ریاست کی کیا ضرورت؟

- مصنف, وسعت اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
- وقت اشاعت
آپ میں سے جس جس نے بھی علمِ سیاسیات کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے وہ یقیناً سوشل کنٹریکٹ تھیوری یا نظریہ معاہدہِ عمرانی سے ضرور واقف ہوگا۔ انسان اپنی بعض بنیادی آزادیوں سے دستبردار ہوکر آخر فرائض کی زنجیر پہننے اور پھر اس زنجیر کو ریاست کے حوالے کرنے پر کیوں اور کیسے آمادہ ہوا؟
سترہویں صدی کے انگریز ماہرِ سیاسیات تھامس ہابس کے بقول ریاست کے بغیر اگرچہ ہم دیگر جانوروں کی طرح فطری آزادی کی حالت میں ہی رہتے لیکن ہم سے ہر ایک کو شکار بننے اور شکار کرنے کے لیے بھی ہمہ وقت تیار رہنا پڑتا۔ گویا ہر شخص ہر شخص کے خلاف ایک مستقل حالتِ جنگ میں رہتا۔ نہ تو خاندان کی تشکیل ہو پاتی اور نہ تہذیب کی اور نہ ترقی کی۔ ہم اتنی ہی ترقی کرپاتے جتنی بن مانس، ہاتھی یا کوا کر پایا ہے۔
چنانچہ اس صورتحال سے بچنے اور جنگل سے نکلنے کے لیے انسانوں نے ایک معاہدہ عمرانی کیا۔ کیا حقوق سے دستبردار ہوکر کچھ فرائض قبول کیے اور یوں ریاست اور پھر ریاست کو چلانے کے لیے حکومت کا ادارہ وجود میں آیا۔ جس کی ذمہ داری یہ تھی کہ وہ اپنی رعیت کے جان و مال، حرمت اور بھوک و ننگ اور بے گھری سے نجات کو یقینی بنائےگی۔ اس کے عوض رعایا ریاستی قوانین کی خلوصِ نیت سے پاسداری کرےگی۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس معاہدہ عمرانی کے بعد ریاست اور رعایا کے درمیان ماں اور اولاد جیسا رشتہ قائم ہوجاتا۔ لیکن ہوا یہ کہ جس طرح جنگل میں طاقتور جانور کمزور پر ہاتھ صاف کرجاتا ہے۔ اسی طرح ریاست کو بھی طاقتور نے اپنے پنجے میں دبوچ کر کمزوروں کے خلاف ایک ہتھیار بنا لیا۔ اس ہتھیار کے ذریعے کروڑوں کمزور جنگوں میں اجڑ گئے۔ کروڑوں غلام بن گئے اور کروڑوں اپنے سے طاقتور کے گماشتے اور طفیلی بن گئے۔
ریاست کے وجود سے پہلے فرد جو شکار اپنی ضرورت کے لیے پتھر، نیزے اور بھالے سےکرتا تھا اب وہی شکار زیادہ تباہ کن اور اجتماعی طریقے سے ریاست قانون و ضابطے کے ہتھیار سے کرنے لگی۔ اس کی ایک بڑی مثال عسکری و اقتصادی سامراجیت ہے۔ چند ریاستوں نے اپنی رعیت کو چھوڑ کر دیگر انسانوں کو ڈائن کی طرح کھا لیا۔اور باقی ریاستوں نے اپنوں اور غیروں سب ہی سے ڈائن کا سلوک کیا۔
کارل مارکس ایک ایسا شخص تھا جس نے نوید دی تھی کہ کمیونزم کا ہدف اس مساوات کا حصول ہے جس کے بعد ریاست کے ادارے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ لیکن مارکس کو نہیں معلوم تھا کہ اس کے پیروکار بھی ایک نئی طرز کی سامراجیت میں ڈھل کر نمک میں نمک ہو جائیں گے۔

وہ ریاست جو انسان کو جنگل سے نکال کر تحفظ کی چھت فراہم کرنے کے لیے انسانوں کی مرضی سے قائم کی گئی تھی۔ اس کو رفتہ رفتہ لالچ، بے رحمی اور بے حسی کی دیمک نے ایسے کھوکھلا کر ڈالا کہ آج اس کی ہیبت و سطوت اتنی ہی نظر آتی ہے جتنی کہ گتے سے بنے ہوئے کسی پرشکوہ فلمی قلعے کی۔ اور یہ راز اب ان نان سٹیٹ ایکٹرز پر پوری طرح کھل چکا ہے جنہیں میں اور آپ عالمی دھشت گرد کہہ کر ہشت ہشت کر رہے ہیں۔
نوبت یہ آ گئی ہے کہ اب کوے کی زندگی پر رشک آتا ہے جسے دو کلو چینی لینے کے لیے شناختی کارڈ نہیں دکھانا پڑتا ہے۔ ہاتھی خوش قسمت لگتا ہے کہ جو کسی اسپتال کی سیڑھیوں پر ایڑیاں نہیں رگڑتا۔ بھیڑیے سے حسد محسوس ہوتا ہے کہ جسے ان پڑھ ہو کر بھی وافر خوراک مل جاتی ہے۔ سانپ مقدر کا دھنی لگتا ہے کہ جو مہنگائی کا مطلب نہیں جانتا۔ بندر کو یہ راز نہیں معلوم کہ رائفل کھلونا نہیں ہتھیار ہے۔ طوطے کو بم بنانے کے فارمولے کا پتہ نہیں۔ لگڑ بگھا لاعلم ہے کہ وہ آخر کس ملک کا شہری ہے۔ تیندوا جھوٹ کا مطلب نہیں سمجھتا۔ لومڑی کو فکر نہیں کہ کل تنخواہ ملے گی یا نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تو کیا انسانوں کو آج ریاست کی واقعی ضرورت ہے ؟






















