حکومت بچاری اور کیا کرے!

پولیس
،تصویر کا کیپشنلوگوں کی حفاظت کا انتظام تو ہر حکومت کے لیے ناگزیر ہوتا ہے
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلامآباد
  • وقت اشاعت

پاکستان اس وقت دھشت گردی کی جس لہر کا شکار ہے۔اس کے پیشِ نظر لانگ مارچ اور دھرنے پر بضد سیاستدانوں، وکیلوں اور عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پچھلے ایک ہفتے میں حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں وہ نہایت قابلِ قدر ہیں۔

حکومت نے شریف برادران کو تحریری طور پر بتایا کہ انکی جان خطرے میں ہے۔ وکیلوں کو خبردار کیا کہ لانگ مارچ کے دوران خودکش حملے اور ممبئی سٹائل کی وارداتیں ہوسکتی ہیں۔اس لیے وہ دھرنے اور لانگ مارچ کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔ ملک پر رحم کریں اور بات چیت کی میز پر آ جائیں۔ لیکن وہ سیاستدان ہی کیا جو اپنی ناک سے آگے دیکھ لے اور وہ وکیل ہی کیا جو دلیل مان لے۔

چنانچہ جس طرح بچہ آگ میں کودنے کی کوشش کرے تو باپ اسے بچانے کے لیے دو چار تھپڑ بچے کے منہ پر جڑ کر کمرے میں بند کردیتا ہے۔ اسی طرح حکومت کو بھی کبھی کبھی باپ بننا پڑتا ہے اور نادان عوام کو ایک بڑے خطرے سے بچانے کے لیے آنسو گیس، لاٹھی اور پٹائی وغیرہ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

اسی جذبے کے تحت حکومت نے کراچی سے اسلام آباد تک پانچ ہزار کنٹینر تمام اہم سڑکوں پر کچھ اس طرح رکھ دیے کہ عام آدمی تو رہا ایک طرف دھشت گرد بھی ان کنٹینروں کے آرپار نہیں جا سکتے۔

دھشت گردوں کا نہ تو کوئی دین ایمان ہوتا ہے اور نہ ہی اخلاقیات۔اس لیے وہ ان دنوں کسی بھی اہم شخصیت یا کارکن کے گھرمیں گھس کر اسے ہلاک کرسکتے ہیں۔ چنانچہ احتیاطاً پولیس ان دھشت گردوں سے پہلے گھروں میں کود گئی اور بہت سے سیاسی کارکنوں، وکیلوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کو حوالات کی محفوظ چار دیواری میں پہنچا دیا تاکہ وہ دھشت گردوں سے محفوظ رہ سکیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس حفاظتی کارروائی کے دوران انسانی حقوق کی ایک کارکن مسرت ہلالی کی ٹانگ، طاہرہ عبداللہ کا چشمہ اور بہت سے سیاسی کارکنوں اور وکیلوں کے دروازے اور سر ٹوٹ گئے لیکن جب بچے نادان ہوجائیں تو والدین کو تھوڑی سے سختی کرنی ہی پڑتی ہے۔

پولیس
،تصویر کا کیپشنلاہور میں حفاظتی انتظامات

نوجوان ملک اور قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور حکومت دھشت گردوں کے ہاتھوں یہ مستقبل تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتی۔چنانچہ اس مستقبل کو آدھی رات گئے راولپنڈی اور اسلام آباد کے یونیورسٹی ہاسٹلوں سے نکال کر سڑک پر کھڑا کردیا گیا۔ تاکہ یہ نوجوان طلبا و طالبات اپنی مرضی سے جہاں بھی خود کو محفوظ سمجھیں پیدل چلے جائیں۔

دھشت گرد ہوٹلوں میں بم رکھ سکتے ہیں اور کھانے میں زہر بھی ملا سکتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو مجبوراً ہوٹلوں پر یہ پابندی لگانی پڑی کہ وہ کسی بھی مشکوک لانگ مارچیے کو کمرہ نہیں دیں گے اور کوئی ریسٹورنٹ کھانے کا ایک سے زیادہ پارسل کسی کو نہیں بیچےگا۔ ورنہ لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔

جو مریض اور ان کے رشتے دار سڑکوں کی ناکہ بندی کے سبب حکومت کو گالیاں دے رہے ہیں۔ان بے وقوفوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ حکومت کی نظر میں چاہے کوئی صحت مند ہو یا مریض، سب برابر کے شہری ہیں۔اگر ان مریضوں کی ایمبولینسوں کو راستہ نہیں مل رہا تو اس کی صرف ایک وجہ ہے کہ ماضی میں دھشت گرد کئی دفعہ ایمبولینسوں کو ہائی جیک کرکے انہیں اسلحہ اور گولہ بارود ادھر سے ادھر لے جانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔اور کوئی بھی حکومت ایک مریض کی جان کی قیمت پر بیسیوں بے گناہ لوگوں کی جان خطرے میں نہیں ڈال سکتی۔

پولیس
،تصویر کا کیپشنایسے میں پولییس بے چاری کیا کرے گی

ان اقدامات کے نتیجے میں دھشت گردوں کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے ہیں اور وہ اب تک سوائے پشاور میں نیٹو کے اٹھارہ کنٹینر ٹرکوں کو تباہ کرنے کے کچھ نہیں کرسکے۔

ان کوششوں کو نہ صرف اسٹیبلشمنٹ بلکہ صدر زرداری اور وزیرِ اعظم گیلانی کی کابینہ کی مکمل حماییت حاصل ہے۔ رہے وزیرِ صوبائی رابطہ رضا ربانی اور وزیرِ اطلاعات شیری رحمان جیسے لوگ ۔تو انکے استعفی اور احتجاج کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ایسے اکا دکا جذباتی لوگ کہاں نہیں پائے جاتے !