حافظ سعید، اسٹیبلشمنٹ کا ’لٹمس ٹیسٹ‘

- مصنف, سہیل حلیم/آصف فاروقی
- عہدہ, بی بی سی دلی/اسلام آباد
- وقت اشاعت
بھارت اور پاکستان کے تعلقات کی نوعیت پیچیدہ تو ہے لیکن ایسا شاید پہلی بار ہو رہا ہے کہ ایک شخص کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بہتر تعلقات کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔
بھارت میں اب یہ بات تقریباً طے مانی جارہی ہے کہ جب تک پاکستان جماعت الدعوہ کے سربراہ حافظ محمد سعید کے خلاف کارروائی نہیں کرتا، مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں ہے۔
تو پھر کیا وجہ ہے کہ بھارتی حکومت کے اس دعوے کے باوجود کہ اس نے حافظ سعید کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم کر دیے ہیں، جماعۃ الدعوہ کے سربراہ آزاد گھوم رہے ہیں؟ پاکستان کے لیے حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرنا زیادہ مشکل ہے یا بھارت اور امریکہ کے دباؤ کا سامنا کرنا؟
پاکستان اور بھارت میں ماہرین کے مطابق اس کی دو بنیادی وجوہات ہوسکتی ہیں: ایک تو یہ کہ جو شواہد پیش کیے گئے ہیں وہ عدالت میں مقدمہ چلانے کے لیے کافی نہیں اور دوسرا یہ کہ پاکستانی حکومت اندرونی تقاضوں کی وجہ سے حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔
پاکستانی میں سرکاری حلقوں کا کہنا ہےکہ جو شواہد بھارت نے دیے ہیں وہ ناکافی ہیں لیکن بھارت کے سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کہتے ہیں کہ ’حافظ سعید آئی ایس آئی کی پیداوار ہیں، اس کے بہت سے راز جانتے ہیں، آئی ایس آئی ان پر کبھی ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔‘
اسلام آباد میں ’اسٹیبلشمنٹ‘ پر نظر رکھنے والے ماہرین بھی کافی حد تک اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔
پاکستانی دفاعی تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری رضوی کا کہنا ہے کہ ’حافظ سعید کو کافی عرصے تک پاکستانی دفاع کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ لہذا دہشت گردی کے الزام میں ان پر کارروائی کرنے کی راہ میں بعض اہم مصلحتیں آڑے آرہی ہیں جنہیں قانونی جواز کی عدم موجودگی کا لبادہ پہنایا جا رہا ہے۔‘
لشکر طیبہ اور جماعت الدعوہ کے بانی حافظ محمد سعید لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے چھ ماہ کی نظربندی ختم کیے جانے کے بعد اس وقت ایک آزاد شہری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دونوں تنظیموں پر اب پابندی عائد ہے۔ سپریم کورٹ میں ان کی رہائی کے خلاف سرکار کی اپیل زیر سماعت ہے لیکن ہائیکورٹ کی طرح سپریم کورٹ میں بھی ابھی تک حکومت نے حافظ سعید کے خلاف ایسے شواہد داخل نہیں کیے ہیں جن کی بنیاد پر انہیں گرفتار یا نظر بند رکھا جا سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی دفاعی تجزیہ نگار میجر جنرل(ریٹائرڈ) افسر کریم کہتے ہیں کہ ’یہ ممکن ہے کہ ثبوت بہت مضبوط نہ ہوں۔ لیکن چونکہ جرم کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی تھی، لہذا ثبوت بھی وہیں ہیں۔ ممبئی میں تو صرف حملہ ہوا تھا۔ ثبوت خود پاکستانی حکومت کو اکھٹا کرنے ہوں گے۔‘
لیکن پاکستانی دفاعی تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ حافظ سعید کا معاملہ محض ثبوت اور گواہی کا نہیں ہے۔
’اس میں شک نہیں کہ لشکر طیبہ حافظ سعید ہی کی جماعت ہے۔اور اگر یہ جماعت ممبئی حملوں میں ملوث ہے تو کم از کم حافظ سعیدکو اس بارے میں علم تو ضرور ہوگا اور یہ معلومات حکومت ان سے حاصل کر سکتی ہے۔‘
لیکن ان کے مطابق مسئلہ یہ ہے کہ ’حافظ سعید کشمیر میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی پالسیوں پر عمل کرنے کا اہم ذریعہ رہے ہیں اور اب بھارت کے کہنے پر انہیں جیل میں ڈالنے کا فیصلہ اس اسٹیبلشمنٹ کے لیے آسان نہیں ہوگا۔ کافی مشکل ہے ہماری (انٹیلیجنس) ایجنسیز کے لیے ان گروپس پر ہاتھ ڈالنا۔۔۔ اگر ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی تو بہت سے راز افشا ہونے کا خدشہ ہے۔‘
بھارت میں بھی یہ عام تاثر ہے۔ بی جے پی کے دور حکومت میں قوم سلامتی کے صلاح کار برجیش مشرا کہتے ہیں کہ ’بھارت کے لیے حافظ سعید سب سے زیادہ خطرناک ہیں۔ انہیں پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔۔۔ وہ ان کے آدمی ہیں، لہذا وہ انہیں بچا رہے ہیں۔۔۔ان کے خلاف کبھی کارروائی نہیں ہوسکتی۔‘
بھارت میں کچھ تجزیہ نگاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ ’بات چیت سے پاکستان کو کبھی کچھ حاصل ہونےوالا نہیں، اس کا انہیں بھی احساس ہے، حافظ سعید کے خلاف کارروائی کا مطلب ہوگا کشمیر کی موجودہ حالت کو تسلیم کرنا۔ حافظ سعید کو بارگیننگ ( سودے بازی) چپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔‘
طویل عرصہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ رہنے والے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ طلعت مسعود کے مطابق کارروائی نہ کیے جانے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حافظ سعید کے بہت سے پیروکار اعلیٰ تربیت یافتہ جنگجو بھی ہیں۔’اس وقت جب کہ حکومت طالبان اور دیگر شدت پسندوں کے ساتھ لڑائی میں بری طرح پھنس چکی ہے، یہ ادارے ایک نیا محاذ نہیں کھولنا چاہتے کیونکہ وہ اس صورتحال کو ہینڈل نہیں کر سکیں گے۔‘
میجر جنرل افسر کریم کا بھی خیال ہے کہ حافظ سعید پنجاب میں کافی مقبول ہیں جس کی وجہ سے حکومت جھجھک رہی ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ صرف حافظ سعید کو کارروائی کا محور نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ’آپ ایک حافظ سعید کو ختم بھی کردیں تو چار اور پیدا ہوجائیں گے۔ یہ لڑائی ایک نظریہ کے خلاف ہے۔‘
طلعت مسعود کے مطابق حافظ سعید اس وقت پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ’حافظ سعید کے معاملات کو پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ میرے خیال میں حافظ سعید پر مقدمہ چلانے کا مطلب ہوگا اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اور فکر کا ٹرائیل۔‘
پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت میں اس بات پر بھی اختلاف ہے کہ اصل خطرہ بھارت ہے یا شدت پسند۔
صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کو اب اصل خطرہ شدت پسندی اور طالبان سے ہے۔ لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ سیاسی قیادت کی اس پالیسی کو ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کی مکمل تائید حاصل نہیں ہوئی ہے۔
دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ سیاسی قیادت کے اصرار کے باوجود پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ یا فوج کے لیے بھارت آج بھی دشمن نمبر ایک ہے۔
اس صورتحال میں حافظ سعید ایک ایسا ’لٹمس ٹیسٹ‘ بن چکے ہیں جس سے پاکستانی سیکیورٹی اسٹیلشمنٹ کے عزائم کو پرکھا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حافظ سعید کے خلاف سخت کارروائی اس وقت تک ہونا ممکن نہیں جب تک سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ بھی سیاسی قیادت کی طرح اس نتیجے پر نہیں پہنچ جاتی کہ بھارت اب پاکستان کا دشمن نہیں بلکہ ’پوٹینشل‘ دوست ہے۔






















