سڑک چھاپ فلم فیسٹیول

سڑک چھاپ فلم فیسٹیول
،تصویر کا کیپشنسڑک چھاپ فلم فیسٹیول دہلی کی جھگی جھونپڑیوں میں شروع ہوگا
وقت اشاعت

عام طور پر سڑک چھاپ کہنے سے حقارت کا ایک پہلو ابھرتا ہے لیکن دہلی کی ایک تنظیم نے اس لفظ کا مثبت استعمال غریب بچوں کے حق میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس تنظیم نے جھگی میں رہنے وانے بچوں کے لیے ان کی ہی بستی کے نزدیک جا کر فلمی میلہ لگانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کام نام سڑک چھاپ فلم فیسٹ دیا ہے۔ اس فیسٹیول میں فلمیں بنا کسی معاوضے کے دکھائی جا رہی ہیں۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ درجے کی ذہنیت کو جھنجھوڑنے کے لیے بھی یہ نام رکھا گیا ہے اور اس سے ان کا یہ مقصد بھی پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے کہ لوگوں کا توجہ کسی طرح سے ان بچوں کی طرف جائے۔

چلڈرن فلم سوسائٹی آف انڈیا (سی ایف ایس آئی) کے تعاون سے دہلی اور ممبئی میں منعقد کیے جانے والے اس فیسٹیول میں بچوں کی فلمیں دکھائی جائیں گی۔ ممبئی میں ہونے والے فیسٹیول میں فلم ’سلم ڈاگ ملینیئر‘ میں اداکاری کر چکی چالڈ اسٹار روبینہ علی بھی حصہ لیں گی۔

’اسپریہا‘ عام طور پر جھگی بستیوں میں رہنے والے بچوں کے لیے کام کرتی ہے اور ان میں حساسیت کو بڑھاوا دینے کی کوشش کرتی ہے۔ ’سلم ڈاگ ملینیئر‘کی کامیابی نے جھگی بستیوں میں رہنے والے بچوں کی طرف ایک نیا راستہ دکھایا اور اسپریہا نامی تنظیم نے فلم فیسٹیول منقعد کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ اس تنظیم کے ڈائریکٹر پنکج دوبے نے بی بی سی کو بتایا کہ اس فیسٹیول کا مقصد ان بچوں تک اچھی فلموں کو پہنچانا ہے جو عام طور پر ملٹی پلیکس میں جا کر نہ کبھی دیکھ سکتے ہیں اور نہ کبھی سوچ سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سی ایف ایس آئی نے تنظیم کو تعاون کرنے کا وعدہ کیا اور اس کی چیئرپرسن نفیسہ علی نے چار بچوں کی فلمیں ’چرایو‘، ’چھو لیں گے‘، ’آکاش‘، ’جواب آئے گا‘ اور ’اڑن چھو‘ بنا کسی معاوضے کے دی ہیں۔ سی ایف ایس آئی نے ممبئی میں فلموں کے ساتھ پروجیکٹر وغیرہ کا بھی انتظام کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

دہلی میں سڑک چھاپ فلم فیسٹیول سات مارچ سے دلی میں دکھایا جا رہا ہے۔ ایسا ہی ایک شو ممبئی کے دھاراوی میں اگلے سنیچر، 14 مارچ کو دکھایا جا رہا ہے۔ پنکج دوبے کا کہنا ہے کہ تنظیم چاہتی ہے کہ یہ سڑک چھاپ فیسٹ ہر مہینے ملک کے الگ الگ شہروں میں منقعد ہو۔ یہ پوچھے جانے پر کہ غریب بچوں کو بچوں کی فلمیں ہی کیوں دکھائی جائیں، ان کی پسند کے بڑے اداکاروں کی فلمیں کیوں نہ دکھائی جائیں، انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسا بھی کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ پنکج دوبے بتاتے ہیں کہ اسپریہا اس کے علاوہ بھی کئی طرح کے کام کر رہی ہے جس میں جھگی بستیوں کے بچوں کو اسکول میں داخلہ دلوانا سر فہرست ہے۔