اشرف اور جگدیش!

پاک بھارت سرحد واہگہ پر پرچم اتارنے کی تقریب کا ایک منظر
،تصویر کا کیپشنپاک بھارت سرحد واہگہ پر پرچم اتارنے کی تقریب کا ایک منظر
    • مصنف, وسعت اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
  • وقت اشاعت

پاکستان اور بھارت کے جو جو شہری ایک دوسرے کے ہاں سفر کرلیتے ہیں وہ پھر اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔دال تو گوجرانوالے میں بھی اسی طرح پکتی ہے جیسے لدھیانے میں، شلوار قمیض تو دلی میں بھی اسی طرح پہنی جاتی ہے جیسے لاہور میں، پان میں کتھے کا ذائقہ تو بھوپال میں بھی کراچی جیسا ہے، پرانی دلی میں بھی مٹن میں وہی مصالحے پڑتے ہیں جو پشاور میں۔پھر آخر مسئلہ کیا ہے؟

مسئلہ اس وقت شروع ہوتا ہے جب گفتگو سنجیدہ موڑ لیتی ہے۔

فیصل آباد کا محمد اشرف سنار کبھی بھارت نہیں گیا۔ بس اس نے پاکستان آنے والے اِکا دکا سکھ یاتریوں کو دیکھا ہے۔ محمد اشرف کے ذہن میں جو بھارت ہے وہ کچھ یوں ہے کہ بھارت صرف ہندؤوں کا ملک ہے۔ وہاں برہمنوں اور بنیوں نے تمام طبقوں کو سیاسی اور اقتصادی غلام بنا رکھا ہے۔ مسلمان نہ تو آزادی سے نماز پڑھ سکتے ہیں اور نہ اذان دے سکتے ہیں۔ گاندھی ایک ایسا متعصب ہندو تھا جس نے ہمیشہ مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی کوشش کی اور اسکے وارثوں نے پاکستان توڑ دیا۔ آدھا بھارت فٹ پاتھ پر سوتا ہے۔اسے پیٹ بھر کر کھانے کو نصیب نہیں ہوتا۔اور اسکا بنیادی سبب یہ ہے کہ بھارت اپنی آمدنی کا بیشتر حصہ اسلحہ بنانے پر خرچ کردیتا ہے۔صرف کشمیر ہی نہیں بھارت کے کئی صوبے اور قومیں آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جس دن اس ملک پر سے برہمن بنیا سامراج کی گرفت کمزور ہوگئی بھارت ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔

جب میں نے محمد اشرف سنار سے کہا کہ اسکی کچھ باتیں درست ہیں لیکن اسی بھارت میں اونچ نیچ کے باوجود پسماندہ طبقوں کو اوپر لانے کی کئی برس سے سنجیدہ کوشش ہورہی ہے، اس ملک کا نظامِ تعلیم ہزاروں سائنسداں اور ٹیکنولوجی کے لاکھوں ماہرین بھی پیدا کررہا ہے، اسکی مڈل کلاس دنیا کی سب سے بڑی مڈل کلاس ہے، بھارت کئی صنعتوں میں خودکفیل ہے، انفارمیشن ٹیکنولوجی میں وہاں حیرت انگیز ترقی ہورہی ہے، جب گجرات میں قتلِ عام ہوا تو اسکی مذمت کرنے میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ وہاں کا قومی میڈیا اور بہت سی اہم سیاسی اور غیرسیاسی تنظیمیں بھی آگے آگے تھیں۔وہاں مسلمان نہ صرف نماز پڑھ سکتے ہیں بلکہ اذان بھی دے سکتے ہیں۔سیاست ، حکومت ، تعلیم ، ٹیکنولوجی اور میڈیا کے شعبوں میں مسلمانوں کے کئی نمایاں نام ہیں۔اور ایسے بہت سے لوگ ہیں جو پاکستان کو دشمن نہیں سمجھتے۔یہ باتیں سن کر محمد اشرف سنار نے مجھے مشکوک نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ جناب آپ کیسی باتیں کررہے ہیں۔اور تو کوئی ایسی باتیں نہیں کرتا۔

رائے پور کا فوٹوگرافر جگدیش مہتا کبھی پاکستان نہیں گیا۔اس کا تصورِ پاکستان کچھ یوں ہے۔پورے پاکستان میں آتنک وادی ٹریننگ کیمپ پھیلے ہوئے ہیں، زیادہ لوگ لمبی لمبی داڑھیوں والے ہیں، عورتوں کو گھروں میں بند رکھا جاتا ہے وہ بہت کم باہر نکل سکتی ہیں اور وہ بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر، مسلمان لوگ وہاں رہنے والے ہندؤوں کو غدار سمجھتے ہیں، نہ وہ مندر جاسکتے ہیں نہ پوجا پاٹ کرسکتے ہیں، بچہ لوگ صرف مذہبی مدرسوں میں پڑھنے جاتے ہیں۔کیونکہ سکول کم ہیں اور انہیں بموں سے بھی اڑا دیا جاتا ہے، ضرورت کا زیادہ سامان باہر سے آتا ہے۔بہت کم صنعتیں ہیں، کھیتی پر زیادہ زور ہے، ہر پاکستانی اندر سے یہ سمجھتا ہے کہ بھارت ٹوٹ جانا چاہئیے۔

جب میں نے فوٹوگرافر جگدیش مہتا کو بتایا کہ اسکی ایک آدھ بات ٹھیک ہے لیکن پاکستان میں ہر تیسرے آدمی کے پاس موبائیل فون ہے۔غریبی ہے مگر بہت کم لوگ فٹ پاتھ پر سوتے ہیں۔گندم ، چینی اور کپاس کی ضرورت عام طور سے ملک میں ہی پوری ہوجاتی ہے۔پاکستان ٹیکسٹائل کی صنعت میں خاصا آگے ہے۔وہاں کے لوگوں نے سیاسی اور مذہبی شدت پسندوں کوکبھی بھی زیادہ ووٹ نہیں دیے۔ اکثر بچے مذہبی مدرسوں میں نہیں بلکہ سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ وہاں داڑھی رکھنے یا نہ رکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔لاکھوں عورتیں اچھی ملازمتوں پر ہیں۔زیادہ لوگ قانون کی پابندی چاہتے ہیں۔اسی لیے وہ چیف جسٹس کی بحالی کے لیے سڑکوں پر نکلے۔کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کا پھیلاؤ اچھا خاصا ہے۔لوگوں کی اکثریت فوجی یا مذہبی آمریت نہیں بلکہ جمہوریت چاہتی ہے۔بیشترلوگ بھارت کے ساتھ بڑے اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ہندو آرام سے مندر جاتے ہیں۔پاکستانی لوگ بھارتی فلمیں اور چینل بڑے شوق سے دیکھتے ہیں۔اور ویزے کی پابندی میں نرمی چاہتے ہیں اور بھارتی جمہوریت کو اچھی نظر سے دیکھتے ہیں۔

یہ باتیں سن کر رائے پور کے فوٹوگرافر جگدیش مہتا نے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا صاحب آپ پاکستان سے آئے ہیں نا ! تب ہی ایسی باتیں کررہے ہیں۔کوئی بات نہیں۔آپ ہمارے مہمان ہیں۔

کیسی عجیب بات ہے کہ بھارت اور پاکستان کے مابین پیاز ، گوشت ، یاتریوں، امن وفود ، سیاستدانوں اور فنکاروں اور فلموں کی تجارت تو ہوسکتی ہے لیکن کتابوں، رسالوں ، اخباروں اور نیوز چینلز کو سرحد کے آرپار آزادانہ جانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

گزشتہ ساٹھ برس سےپاکستان اور بھارت کے لوگوں کی اکثریت کو ایک دوسرے کے بارے میں تاریک رکھنے کی پالیسی دراصل ایک ایسی انڈسٹری ہے جس سے میڈیا، سرکار ، مذہب اور سیاست کے ہزاروں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔اور کون چاہتا ہے کہ وہ ایک عام پاکستانی یا بھارتی کے ذہن کو آزاد کر کے بے روزگار ہوجائے۔