اٹلی میں ’پاکستانی اور افغان‘ تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, رابرٹ گرینال
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 3 منٹ
اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر چار تارکین وطن کے قتل کا الزام ہے جن کی لاشیں ایک جلی ہوئی منی وین سے ملی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ ان چار میں سے ایک پاکستانی جبکہ تین کا تعلق افغانستان سے تھا۔
اطلاعات کے مطابق پولیس کو جنوبی کالابریا کے زرعی علاقے میں ایک گاؤں کے نزدیک پیٹرول پمپ سے جلی ہوئی گاڑی ملی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آتا ہے کہ دو افراد نے باہر سے وین کے دروازے بند کیے اور اندر کوئی مائع شے ڈال کر آگ لگا دی۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں اس علاقے میں پاکستانیوں کو لے جانے والی گاڑیوں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
یہ واقعات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب مقامی کھیتوں میں کام کی تقسیم اور رہائش کے حوالے سے تارکین وطن میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔
منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق دوپہر کے تقریباً ایک بجے فائر فائٹرز کو جلتی ہوئی وین کی اطلاع ملی تھی۔
آگ بجھانے کے بعد انھوں نے اندر دیکھا تو ایک خوفناک منظر تھا۔ وین میں چار جلی ہوئی لاشیں موجود تھیں۔
رپورٹس کے مطابق بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل شواہد کی بنیاد پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطالوی میڈیا نے کہا کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا ایک پانچواں شخص اس حملے میں بچ گئے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ مرنے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل تھے، جو سب زرعی شعبے میں کام کرتے تھے۔
بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ جلتی ہوئی گاڑی کی ایک کھڑکی توڑ کر باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔
انھوں نے بتایا کہ جن دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، انھوں نے گاڑی میں موجود لوگوں سے سفر کے پیسے طلب کیے تھے اور ادائیگی سے انکار پر جھگڑا ہو گیا۔
انھوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے سٹرابیری کے کھیتوں میں کام کے عوض اجرت نہیں دی گئی تھی، اگرچہ انھیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ واقعہ کو ’غیر انسانی‘ قرار دیتے ہوئے کالابریا کے علاقائی صدر روبرٹو اوکیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر ’انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے۔‘




























