بدلہ پھر چکائیےگا !

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
- وقت اشاعت
پچھلے ایک ہفتے سے میں بھارت میں ہوں اور شام کو کام کاج سے فراغت کے بعد صرف مقامی ٹی وی چینلز دیکھتا ہوں۔ممبئی حملوں کو پانچ ماہ گذرنے کے بعد بھی شاید ہی کوئی چینل ایسا ہو جس پر کم ازکم دو گھنٹے پاکستان کا تذکرہ نہ ہوتا ہو۔مگر یہ تذکرہ طالبان اور دہشت گردی سے شروع ہوتا ہے اور اسی پر ختم ہوتا ہے۔اور خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ طالبان، پاکستان اور دہشت گردی دراصل ایک ہی سکے کے تین رخ ہیں۔
بہت کم لوگ یہ تسلیم کرنے پر تیار ہیں کہ آج کا پاکستان دہشت گردی کے خنجر سے اس بری طرح نڈھال ہے کہ اس کا ریاستی ڈھانچہ تیزی سے خون بہنے کے سبب خطرناک رفتار سے غشی میں جارہا ہے۔بھارتی میڈیا اور اس کے توسط سے زیادہ تر مقامی لوگوں کا یہی رویہ ہے کہ یہ پاکستان کی ہی لگائی ہوئی آگ ہے۔۔اب وہ بھگتے۔۔ہمیں کیا ۔۔۔۔
یہ بالکل وہی ذہنی رویہ ہے جس کا پاکستان سن اسی اور نوے کی دہائی میں شکار ہوا تھا۔۔۔یعنی یہ افغانستان کی آگ ہے۔۔ہمیں کیا۔۔مجاہدین جانیں ، روس جانے ، امریکہ جانے یا خدا جانے۔۔ہمیں تو افغاستان نے ہمیشہ دشمنی کا ہی تحفہ دیا ہے۔۔۔اب بھگتے۔۔۔
یہ کشمیر کی آگ ہے۔۔۔بھارت جانے۔۔۔کشمیری جانیں۔۔۔وہاں گھسنے اور لڑنے والے جانیں۔۔۔ہمیں کیا۔۔۔ویسے بھی ساٹھ برس میں بھارت نے ہمیں دیا ہی کیا ہے سوائے نقصان اور دشمنی کے۔۔۔اب بھگتے کشمیرکو۔۔۔
اس زمانے میں بہت ہی کم پاکستانیوں کو احساس تھا کہ ’یہ تیر وہ ہے کہ جو لوٹ کر بھی آتا ہے‘ ۔چنانچہ ہم سب نے اپنی زندگیوں میں ہی دیکھ لیا کہ افغان مجاہدین کیسے افغان طالبان بنے اور پھر کیسے پاکستانی طالبان میں تبدیل ہوگئے۔اور کشمیر میں لڑ کر لوٹنے والے کیسے ہاتھوں سے نکل گئے۔اب حالت یہ ہے کہ دو تہائی پاکستان کسی نہ کسی قسم کے فرقہ وارانہ ، قوم پرستانہ یا مذہبی شدت پسندانہ بحران میں مبتلا ہے۔اور پہلی بار متعدد سروں والا یہ خطرہ کسی پاکستانی حکومت کو نہیں بلکہ ریاست کے وجود اور حاکمیت کو لاحق ہے۔
یہ بات اگر دہلی میں کسی سے کی جائے تو عمومی جواب ملتا ہے کہ ہمیں پاکستان کے حالات پر تشویش اور ہمدردی ہے مگر ممبئی ۔۔۔مگر کشمیر۔۔۔؟؟؟
کوئی یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ اسوقت پاکستانی ریاست کو جو بحران لاحق ہوچکا ہے اس نے ملک کو ایٹمی دھات سے بنے ہوئے ایک ایسے جار میں بدل دیا ہے کہ اگر یہ جار ٹوٹا تو تیزاب دور دور تک پھیلےگا۔
بہت کم لوگ یہ سمجھ پا رہے ہیں کہ افغانستان سے لگنے والا جو وائرس اس وقت پاکستان کو بے دم کررہا ہے وہ ایک متعدی وائرس ہے۔جس کے آگے سرحدیں بے معنی ہیں۔منہ پر حفاظتی نقاب ڈالنے، خود کو اپنے اپنے مفاد کے قرنطینہ میں بند کرنے یا مریض کو اسکے حال پر چھوڑ بھاگنے سے وائرس پیچھا نہیں چھوڑے گا۔چنانچہ پاکستانی ریاست کی بقاء کی ضرورت اب پاکستانیوں سے زیادہ عالمی برادری کو ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ وقت مریض کو اسکی سنگین غلطیاں اور بے اعتدالیاں یاد دلانے یا دھمکیوں اور ڈانٹ ڈپٹ کا نہیں ہے بلکہ امداد کی ٹھنڈی پٹیاں رکھنے اور اپنے پر یقین بحال کروانے والے طاقتور کیپسول کھلانے کا ہے۔۔۔۔
اس متعدی مرض سے نمٹنا کسی ایک کے بس کی بات نہیں۔ یا تو اپنا پڑوسی بدل لیں اگر نہیں تو پھر بچپنا چھوڑیے اور بڑے ہوجائیے۔ پرانے بدلے چکانے کے لیے زندگی پڑی ہے میاں ۔۔۔۔۔۔۔






















