مِسٹر وِچر کا کمال

کتاب
،تصویر کا کیپشنسمرسکیل کی کتاب کو پچھلے سال سمیوئیل جونسن انعام ملا تھا
    • مصنف, عنبر خیری
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
  • وقت اشاعت

برطانیہ میں سب سے زیادہ بکنے والی کتابوں کی فہرست میں پچھلے سال سے ایک ایسی کتاب شامل رہی ہے جو اٹھارہ سو ساٹھ میں ایک بچے کے قتل کے کیس کے بارے میں ہے لیکن جو محض تاریخ کی مثال نہیں بلکہ اس میں ادب، معاشرتی امور اور پولیس تِھرلر کے انواع شامل ہیں۔

کیٹ سمرسکیل کی کتاب 'دا سسپِشنز آف مسٹر وِچر‘ اس کیس کے بارے میں ہے جس میں ایک سرکاری اہلکار کا چار سالہ بیٹا قتل ہوا تھا۔ وِلٹشائر میں یہ گھر والے جب صبح اٹھے تو بچہ اپنے بِستر سے غائب تھا۔ بعد میں اس کی لاش گھر کے باہر واقع ایک ٹائلٹ سے برآمد ہوئی۔ بچے کا گلا کٹا ہوا تھا، اور سینے میں اسے چُھرا مارا گیا تھا۔ گھر کا ایک دروازہ کھلا ملا لیکن پولیس کو شک تھا کہ قتل کا ذمہ دار باہر سے نہیں آیا بلکہ گھر کے اندر موجود کوئی شخص تھا۔

اس کیس کی تفتیش میں مدد کے لیے لندن کے سکاٹ لینڈ یارڈ سے پولیس کے مخصوص اور حال میں بنائے گئے تفتیشی محکمے سے ایک تفتیشکار بلایا گیا۔ سکاٹ لینڈ یارڈ نے جاناتھن وِچر نامی ایک اسیے تفتیش کار کو بھیجا جو اس زمانے میں مجرموں کو پکڑنے میں اپنی کامیابیوں کے حوالے سے خاصے مشہور تھے۔

گھر کے ملازمین اور خاندان کے افراد سب تفتیش کے دائرے میں تھے۔ خاندان بھی ایسا تھا کہ اس میں گھر کے سربراہ مسٹر کینٹ کی پہلے بیوی کے چار بچے اور پھر دوسری بیوی اور ان کے تین چھوٹے بچے ساتھ رہتے تھے۔ دوسری بیوی پہلی بیوی کے انتقال سے پہلے بڑے بچوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ افواہیں یہ بھی تھیں کہ ان کے شادی سے پہلے سے ہی مسٹر کینٹ سے تعلقات تھے اور پہلی بیوی کا دماغی توازن ٹھیک نہ تھا۔

وِچر کا خیال تھا کہ یہ قتل بچے کی سولہ سالہ سوتیلی بہن نے کیا ہے لیکن یہ لڑکی مقدمے میں بری ہو گئی اور وِچر کو بپلک اور اخبارات نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ تاہم پانچ سال بعد اسی ملزمہ نے ایک پادری کے ہمراہ پولیس کے پاس آکر اعترافِ جرم کر لیا۔ وہ سزائے موت سے بچ گئیں لیکن پھر بیس سال تک جیل میں رہیں۔ رہائی کے بعد وہ آسٹریلیا ہجرت کر گئیں جہاں انہوں نے نرسنگ کی تربیت حاصل کی اور اپنی باقی زندگی بیماروں اور معزوروں کی خدمت کرنے میں گزار دی۔ کئی سال تک وہ حذام کے مریضوں کی دیکھ بھال بھی کرتی رہیں۔

لیکن کتاب کی دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ صرف اس اصلی کہانی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ اس کے ذریعے ہمیں اس دور کے بہت سے پہلووں کی جھلک نظر آتی ہے۔ اس وقت کی زندگی، خیالات اور معیشت کی ایک بھرپور تصویر سامنے آتی ہے۔ مزید یہ کہ اس کیس کی ادبی تاریخ پر اثرات کی روشنی میں بھی دیکھا گیا ہے۔ اس کیس اور وِچر کے کام کے حوالے سے انگیرزی ادب میں ڈیٹیکیو فِکشن یعنی تفتیشی کہانیوں کے آغاز کے بارے میں بہت دلچسپ معلومات کتاب میں شامل ہیں۔ اس نوعیت کی مسٹری کہانیوں میں تفتیشکار کے کردار، ایک گھر کے اندر قتل، قتل کے کیس میں خاندان کے افراد کے رویے اور ان کے دیگر راز ، یہ سب اس نوعیت کی کہانیوں میں ایک طرح کا فارمیولا بن گیا تھا۔

کیٹ سمرسکیل نے برطانیہ میں انیسویں صدی کے ایک سنسنی خیز کیس کو کہانی کا مرکز بنا کر ایسی کتاب لکھ ڈالی ہے جو ہر شخص کے لیے دلچسپ ہے: تِھرلر بھی ہے، مسٹری بھی ہے، سماجی تاریخ بھی ہے، ادبی تاریخ بھی ہے اور ایک خاندان کی ذاتی کہانی بھی۔

یہ برطانوی مصنف کیٹ سمرسکیل کی دوسری کتاب ہے۔ وہ اس سے پہلے اخبار دا ڈیلی ٹیلی گراف میں ادبی صفحات کی مدیر رہ چکی ہیں۔ ان کی اس کتاب کو پچھلے سال سیمیویل جونسن انعام ملا تھا اور اب اسے اورنج پرائز ادبی انعام کے لیے بھی نازمد کیا گیا ہے۔