فطرتاً حزب اختلاف کی جماعت

ذوالفقار علی بھٹو
،تصویر کا کیپشنپیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو
    • مصنف, انور سن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
  • وقت اشاعت

بیالیس سال میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کم از کم یہ تو ثابت کر دیا ہے کہ حکمراں وہ جیسی بھی ہو اپوزیشن اسی پر زیادہ پھبتی ہے اور اپوزیشن ہی میں وہ زیادہ پنپتی بھی ہے۔

جنرل ایوب خان کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کی اتنی ولولہ انگیز اور طوفانی تحریک کہ کمیونسٹ اور اسلامی مولویوں نے اسلامی سوشلزم کی گولی بھی ہنستے کھیلتے نگل لی۔ بھٹو کو آخر کارِ نظریاتی چکر میں پھنسا لینے کا خواب دیکھنے والے کیسے کیسے پھنے خان ناکام نہیں ہوئے اور بھٹو نے جے اے رحیم سے ڈاکٹر نذیر تک، اپنوں اور غیروں کو حکومتی ہتھکنڈوں سے کس کس تاریخی کردار کی یاد نہیں دلائی۔ پورے دور میں ذرائع ابلاغ پر کیا گزری، حزب اختلاف پر کیا کیا مقدمے نہیں بنے اور حزبِ اختلاف کے رہنماؤں نے کس کس جیل کی ہوا نہیں کھائی۔

پھر جنرل ضیا الحق آ گیا۔ پیپلز پارٹی کے لیے اپوزیش کا وقت۔ تو پیپلز پارٹی نے کیا کیا۔ بھٹو نے پھانسی چڑھ کر اپنے لیے شہادت کا اعزاز پا لیا۔ کل کے حریف نصرت بھٹو کے حلیف بن گئے۔ ان کے سر پر لگنے والی پولیس کی لاٹھی اور بہنے والے خون نے نہ صرف پیپلز پارٹی کے سارے داغ دھو دیے بلکہ جیالوں کے خون کو اتنا گرما دیا کہ کوڑے اور ٹکٹکیاں بھی ان کے لیے کھیل بن گئے۔ اگر افغانستان کی صورتِ حال تبدیل نہ ہوتی اور ضیا امریکہ کی آنکھوں کے تارے نہ بنتے تو انہیں ہوائی حادثے سے رخصتی کا موقع نہ ملتا۔ اس دور میں صرف جماعت ضیا کے ساتھ اقتدار میں شریک ہوئی باقی سارا لیفٹ رائٹ ایم آر ڈی میں پیپلز پارٹی کے ساتھ تھا۔

نصرت بھٹو
،تصویر کا کیپشنشوہر کے بدترین حریفوں کو بھی ساتھ ملا کر چلنے والی

اس کے بعد بینظیر دو بار وزیر اعظم بنیں اور دونوں بار حلیفوں کو ناراض کرنے میں ناکام نہیں رہیں۔ دونوں بار ذرائع ابلاغ کو نئی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ عدالتی تماشے بھی ہوئے اور پولیس سٹیٹ دیکھنے کے مواقع بھی آئے۔ لیکن ہر بار جب پیپلز پارٹی اپوزیشن میں آئی اسے لیفٹ کی حمایت بھی ملتی رہی، رائٹ بھی اس کے ساتھ آتا رہا، سول سوسائٹی اور دانشور بھی اس کے ساتھ چلنے سے پیچھے نہیں رہے۔

اب تیسری بار ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکمرانی سامنے ہے۔ ایک بار پہلے بھی پیپلز پارٹی کو مخالفانہ رخ دکھانے والا دائیں کا نواز شریف وکلا، لیفٹ کے تمام شکلوں اور سول سوسائٹی کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا ہے، اس کے بھی، سوائے کراچی آپریشن سارے داغ دھل چکے ہیں۔ کچھ بعید نہیں کہ ایک بار پھر پنجاب کی انتظامیہ ان کی اپیل پر مفلوج ہو جائے۔

اس بار تو سال بھی نہیں ہوا اور پیپلز پارٹی پر پرانے الزامات تازہ ہونے لگے ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر پابندیوں کی بات یہاں تک جا پہنچی ہے کہ وزیراطلاعات ہی مستعفی ہو گئی ہیں۔ اخبارات اور ٹی وی پولیس اور سڑکیں بند کرنے کے لیے جانے والے کنٹینروں کی تصویروں سے بھرے ہیں۔

ضیا الحق
،تصویر کا کیپشنضیا امریکہ کی آنکھوں کے تارے نہ بنتے تو انہیں ہوائی حادثے سے رخصتی کا موقع نہ ملتا

اب صرف ایک مرحلہ باقی ہے کہ حزبِ اختلاف نے ماضی کی طرح فوج سے مداخلت کی اپیل نہیں کی ہے لیکن صدر اور وزیر اعظم کے ساتھ جنرل کیانی کی تصاویر چھپنے لگی ہیں لیکن اس بار فوج کا بھی امتحان ہے اب پہلے سی صورت نہیں ہے۔ اس بار مٹھایاں بانٹنے والے تو شاید نہیں ہوں گے لیکن فوج کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ انیس سو چھپن سے پہلے کے کردار پر واپس جانے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ کیونکہ میاں نواز شریف کے رفیق بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میاں صاحب کوئی بات بھولتے نہیں ہیں۔

رہی پیپلز پارٹی تو خاکم بدہن، عوام کی عزیز پارٹی بننے کے لیے اس کا مقدر یہ ہے کہ واپس عوام میں آئے۔