گھسنے والے ہیلی کاپٹرز کے آنے جانے سے ہی بے خبر رہے تو اسامہ جیسے چالاک کی ایبٹ آباد میں موجودگی سے کیسے باخبر رہ سکتے تھے۔
اب تک سامنے آنے والے حقائق کو اگر ایک تصوراتی گروپ فوٹو کی شکل دی جائے تو تصویر کچھ یوں بنے گی ۔
اسامہ بن لادن ، صدر براک اوباما، وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس ، سی آئی اے کے موجودہ سربراہ لیون پنیٹا ، سی آئی اے کے نامزد سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس کسی بات پر مسکرا رہے ہیں۔دوسری رو میں دائیں سے بائیں تیسرے جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل شجاع پاشا کھڑے ہیں اور پس منظر میں آصف زرداری بھی نمایاں ہیں۔
رہی بات اسامہ کی ہلاکت کے بعد کے ردِ عمل کی تو وہ تو خیر جو ہوگا سو ہوگا۔گزشتہ روز ایک مقامی ٹی وی چینل پر یہ پٹی چل رہی تھی
’لاہور میں اسامہ بن لادن کی غائبانہ نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت۔امامت جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید نے کی‘۔
یہ خبری پٹی بس دو دفعہ نظر آنے کے بعد غائب ہوگئی۔






















