دُھرپد گائیکی: آخری چراغ بھی بجھ گیا

- مصنف, عارف وقار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
- وقت اشاعت
اُستاد حفیظ خان 1935 میں لائل پور (موجودہ فیصل آباد) میں پیدا ہوئے اور فن کی تربیت اپنے والد اور تال ونڈی گھرانے کے جّید اُستاد میاں مہر علی خان سے حاصل کی۔ ریاضت کا سلسلہ کوئی تیس برس تک جاری رہا جسکے بعد استاد حفیظ خان نے اپنا فن نئی نسل کو منتقل کرنا شروع کیا۔
دھُرپد کا لفظی مطلب محض ٰ ٰ اِجتنابٰ ٰ ہے لیکن اصطلاحاً اس سے مراد گائیکی کا وہ قدیم ہندوستانی اسلوب ہے جس میں طویل الاپ کو بنیاد بنا کر سُروں کے درمیان موجود سُرتیوں سے کھیلا جاتا ہے۔ اِس عمل کےلئے گلے پر بہت زیادہ کنٹرول اور سُر کی باریکیوں اور نزاکتوں سے مکمل آگاہی ضروری ہے۔
آئینِ اکبری میں ابوالفضل نے دُھرپد کی تعریف اِن لفظوں میں بیان کی ہے۔ ٰ ٰ دھُرپد گانے کےلئے چار مصرعے لازمی ہیں لیکن اُن کا ایک ہی بحر میں ہونا ضروری نہیں۔ اِن مصرعوں کی ترتیب میں سب سے پہلے ستھائی آئے گی، پھر انترہ، اس کے بعد سنچاری اور آخر میں آبھوگ۔ اِن مصرعوں میں مذہبی اور رُوحانی خیالات سے لیکر تو صیفِ شاہی اور عشق و محبت تک کوئی بھی مضمون باندھا جا سکتا ہے۔ٰ ٰ
تاہم دھُرپد کی قدیم تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اسکی ابتداء مندروں میں پوجا پاٹھ کے موضوعات سے ہوئی، لیکن ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد کے بعد فلسفے کی طرح موسیقی پر بھی اسلام کی چھاپ لگ گئی۔
حفیظ خان تال ونڈی دھُرپد کی اُسی روایت سے تعلق رکھتے ہیں جس نے صوفیانہ اسلام کی آغوش میں پرورش پائی۔

دھُرپد گائیکی میں استعمال ہونے والی شاعری بھلے دیوی دیوتاؤں کے حصار سے نکل کر صوفیاء کے حلقے میں آگئی ہو لیکن اسکی سُرتال آج بھی وہیں قائم ہے جہاں پنڈتوں نے ہزاروں سال پہلے مقرر کی تھی۔ تال کےلئے دھرپد گائیکی میں آج بھی طبلے کی بجائے پکھاوج، مردنگ اور ڈھولک جیسے پرانے آلاتِ موسیقی کا استعمال کیا جاتا ہے۔
پاپ اور راک میوزک کے جدید دور میں دھُرپد گائیکی کی روایت کو سینے سے لگائے حفیظ خان اس دنیا سے رخصت ہوگئے، لیکن وہ اپنے پیچھے عائشہ علی اور اسد ملک جیسے شاگردوں کا سلسلہ ضرور چھوڑ گئے ہیں جو اس روایت کو کالعدم ہونے سے بچائے رکھیں گے۔


















