’اب اسلام کا سرمہ بیچا جا رہا ہے‘

مصوری
،تصویر کا کیپشنایک ایرانی شہزادے یحییٰ مرزا کی تصویر جو ان کے گورنر مقرر کیے جانے پر بنائی گئی
    • مصنف, حسن مجتبیٰ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک
  • وقت اشاعت

جس دن امریکہ کے صدر براک اوباما نے قاہرہ یونیورسٹی میں اپنا خطبہ دیا اس دن میں غیر ملکی ميڈیا سے منسلک کچھ صحافی ساتھیوں کے ساتھ، سرکاری دعوت پر نیویارک کے بروکلین میوزیم کے اسلامی آرٹ والے شعبے کی سیر کر رہا تھا۔ میرے ایک دوست کے مطابق 'مولوی جارج بش ٹیکساسوی کی جگہ علامہ براک حسین اوباما ہیں لیکن جہادی اسلام کی جگہ اب صوفی اسلام کا سرمہ بیچا جا رہا ہے‘۔ میں نے سوچا۔

تم نے صدر اوباما کی تقریر سنی؟ میں نے اپنے ایک پاکستانی نژاد آرٹسٹ دوست سے پوچھا۔ 'ہاں سنی، زبردست تھی لیکن میں تمہیں ایک بات بتاؤں، ایک دو ہفتوں میں اوباما کے خلاف زبردست سکینڈل آنے والا ہے جیسے وہ بل کلنٹن کے خلاف مونیکا لیونسکی سیکنڈل لے آئے تھے‘ میرے دوست نے کہا۔ ’وہ‘ کون؟ میں نے پوچھا۔ 'تم نہیں جانتے کہ یہاں یہودی لابی کتنی پاورفل ہے‘۔ میرے دوست نے کہا۔

کچھ روز قبل میں پڑھے لکھے پشتونوں کی ایک محفل میں تھا جہاں ذکر حال ہی میں نیویارک میں ایف بی آئی کے ہاتھوں گرفتار کیے جانے والے مسلمان ناموں کی عرفیت والے چار سیاہ فام مقامی امریکیوں کا نکلا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ یہ بھی اوباما کی اسرائيل پالیسی میں تبدیلی کی خواہش کو ناکام بنانے کی یہودی لابی کی سازش ہے کہ دیکھو امریکہ کو اب بھی مسلمانوں سے خطرہ ہے۔

لیکن قاہرہ یونیورسٹی میں جو اسلام اور مسلمانوں کا مثبت تصور اور ماضی براک اوباما نے اپنی تاریخی تقریر میں جس لفظی صناعی و جادوگری سے پیش کیا وہ شاذ نادر ہی کبھی کسی مولوی نے پیش کیا ہو۔ لیکن جو بات مسلم دنیا کو براک اوباما پیش نہیں کرسکے وہ مصر سے لے کر ماریطانیہ تک اور انڈونیشیا سے لے کر سعودی عرب تک مطلق العنان مسلم حکومتیں و بادشاہتیں ہیں۔ عدم جمہوریت اور انسانی حقوق کی پامالی ہے۔ مسلم دنیا میں خلافت و ملوکیت تلے پسنے والے مسکین مسلم عوام کو انتہا پسندوں نے مراکش سے لے کر پشاور تک اپنے حق میں استعمال کیا ہے۔ لیکن امریکی صدور اور حکومتوں نے اکثر حسنی مبارک سے لے کر پرویز مشرف تک سول و فوجی ڈکٹیٹروں اور طالع آزماؤں کی اس قدر ہمت افزائی کی ہے کہ مفتیوں اور علما نے فوجی و سول آمروں کے لیے فقہ و احادیث سے اپنے مطلب کی ایسی تفاسیر و تراجم ان کی 'خلافتوں اور ملوکیتوں‘ کی طول المعیادی کے حق میں نکالی ہیں کہ کچھ دل جلوں نے ایسے اسلام کو کہا ہی 'واشنگٹن برانڈ اسلام‘ تھا۔

'یہ نیلے رنگ میں لکھا قرآن چھٹی ساتویں صدی میں مایا گھرانے کی حکومت کے دنوں کا ہے جب جہاں گشت درویش بازنطینیوں کے دربار میں اس قدیم ترین نسخے کو اپنے ساتھ لائے تھے‘۔ بروکیلن میوزیم کی کیوریٹر کہہ رہی تھی۔ وہ کہہ رہی تھی 'صوفی ازم میں پروانے اور شمع کے تعلق کا فلسفہ بہت پرانا ہے۔ اس شمع دان کا تعلق تیرہویں صدی کے مصر سے ہے اور ان 'بیگنگ باؤلز‘ کو کشکول کہتے ہیں حو اناطولیہ اور ایران سے آئے تھے‘۔ مجھے یہ فقیری کشکول اپنے کام اور جڑت میں بڑے شاہانہ لگے۔ انیسویں صدی کے اناطولیہ میں بنے اس کشکول پر بارہ اماموں کے نام لکھے تھے۔ بحیرہ ہند کے ساحل پر ملے سیپ سے بنے یہ کشکول جہان گشت قلندر ترکمانستان اور سیوہن نہ جانے کہاں کہاں تک لائے!

اور یہ گیارہ سو تیس ہجری کے دکن (انڈیا) کے درویش کی تصویر ہے جس کے نقشے بدھ مت کے لوہان سے ملتے جلتے ہیں اور ان کے چہرے پر سے انسانی مصائب عیاں ہیں۔ یہ اپنی محبوبہ کی کھڑکی کے سامنے پریشاں حال کھڑے فرید الدین عطار ہیں۔ صوفی کے لیے محبوب کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور شراب کی۔ میں نے سوچا۔

اسلامی آرٹ کے سیکشن میں ایک تصویر پیغمبر اسلام کی بتائی جاتی ہے، ان کے رخ پر نقاب پڑے ہیں اور ان کے ساتھ ان چار صحابہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بڑی تصویر کربلا کے معرکے کی بتائی جاتی ہے۔ ایک تصویر یزید کے دربار کی بھی ہے اس میں ویسٹرن ہیٹ والے کون ہیں؟ غالباً یہ دربارِ یزید میں غیر ملکی سفیر ہوا کرتے تھے، میوزیم کی کیوریٹر کہہ رہی تھی۔

قراۃالعین حیدر نے کہیں لکھا ہے کہ عالم کے عجائب گھروں میں مسلمانوں کی واحد ایجاد صرف دیوان یا صوفے جاکر بچتے ہیں۔

'یہ محض اتفاق ہے کہ بروکلین میوزیم کے اسلامی آرٹ کو نمائش کیلیے اس وقت کھولا گیا ہے جب صدر براک اوباما مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں‘ میوزیم کی کیوریٹر کہہ رہی تھی۔

اور یہ بھی محض اتفاق ہے کہ نیویارک میں آج سے دس روز کے لیے 'مسلم وائسیز‘ یا 'مسلمان آوزیں‘ کے نام سے ایک بڑا میلہ جاری ہے۔ مسلم وائیسز فیسٹول میں عرب بازار یا 'سُوق‘ سے لے کر اداکار نصیر الدین شاہ کی داستان امیر حمزہ میں پرفارمنس سمیت داستان گوئي تک، ایرانی و عربی فلموں سے لے کر نیویارک میں مسجدوں کی دستاویزی فلمیں تک پیش کی جا رہی ہیں۔ یعنی کہ ایک ٹکٹ میں کئي مزے لگے ہوئے ہیں۔

خطاطی
،تصویر کا کیپشنبروکلیں میوزیم کے اسلامی آرٹ کے شعبے میں فارسی خطاطی کا ایک نمونہ

یہ جلال الدین رومی کی شاعری نیویارک کے ایک آرٹسٹ نے کیليگراف اور مصور کی ہے، کیوریٹر کہہ رہی تھی۔ جلال الدین رومی شاید آج کل امریکہ میں سب سے زیادہ پاپولر شاعروں میں سے ایک ہیں۔ 'رومی کا مرشد شمس تبریز تھا‘۔ کیوریٹر بتاتی ہے۔

مجھے یاد آیا۔ ایک بار شمس تبریز نے رومی کے آگے کتابوں کا ڈھیر دیکھ کر ان سے پوچھا تھا: یہ کیا ہے؟

یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے‘۔ اپنے علم کے زعم میں رومی نے شمس تبریز سے کہا تھا۔

جواب میں شمس تبریز نے رومی کی کتابوں کو گھور کر دیکھا تو کتابوں میں آگ لگ گئي۔ رومی نے پریشان ہوتے پوچھا: 'یہ کیا ہے‘؟ 'یہ وہ ہے جو تم نہیں جانتے‘۔ شمس تبریز نے رومی سے کہا تھا۔