ناگاساکی سے گوانتانامو تک

Image
    • مصنف, عنبر خیری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
  • وقت اشاعت

کاملہ شمسی کی نئی کتاب کی کہانی انیس سو پینتالیس میں جاپان کے شہر ناگاساکی میں شروع ہوتی ہے اور پھر یہ نیو یارک میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد تک چلتی ہے۔

راستے میں یہ کہانی ہندوستان، ترکی، پاکستان اور افغانستان سے ہوتے ہوئے ہمیں بیسویں صدی کے ایک تاریک ترین باب کی تصویر دکھاتی ہے جس میں قوموں اور نظریات کی جنگ میں عام لوگوں کی زندگیاں تباہ ہوتی نظر آتی ہیں۔

برنٹ شیڈوز یعنی 'سوختہ سائے‘ نامی کتاب ناگاساکی سے کیوں شروع ہوتی ہے؟ آخر لندن میں رہنے والی کراچی کی اس مصنفہ کو اپنی کہانی کو امریکی ایٹمی حملے کا نشانہ بننے والے جاپان کے اس شہر سے شروع کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ تھا وہ سوال جو میرے ذہن میں آیا جب میں نے اس کتاب کے بارے میں سنا تھا۔

جواب اب مجھے یہ ملا ہے کہ کہانی کہیں سے بھی شروع ہو سکتی، اور کہیں جا کر ختم ہو سکتی ہے، کہانی انسانی زندگیوں اور رشتوں کی ہوتی ہے جو سرحدوں اور جنگوں سے بالاتر ہیں۔

کہانی ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملے کے روز ہی شروع ہوتی ہے یعنی نو اگست انیس سو پینتالیس۔ حملے میں زندہ بچنے والی ایک خاتون ہیروکو تناکا جنگ کے بعد ہندوستان پہنچ جاتی ہیں جہاں ان کی ایک جرمن/ برطانوی خاندان سے ایسا رشتہ قائم ہوتا ہے کہ ان دونوں خاندانوں کی نسل در نسل کہانی ایک بن جاتی ہے۔

کاملہ شمسی
،تصویر کا کیپشنیہ کاملہ شمسی کا پانچواں ناول ہے

یہ نہ صرف ناگاساکی کی ہیروکو، دلی کے سجاد اشرف اور ان کے بیٹے رضا، اور جرمنی کی الیزبیتھ وائس اور انکے بیٹے جمیز، اور پھر جیمز کی بیٹی کِم کی کہانی ہے بلکہ بہت سارے اور لوگوں کی بھی جن کی زندگیاں دیگر سیاسی واقعات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ قندھار کا ایک لڑکا عبداللہ افغان مجاہدین کے لیے لڑنا چاہتا ہے اور اس کی اور رضا کی زندگیاں مل جاتی ہیں۔ ناگاساکی کے یوشی وتانابے جوہری حملے میں بچنے والوں کے ایک وفد کے ساتھ پاکستان آتے ہیں تاکہ لوگوں کو جوہری حملوں کی تباہی و انسانی بربادی کے بارے میں آگہی دے سکیں۔

ان سب کرداروں کی کہانیوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ زندگی میں انسانی رشتے ہی سب کچھ ہیں۔اور دوستی، پیار اور وفاداری کا تعلق محض قومیت اور مذہب سے نہیں ہے۔

ناول کے چار حصے ہیں: ناگاساکی، دِلی، پاکستان اور نیویارک/افغانستان، اور کہانی دوسری جنگ عظیم کے وقت شروع ہوتی ہے۔ لیکن کتاب کے آغاز میں ایک مختصر سے ابتدائیہ میں دہشت گردی کے ایک ملزم کو حراست میں دکھایا گیا جس پر پھر کہانی آکر ختم بھی ہوتی ہے۔

کاملہ شمسی اس سے پہلے چار اور ناول لکھ چکی ہیں اور وہ مغرب میں خاصی معروف ہیں لیکن یہ ان کی پہلی ایسی کتاب ہے جس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ نہ صرف ایک خوبصورت اور دل ہلا دینے والی کہانی ہے بلکہ ادبی لحاظ سے یہ اس فن کا ایک بہترین مظاہرہ بھی ہے۔ زبان پر مہارت تو اپنی جگہ لیکن کاملہ شمسی لمحات اور واقعات کو ایک انتہائی نازک اور حساس انداز میں بیان کرتی ہیں اور اس کہانی سے یہ ثابت کرتی ہیں کہ زبانیں جتنی بھی ہوں انسانیت اور ہمدردی کی اپنی زبان ہے جو سب کو سمجھ آجاتی ہے۔ ان کے پہلے چار ناول تکنیکی اعتبار سے تو ٹھیک تھے لیکن ان میں ایک طرح کا بچپنہ تھا۔

اس کتاب کو برطانیہ میں معروف 'اورنج پرائز‘ ادبی انعام کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔